کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

ماہ اگست ہمارے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے۔ اس کے شروع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ سبزہلالی لہراتے پرچموں کی ہر سو بہار ہوتی ہے۔ بچّے ہوں یا بڑے سب ہی آزادی کی خوشیاں منانے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کی قربانیوں اور جدوجہدکی وجہ سے آج ہم آزاد فضائوں میں سانس لے رہے ہیں۔ یوم آزادی صرف ایک دن نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری جدوجہد ہے۔ 23 مارچ 1940 سے لے کر 1947 تک تحریک پاکستان کا طویل سفر ہے۔ اسی جدوجہد، عزم وحوصلے کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا۔ یومِ آزادی یقیناً قوم کے لیے مسرت و شادمانی والا دن ہے۔ آزادی کے لیے ہمارے آباو اجداد نے قربانیاں دیں اور ایک الگ آزاد وطن حاصل کیا۔ ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے جو اذیتیں اور ظلم سہے، اس کے تصورسے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
حصول آزادی کا مقصد مسلمانان برصغیر کے لیے ایک ایسی مملکت کا قیام تھا، جس میں رہنے والے لوگ اپنی زندگیاں دین اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارسکیں۔ قائداعظمؒ نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزماسکیں۔‘‘ مگر آج ہم اپنے قائدؒ کے فرمان کو فراموش کرچکے ہیں۔ آج ہم اسلامی اصولوں کے بجائے یہودیوں کے بنائے اصولوں کے تابع ہیں۔ یوم آزادی منانے سے پہلے ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا بحیثیت ملک ہم آزاد ہیں کہ اپنی خارجہ پالیسی خود بناسکیں؟ کیا ہماری پارلیمنٹ اتنی آزاد ہے کہ وہ قیامِ پاکستان اوراسلام کے مطابق قانون سازی کرسکے؟ افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ وہ پاکستان جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا تھا اور جس کو پورا کرنے کے لیے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں، آج کہیں نظر نہیں آرہا۔ یہ پاکستان تو اس کے بالکل برعکس ہے جس کو قائداعظمؒ نے آزاد کرایا تھا۔ جس مقصد اور بنیادی نظریے کے تحت یہ وطن حاصل کیا گیا وہ نظریہ، مقصد یہ تھا، پاکستان کا مطلب کیا ’’لاالہ الا اللہ‘‘ مگر افسوس کہ ہم نے اسی نظریے کو  پس پشت ڈال دیا ہے۔ 
وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدوجہد اور قربانیوں کی داستان رقم کی گئی تھی، اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوگیا۔ حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری عام روش بن چکی جبکہ بانیٔ پاکستان نے تو صاف بتادیا تھا کہ ہمارا نظام قرآن اور سنت کے مطابق ہوگا اور پاکستان کا آئین تو 14 سو سال پہلے حضوراکرم ؐ نے عطا کردیا۔ جس بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا، اس کی ایک جھلک تک نظر نہیں آتی۔ آج کے پاکستان میں تو کرپشن، لوٹ مار، دھونس، دھاندلی، بھتہ خوری، قتل و غارت، ڈرون حملے، بم دھماکے اور اقربا پروری ہی نظر آتی ہے۔ یوم آزادی تو دھوم دھام سے منالیا جاتا ہے، لیکن اس کے تقاضے فراموش کردیے جاتے ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ سماج میں رشوت، سودے بازی، بے حیائی، لاقانونیت، مغربی ثقافت کا غلبہ، ناانصافی، بے رحمی، قتل و غارت، دہشت گردی، بے روزگاری کا اژدھا، فرقہ واریت، غریبی کا کشکول ہی نظر آتا ہے۔ حکمرانوں نے قرضوں کا کشکول لیے مغربی ملکوں کے سامنے قوم کی غیرت کو پامال کیا ہے۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بجائے ہم نے غیروں کی بیساکھیوں کا سہارا ڈھونڈا۔ آج ہمارا شمار پس ماندہ ترین قوموں میں ہوتا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق ترقی کی رفتار کے لحاظ سے ہم 187ملکوں میں سے 146  ویں نمبر پر ہیں۔ آج کے پاکستان میں غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ بے روزگاری کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہماری حکومتیں تعلیم و صحت پر پیسہ لگانے کو ضیاع سمجھتی ہیں۔ ڈیم نہ بناکر ہم ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ ہمارے لیڈر مفلس قوم کے کھربوں روپے اُڑا کر بیرون ملک اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کی زندگیاں محلوں، فائیو اسٹار ہوٹلوں، بنگلوں، کوٹھیوں، پریس کانفرنسوں، جلسوں اور تقریروں میں بسر ہوتی ہیں۔ ہم آزاد ملک ضرور ہیں مگر آزاد قوم نہیں۔ ہم آج بھی غربت و بے روزگاری، مہنگائی، رشوت اور دہشت گردی جیسے جال میں قید ہیں۔جس ملک کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے ہزاروں لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کیے، مائوں اور بہنوں کے سہاگ اجڑ گئے، بچے والدین سے جدا ہوگئے، عورتیں بیوہ اور بچّے یتیم ہوگئے، آج وہ ملک ہر طرف سے زخم خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ جس کو ہم نے دنیا کے لیے مثال بنانا تھا، اسے اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرنے میں لگے ہیں۔ 
قیام پاکستان کو 70 برس کا عرصہ بیت گیا مگر اس دن سے آج تک ہم اس پاکستان کو تلاش کررہے ہیں، جس کا خواب قائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد سے آج تک ہمارے عوام اُن جیسا رہنما تلاش کررہے ہیں۔ تب سے آج تک جتنے بھی حکمران آئے، ہر کسی نے ملک کو خوب لوٹا اور اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ پاکستان کے70 سال ایسی کشمکش کی طویل داستان ہیں کہ جن میں حکمران ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تگ و دو میں رہے اور آج تک یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یہ مفاد پرست حکمران تو تقسیم ہند کے ایجنڈے کو ہی مکمل نہ کراسکے۔ 70 سال گزر گئے، لیکن قیام پاکستان کے محرکات اور مقاصد بہت سے حوالوں سے پورے نہیں ہوئے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد، محرکات اور وطن عزیز میں وہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے جس کے لیے اس ملک کو بنایا گیا تھا۔