26 اپریل 2019
تازہ ترین

کیا پاکستان تیار ہے، دنیا بدلنے جا رہی ہے کیا پاکستان تیار ہے، دنیا بدلنے جا رہی ہے

گندم، کپاس، معدنی دولت کے باوجود
ہم آج بھی غریب ہیں، کل بھی غریب تھے
(کیپٹن عطا محمد خان)
جی ہاں! دنیا واقعی بدلنے جا رہی ہے۔ ’’پیٹرو اکنامی‘‘ (پٹرول کی معیشت) کا زوال شروع ہے۔ پھر سے اپنے پالیسی سازوں کو متنبہ کر رہا ہوں۔ وہ اپنے سوچنے کے انداز بدلیں۔ اگلے دس بارہ سال میں دنیا بھر کی ٹرانسپورٹ پٹرول اور گیس کے بجائے بجلی پر چلی جائے گی۔ ایشیا میں چین اور انڈیا اس میں سب سے آگے ہوں گے۔ جاپان تو ویسے ہی بہت آگے ہے۔ ہم بھی اول نمبر پر ہوں گے، مگر پیچھے سے، بھارت 2032ء تک تمام گاڑیاں، پٹرول اور ڈیزل سے ختم کرنے جا رہا ہے۔ چین اگلے سات سال میں 70 لاکھ سالانہ برقی گاڑیوں کی پیداوار پر چلا جائے گا۔ جیسے دنیا میں ایک زمانہ میں سولر اور ونڈ انرجی مہنگی تھی۔ اب ٹیکنالوجی بدلنے سے وہاں پر بھی ایک انقلاب برپا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم بھی اپنی ٹرین بجلی پر لے آئے تھے۔ مگر پھر لوہے اور سٹیل والے محبوب لیڈر آ گئے۔ اپنے ساتھ وہ ’’لوہے کے چنے‘‘ بھی لے آئے۔ پھر تانبے کی تاریں، ڈائنوسار کی طرح نایاب ہو گئیں۔ 
برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی بدلنے سے دنیا بھر میں ’’پٹرو اکنامی‘‘ 2040 تک شدید ترین بحران میں ہو گی۔ فی بیرل تیل کی قیمتیں 25 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے ہوں گی۔ پٹرو اکنامی والے اسی لیے ابھی سے دنیا بھر میں ڈالر لے کر گھوم رہے ہیں تاکہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے بل بوتے پر اپنے زندگی کے معیارات اور معیشتوں کو سنبھال سکیں۔ جن ملکوں نے بھی بدلتی ٹیکنالوجی اپنانے میں دیر کی ان کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہوں گی اور تباہی ان کا مقدر ہو گی۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پٹرول پمپ کو ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہو گا۔ جگہ جگہ پر برقی ری چارجنگ اسٹیشن آپ کو ملیں گے۔ گاڑی کو ری چارج کرنے میں 2 سے تین منٹ لگیں گے اور اس کی بیٹری اسے 300 کلومیٹر تک بآسانی لیکر جائے گی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا تصور بھی بدل جائے گا۔ لوگ زیادہ تر کرائے کی گاڑیوں کو ترجیح دیں گے۔ برقی گاڑیوں کی قیمت بھی عام گاڑی سے کم ہو گی۔ موٹر گاڑیوں میں ڈرائیور بھی منفی ہونے کا قوی امکان ہے۔ جدید ترین سنسرز کی بدولت گاڑیاں کمپیوٹرز چلائیں گے۔ آٹو انڈسٹری اس سے بُرے طریقے سے متاثر ہو گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستانیوں کی تھرڈ کلاس کاروں سے جان چھوٹ جائے۔ آٹو انڈسٹری کو بھی جدید رجحانات کے سانچے میں خود کو ڈھالنا ہو گا۔ آج اس ضمن میں تیل کی پیداوار والے ممالک اور آٹو انڈسٹری والے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ خیال کیا جا 
رہا ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر، ایران، وینزویلا، الجزائر میں اقتصادی حالات خراب ہوں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ یہاں 1950 والی غربت، ایک بار پھر سے لوٹ آئے۔  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موٹر گاڑیوں کی بیٹریاں اور جدت اختیار کر لیں
 فی الحال فلو ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے، جس میں بیٹری کے بجائے اس کا پانی تبدیل ہو گا۔ یہ سب کچھ دو منٹ میں ہو جائے گا۔ ہلکے، سولر جہاز کا تجربہ پہلے ہی ہو چکا ہے جبکہ سولر گاڑیوں کا بھی مستقبل ہے۔ کیونکہ سولر ٹیکنالوجی اب بہتر ہو رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر نئی سولر ٹیکنالوجی سے اب وسیع پیمانے پر بجلی کا حصول ممکن ہے اور یہ بجلی ہائیڈرو (پانی) گیس سے کہیں زیادہ سستی ہے۔ بھارت نے حال ہی میں دو اعشاریہ آٹھ پانچ سینٹ کے معاہدے کیے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے ملکوں میں بطور خاص پاکستان جیسے ملکوں میں ٹرانسمشن سسٹم پر کم پیسے خرچ ہوں گے۔ سولر پارکس کے ذریعے اور گھروں یا چھوٹی آبادیوں میں چھوٹے سولر سسٹم کے ذریعے بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ جبکہ سولر ٹیوب ویلز زیادہ بہتر انداز میں چلیں گے۔ کسان کو اس کا فائدہ ہو گا۔ مستقبل میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بھی حوصلہ شکنی ممکن ہے۔ کیونکہ ڈیمز میں جب ہائیڈرو پاور کا منصوبہ شامل کیا جاتا ہے تو اس سے ڈیم کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہونے کے ساتھ اس کی تعمیر کا دورانیہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس نئی صورت حال میں رن آف واٹر پر شاید چھوٹی، مگر مؤثر اور زیادہ ٹربائن لگا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حرارت کی ضرورت ڈبل سورس بلکہ پاکستان میں تو حرارت کا ذریعہ ’’ملٹی پل‘‘ ہے۔ جس گیس میں لکڑی اور کوئلہ بھی آتا ہے وہ سمٹ کر ایک ہی رہ جائے اور وہ 
صرف بجلی ہو۔ گھروں میں چولہے بھی اس پر منتقل ہو جائیں۔ جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ تجربہ کامیابی سے کیا گیا ہے۔
بدلتی دنیا میں بہرحال جس چیز کی سب سے زیادہ اہمیت رہے گی۔ وہ پانی اور زرخیز زمین ہے جبکہ اس کے علاوہ زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج پر توجہ دینا ہی ہو گی۔ اس کے علاوہ اپنے لوگوں کو ’’فوڈ پراسیسنگ‘‘ پیکنگ اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت دینا ہو گی۔ پانی کے کم استعمال، مگر بہتر نتائج کے حصول، فی ایکڑ زیادہ پیداوار کی طرف جانا ہو گا۔ پانی کی حفاظت کرنا ہو گی۔ بطور خاص برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہو گا۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی اور صنعتی آلودگی سے ہر صورت بچنا ہو گا تاکہ دنیا بھر میں آپ کی خوراک عالمی معیار پر پورا اترے۔ اسے آپ کی سی فوڈ کی طرح پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جیسے کہ ’’کلورین فینکال‘‘ کا استعمال یورپ منع کرتا ہے۔ ہم نے بہت بار اس سے اپنی سی فوڈز کی یورپ کو امپورٹ پر پابندی لگوائی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اس تمام پوٹینشل کو استعمال کریں جو قدرت نے ہمیں عطا کیا ہے۔ کیکڑے اور جھینگے کی افزائش پر ہمیں خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ہمارے پاس جو 36 کریکس ہیں اور مینگروز ہیں، ان کی ہمیں صرف حفاظت ہی نہیں کرنی ان کو بڑھانا بھی ہے۔ مینگروز سمندر کے پھپھڑے ہیں۔ ہمیں سمندر سے زمین حاصل کرنے کے شوق سے تائب ہونا پڑے گا۔ ان جگہوں پر مچھلی اور دوسری نسلوں کی افزائش ہوتی ہے۔ بھارتی ایجنٹوں نے معمولی لالچ دیکر ماہی گیروں سے کئی خطرناک جال لگوائے جاتے ہیں۔ جنہیں بولو، گجو، قطرو وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے سوئی بھی نہیں گزر سکتی۔ یہ سمندری مچھلی اور دوسری نسلوں کے انڈوں کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جس سے ایک وقت آئے گا، پاکستانی سمندروں میں مچھلی ہی نہیں رہے گی۔ جھینگے / شیلم ناپید ہو جائیں گے۔ ڈیپ سی ٹرالروں کے بجائے ماہی گیر کی بوٹس کو، جدید بلکہ مکمل طور پر تبدیل کرنا ہو گا۔ ہم 14 سو میل لمبے ساحل پر اپنے لوگوں کو تربیت دیں تو قدرتی ماحول میں قدرتی ہیچری انتہائی کم خرچے پر بنائی جا سکتی ہیں۔ جس میں قدرتی ماحول میں جھینگے کی بہترین افزائش ہو۔ ہمیں 14 سو میل لمبے ساحل پر اپنی فوج کو استعمال کرتے ہوئے پام وغیرہ کے کئی کلومیٹر تک درخت لگانا ہوں گے۔
 14 سو میل لمبے ساحل پر کوسٹ گارڈز اور رینجرز اہلکاروں کی بدسلوکیوں اور دوسرے غیر قانونی سٹمز سے لوگوں کو نجات دلائیں۔ سندھ، بلوچستان حکومتوں کے حدود کے جھگڑے کو ختم کرائیں۔ وفاق اس میں اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ وفاق 
کا ادارہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ لائسنس جاری کرے۔ وفاق دونوں صوبوں کے مفادات کا خیال رکھے۔ ماہی گیروں کے لیے فوڈز ایکسپورٹ زونز اور چھوٹے، چھوٹے فوڈز پیکنگ، پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن سٹوریج کے پلانٹس دے تاکہ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو۔ کھیتوں سے منڈیوں، بلکہ الیکٹرونک منڈیوں کا تصور لائیں تاکہ کاشت کار، ماہی گیر اور صارف کو اچھے ریٹس مل سکیں۔ پاکستان کو زراعت کے حوالے سے مختلف زونز میں تقسیم کریں۔ انفراسٹرکچر کو بہتر کریں۔ اشیا تیز رفتاری سے کم نرخوں پر مطلوبہ جگہ پہنچ سکیں۔ یعنی بار برداری کا نظام وضع کرے۔ ایس ٹریز اور دوسری ٹرانسپورٹ لائے، جس سے کسان کی اشیا خراب نہ ہوں اور عام صارف کو بہتر کوالٹی کی چیز ملے۔ جبکہ اس کے لیے ایکسپورٹ کے دروازے کھولے۔ کوالٹی کی حکومت گارنٹی دے۔جزا و سزا کا نظام بہتر ہو گا تو ملک اور لوگوں سب کی زندگیاں بدل جائیں گی۔زراعت زرعی انڈسٹری، فوڈ انڈسٹری اور ان سے لنک صنعتیں ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ یہ ملک اتنی لوٹ مار کے باوجود اس لیے، خود کو بچا گیا کہ اللہ نے ہمیں پانی، زمین، اچھی زراعت اور محنتی کسان اور مزدور دیے تھے۔ باقی ہمارے سیاست دانوں، بابوؤں اور مہا بابوؤں کے کارٹل نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
جناب جاگیں۔ بدلتی دنیا کے تقاضوں کو سمجھیں۔ ہمارے پاس اب بھی بہت کچھ ہے۔ بلکہ سب کچھ ہے۔ آپ صرف اپنی نیت ٹھیک کریں۔ نتائج اوپر والے پر چھوڑ دیں۔ زمین پر گرے بیر، کبھی خراب نہیں ہوتے۔ اللہ کا واسطہ ہے۔ اس بار تو اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ یہ صرف فرض ہی نہیں، جناب پر قرض بھی ہے۔ دنیا بدل رہی ہے۔ خود کو اور پاکستان کو تیار کریں۔
گلیوں، گلیوں، بھٹک رہا ہے وہ سنہری خواب جسے
میرے بڑوں نے اپنی لاکھوں نیندیں بیچ کے پالا تھا
(امجد اسلام امجد)