22 اکتوبر 2018
تازہ ترین

کچھ تو کریں جناب کچھ تو کریں جناب

میں یہ کالم اس لیے نہیں لکھ رہا کہ آپ کے معمولات کو متاثر کروں نہ سرکار دربار سے کچھ امید ہے کہ وہ اس پر کان دھرے گی، نہ ہی کسی لیڈر کی صحت اس سے متاثر ہو گی۔ اگر ایسا ہوتا تو اب تک مولانا فضل الرحمٰن پر اس حوالے سے بڑے گہرے اثرات مرتب ہو چکے ہوتے جو کشمیر کمیٹی کے گزشتہ کئی برسوں سے چیئرمین اور کروڑوں کے فنڈز پر مکمل اختیار کے ساتھ موج میلہ کرتے رہے ہیں۔ آپ کا کشمیر کے حوالے سے ایک ’’اقوال زریں‘‘ تو آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہا ہے جب ایک بد زبان صحافی نے آپ سے بار بار کشمیریوں پر ٹوٹنے والی قیامت کے حوالے سے سوالات کی بوچھاڑ کی، پہلے تو آپ اسے ٹالتے رہے کہ ایسے فضول اور بے موقع سوالات کی تُک کیا بنتی ہے۔ جس کے بعد آپ نے قدرے تلخی سے لیکن اپنی مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے فرمایا:
’’پھر میں کیا فوج لے کر حملہ کر دوں‘‘۔
معلوم نہیں یہ حملہ بھی آپ نے مظلوم کشمیریوں پر کرنا تھا یا ان پر ظلم و ستم کرنے والوں پر۔ خیر! بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ آپ نے خبروں میں، سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بے رحمی کے تازہ مناظر تو دیکھ لیے ہوں گے۔ پیلٹ گنوں سے چھلنی جسم اور آنکھوں کا نظارہ بھی کر لیا ہو گا۔ ان ساری کارروائیوں پر ہماری مجرمانہ خاموشی سے حوصلہ پا کر اب بھارتی حکومت نے یہ ٹنٹا ہی ختم کرنے کی ٹھانی ہے اور بھارتی آئین کی دفعہ 35-Aختم کرنے کی ٹھانی ہے جس کے خلاف بے چارے کشمیری پھر گولیوں کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آئین کی دفعہ 35-A کی منسوخی کے منصوبے کے خلاف اتوار کو دو روزہ مکمل پہیہ جام ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہڑتال کی اپیل کرنے والے حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو ان کی رہائش گاہوں میں نظر بند کر دیا گیا، جبکہ محمد یٰسین ملک گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے۔ حریت رہنماؤں کی اپیل پر ہونے والی مکمل ہڑتال اور مظاہروں میں مقبوضہ کشمیر کے عام باشندوں کے علاوہ تاجروں، مذہبی و سیاسی جماعتوں اورسول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ ریاستی حکومت نے ریل سروس معطل کر دی۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کی امرناتھ یاترا کو بھی عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا۔ پہلے دن پوری مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بُری طرح درہم برہم ہو کر رہ گئے۔ ہفتے کے روز بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے وادی میں کئی مقامات پر مزید سات کشمیری نوجوان شہید ہوئے، کئی شہروں میں اتوار کو ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ واضح رہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35-A کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ملک کے دوسرے علاقوں سے مختلف حیثیت حاصل ہے۔ اس آرٹیکل نے جموں و کشمیر کے مستقل مکینوں کو خصوصی حقوق و مراعات دی ہیں۔ غیر کشمیریوں کے یہاں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے پر پابندی عائد ہے۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کی ایک ذیلی تنظیم ’’ہم شہری‘‘ نے دفعہ 35-A کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے اسے بھارتی آئین سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
1954ء میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے آرٹیکل 35-Aکو بھارتی آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ پیر کو اس دفعہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو کرنی تھی، جس پر کشمیری باشندوں نے اتوار سے دو روزہ پُر امن احتجاج شروع کر دیا، لیکن ایک جج کی غیر حاضری کے سبب پیر کو سماعت نہ ہو سکی۔ سپریم کورٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ آرٹیکل 35-A ملکی آئین کے بنیادی ڈھانچے سے تو نہیں ٹکراتا۔ اب اس کیس کی سماعت دو 
ہفتے بعد ہو گی۔ جموں و کشمیر کی سابقہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے خبردار کیا ہے کہ ریاست کی خصوصی حیثیت سے کھیلنے 
کا نتیجہ پورے بھارت کے لیے نہایت خطرناک ہو گا۔ کشمیری رہنماؤں اور بھارتی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت 1954ء میں آئین کے آرٹیکل 35-A کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت اور یہاں کے باشندوں کو بعض رعایات دی گئی تھیں۔ ان میں وادی سے باہر کے بھارتی باشندوں کو کشمیر کی مستقل شہریت اختیار کرنے، یہاں جائیداد خریدنے اور خواتین کو وادی سے باہر کے مردوں سے شادی کرنے کی صورت میں جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ بھارت کے انتہا پسند ہندو اس دفعہ کو ختم کرا کے بھارتی ہندوؤں کو وادی جموں و کشمیر میں مستقل طور پر آباد کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے اور وادی کے وسائل پر قابض ہو کر مسلم آبادی کو ان سے محروم کر دیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں سات سےآٹھ لاکھ فوج اور پولیس کے اہلکار پہلے ہی کشمیریوں کا قتل کام کر رہے ہیں۔ اگر کشمیریوں کو حاصل خصوصی مراعات ختم کر دی گئیں تو بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں کو وادی پر قبضہ و تسلط کی پوری آزادی مل جائے گی۔ لہٰذا کشمیریوں کا اس منصوبے کے خلاف احتجاج ہڑتالیں اور مظاہرے بلا جواز نہیں، بلکہ بھارت سے آزادی کی تحریک کا لازمی جزو ہے۔ اگر بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیری باشندوں کے خلاف بغض و تعصب اور امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی فیصلہ سنایا تو اس سے ان کے اپنے ملک میں انتشار، بدامنی اور تباہی و بربادی کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی، دھونس دھاندلی اور غنڈہ گردی سے آپ کوئی بھی توقع کر سکتے ہیں لیکن سری نگر میں اگر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے! پلیز کچھ توجہ چاہیے! مہربانی کریں۔ کوئی ایک آدھ بیان، قرار داد، جلسہ اجلاس کچھ تو مظلوم کشمیریوں کے لیے کر گزریں!