19 جنوری 2019
تازہ ترین

کچے کو پکا کردو کچے کو پکا کردو

علم انبیا کی ایسی میراث ہے جو مومن کو جہاں ملے وہ اسے حاصل کرلیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ عقل و خرد کی کوئی بات آپ کو صرف کتابوں اور یونیورسٹیوں میں ہی ملے۔ بعض اوقات اردگرد موجود لوگ ہی آپ کو کوئی ایسی راہ دکھا دیتے ہیں جس پر اگر عمل کیا جائے تو اس سے ناصرف انسانوں کی انفرادی بلکہ اجتماعی معاشرتی زندگی پر ایسے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جو خوشگوار انقلاب میں تبدیل ہوکر قوموں اور انسانوں کی زندگی میںکامیابی کی نئی جہتوں کوآشکار اور راہوں کو متعین کردیتے ہیں۔ یوں یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ بعض اوقات آپ کو حکمت و دانش کے یہ موتی کسی ایسی جگہ بھی مل سکتے ہیں جس کا گمان ہو اور نہ آپ اس کی اُمید کررہے ہوں۔ 
آپ اسے حسن اتفاق سمجھیے یا پھر کوئی خوشگوار حادثہ ہمیں بھی اس بار پاکستان اور قوم کو اجتماعی اور انفرادی سطح پر لاحق بہت سی بیماریوں کا علاج محض چند لفظوں میں مل گیا، گویا جیسے کسی نے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہو۔ حیرت کہ بیمار کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے بھی ایسے سرکاری محکمے سے متعلق شخصیت ہیں جن کے محکمے اور اس کے اہلکار و افسران کو شاید ہی کوئی ایسا دن ہو، جب عوام کی اکثریت کوستی نہ ہو۔ جی قارئین! یہاں ذکر ہورہا ہے محکمہ پولیس کا، جسے عوام میں ہمیشہ سے مقبولیت کے حوالے سے گوناگوں مسائل کا سامنا رہا ہے۔ یہ محکمہ عوام میں اچھی شہرت نہیں رکھتا۔ 
خیر اب ایسا بھی نہیں کہ اس محکمے میں اچھے اور دیانت دار لوگوں کا قحط الرجال ہے۔ چند روز قبل ایک دیرینہ دوست شاہد قادر کے ہمراہ جو بحیثیت انچارج شکایت سیل وزیراعلیٰ پنجاب ستم رسیدہ عوام کی کثیر تعداد کو ریلیف دینے کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں، ایس ایس پی ڈسپلن اطہر وحید کے ساتھ ملاقات کا اتفاق ہوا۔ ملاقات سے قبل خیال تھا کہ وہ بھی روایتی پولیس افسر ہوں گے، تاہم نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ملاقات کے دوران بدنام زمانہ کچے کے علاقے کے حوالے سے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ راقم کے استفسار پر کہ کچے کے علاقے میں حکومتی رِٹ اور امن کیسے قائم ہوسکتا ہے، ایس ایس پی ڈسپلن اطہر وحید مسکرائے اور نہایت مختصر جواب دیا، کچے کو پکا کردو۔ مطلب بہت آسان تھا، ارباب اختیار ملکی  وسائل کا اگر انتہائی مختصر حصہ بھی کچے اور وہاں کے محروم عوام پر صَرف کردیں تو غربت اور ناانصافی کے مارے لوگوں کو بھی قومی دھارے میں واپس لایا جاسکتا ہے۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجائے گی کہ ناانصافی اور محرومیاں وہ بنیادی وجوہ ہیں جنہوں نے کچے کے بیشتر باسیوں کو جرائم کی دلدل میں دھکیلا۔ اطہر وحید کا کہنا تھا کہ جب تک محکمۂ پولیس سمیت سرکاری محکموں میں افسران و اہلکاروں کا کڑا احتساب کرکے انہیں عوام کی خدمت کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا، عوام کو انصاف مہیا نہیں کیا جاسکتا۔ ملاقات کے بعد جب ہم رخصت ہوئے تو ان کے حوالے سے ہمارے خیالات یکسر بدل چکے تھے۔ 
قارئین! حضرت علیؓ کا قولِ مبارک ہے کہ کفر پر مبنی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم پر مبنی حکومت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی۔ چودہ سو سال گزرنے کو آئے لیکن آج بھی آپؓ کا یہ قول اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ اپنے اندر موجزن سچائیوں کو ہر دور کے انسانوں پر عیاں کررہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ شاید معاشرتی زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے کہ زندہ معاشروں کی حیات جاودانی صرف اور صرف انصاف پر مبنی ہوتی ہے، جو معانوی اعتبار سے ہر شعبہ ہائے زندگی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جن معاشروں میں انصاف ختم ہوجاتا ہے وہ اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ ایسے معاشروں کی تباہی و بربادی پر آخری مہر یا تو خود ان کے اپنے ہی باسی ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر لگادیتے ہیں، یا پھر بیرون دُنیا سے ظالم حملہ آور اُن پر چڑھ دوڑ کر رہی سہی کسر پوری کردیتے ہیں۔
عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے اہم مراکز ہیں، وطن عزیز میں عوام کی اکثریت عدل کو ترس رہی ہے۔ نچلی عدالتوں میں لوگ انصاف کے انتظار میں عمر تک گزار دیتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ سب ججز کا احتساب ہوگا، لوگ چیخ چیخ کر مررہے ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ مقدمات کی سماعت کے دوران کبھی مدعی نہیں آتا، کبھی گواہ نہیں آتا، کبھی منشی نہیں آتا، کبھی پولیس نہیں آتی تو کبھی جج صاحب ہی چھٹی پہ ہوتے ہیں، تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے، چھوٹے موٹے مقدمات کی سماعت میں تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں اور بسا اوقات عشرے۔ وزارت قانون نے بتایا تھا 15 اکتوبر 2018 تک سپریم کورٹ میں 39 ہزار 7 سو مقدمات زیرالتوا تھے۔ یقیناً یہ تعداد 2019 کے آغاز میں اس سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ ملک میں عدالتی نظام میں موجودہ نقائص اور خرابیوں کا اندازہ اُن مقدمات پر سست رفتار عدالتی کارروائی سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے، جنہیں میڈیا کے ذریعے بہت زیادہ شہرت ملی اور پوری قوم کی نظریں ان مقدمات کے نتائج اور فیصلوں پر ہنوز لگی ہیں، تاہم ان پر اب تک کیا کارروائی ہوئی اور اس کے مجموعی طور پر کیا نتائج نکلے، اس پر ذرا نظر ڈال لیتے ہیں۔ 
عزیر بلوچ کیس رزلٹ صفر، عابد باکسر کیس رزلٹ صفر، ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر، شرجیل میمن کیس رزلٹ صفر، کرنل جوزف کیس رزلٹ صفر، ریمنڈ ڈیوس کیس رزلٹ صفر، مجید رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار کے قتل کا کیس رزلٹ صفر، انسپکٹر اعجاز قتل کیس رزلٹ صفر، ماڈل ایان علی کیس رزلٹ صفر، 12 مئی قتل عام کیس رزلٹ صفر، احد چیمہ ریمانڈ پر ریمانڈ رزلٹ صفر، فواد حسن فواد صرف ریمانڈ رزلٹ صفر، اسحاق ڈار کیس رزلٹ صفر، راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر، نیو بینظیر ایئرپورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر، رئیسانی کیس رزلٹ صفر، ایم کیو ایم غداری کیس ثبوت موجود لیکن رزلٹ صفر، ایم کیو ایم دہشت گردی و را فنڈنگ ثبوت موجود لیکن  رزلٹ پھر بھی صفر، اصغر خان کیس رزلٹ صفر، شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر، بلدیہ ٹاؤن رزلٹ صفر، اسی طرح ماڈل ٹاؤن، شاہ رخ جتوئی، راؤ انوار ، 56 کمپنی سکینڈل، صاف پانی کرپشن کیس، سستی روٹی تندور کرپشن کیس، کلبھوشن یادیو دشمن جاسوس کیس، بابر غوری کیس، ارسلان افتخار کیس، حافظ عبدالکریم کرپشن کیس، حسین حقانی کیس، پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفراور نجانے ان جیسے کئی امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بزنس مینوں کے مقدمات کے رزلٹ بھی صفر ہی ہیں۔ یعنی یہ ایسا منحوس  صفر ہے جسے آپ چاہے جمع کرلیں، تفریق کرلیں یا پھر ضرب دے دیں، جواب ہر صورت صفر ہے۔ یہ صفر آج بھی ہمارے نظام انصاف کے ماتھے پر بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر پورے چہرے پر ہر سو سیاہی پھیلارہا ہے۔