22 اپریل 2019
تازہ ترین

کچھ بیاں صدور پاکستان کا ہوجائے کچھ بیاں صدور پاکستان کا ہوجائے

سوچا کہ صدر پاکستان عارف علوی  کے مشہور صحافی حامد میر کو دیے گئے انٹرویو پر اظہار خیال کیا جائے۔ ایک دم خیال آیا کہ یہ سراسر ناانصافی ہوگی اگر اس موقع پر دیگر صدور کا تذکرہ نہ کیا جائے۔لیکن مشکل کہ کالم متحمل نہیں ہوسکتا کہ ہر ایک صدر کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی جائے، لہٰذا ان کے مختصر تذکروں پر اکتفا کرتے۔ پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ موصوف انگریزی میں تقریر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ہر تقریر اس جملے پر ختم ہوتی تھی کہ The end of the speech is mine, President of Pakistan Major General Iskander Mirza۔ یہ پہلے صدر تھے جنہوں نے وطن عزیز میں پہلا مارشل لا نافذ کیا۔ قدرت نے اسکندر مرزاکے اس ظلم کی یہ سزا دی کہ جنرل ایوب نے جسے وہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے لائے تھے، خود کو فیلڈ مارشل کے منصب پر فائز کرلیا، انہیں معزول کردیا اور صدر پاکستان بن بیٹھے اور سابق صدر کو جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔
فیلڈ مارشل ایوب خان کے پہلے دس سالہ اقتدار کے دوران ناصرف یہ کہ ملک کو سیاسی استحکام حاصل ہوا بلکہ ترقیاتی عمل بھی خوب ہوا، لیکن جب ان کی حکومت Decade of peace, progress and prosperityکے عنوان سے جشن منانے میں مصروف تھی، اس کے آخر میں ان کے خلاف ایک ایسی عوامی تحریک کا آغاز ہوا جس نے ان کی حکومت کو اپنے انجام تک پہنچادیا۔ بہرحال انہوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ جب قوم وملک کے فیصلے سڑکوں پر ہونے لگیں تو میرے صدر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔
ان کے بعد جنرل آغا محمد یحییٰٰ خان نے ملک میں دوسرا مارشل لگاکر خود کو صدر مملکت کے منصب پر فائز کرلیا۔ یہ پاکستان کے بدترین حکمراں ثابت ہوئے کیونکہ ان کے دور میں ملک کو شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا ایک حصہ مشرقی پاکستان، بنگلادیش میں تبدیل ہوگیا۔
ذوالفقار علی بھٹو سقوط ڈھاکہ کے بعد پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور بعد میں صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی بدقسمتی کہ ان کو صرف چھ سال کے عرصے میں اقتدار سے ہاتھ دھونا اور بوجوہ پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا حالانکہ ان کے کارناموں میں اسلامی کانفرنس اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا وغیرہ شامل تھے۔ بھٹو کے دور میں چودھری فضل الٰہی کو صدر بنایا گیا جن کا کام اپنی تقریروں میں قائد عوام کی تعریفیں کرنا اور ان کے کارناموں کو اجاگر کرنا تھا۔ 
بھٹو کو معزول کرکے جنرل ضیاء الحق نے تیسرا مارشل لا نافذ کردیا اور گیارہ سال تک صدر کے منصب پر رہے۔ ان کے کارناموں میں روس کو افغانستان میں جارحیت کے بعد وہاں سے پسپائی اختیار کرنا پڑا  اور بعد ازاں سوویت یونین تحلیل ہوگیا۔ اس کے بعد جو شخصیات اس منصب تک پہنچیں ان میں غلام اسحٰق خان، فاروق احمد لغاری اور رفیق تارڑ جیسے ماہر قانون شامل تھے۔ جب مشرف اقتدار میں آئے، رفیق تارڑ کو صدارت سے معزول کرکے صدر بن بیٹھے۔  
صدرآصف علی زرداری کو یہ کریڈٹ حاصل رہا کہ وہ تیرہ سال قید میں رہے جس کے بعد انہیں باعزت بری کیا گیا۔ اپنے دور صدارت میں انہوں نے دستور میں اٹھارویں ترمیم منظور کراکر بڑا کارنامہ انجام دیا اور دوسرا کارنامہ اپنے تمام اختیارات حکومت کو سونپ کر انجام دیا۔ صدر ممنون حسین تو ممنون ہیں (ن) لیگ کے جس نے انہیں اس عہدے پر فائز کیا تھا۔ بہرحال انہوں نے اپنے دور صدارت کو باعزت طور پر گزارا  اور بغیر کوئی کارنامہ انجام دیے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔
اب آئیے موجودہ صدر پر بات کرتے ہیں۔ عارف علوی کے مذکورہ بالا انٹرویو پر بھی بات ہوگی۔ دوران انٹرویو انہوں نے پروٹوکول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم تو وہ لوگ ہیں جو بسوں اور رکشوں میں سفر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے چند ایسی باتیں کہی ہیں جس سے ان کا دین سے تعلق ظاہر ہوتا ہے ورنہ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد کہاں کا دین اور کیسا دین، لوگ سب بھول جاتے ہیں۔ جناب صدر نے women powerکا کریڈٹ اسلام کو دیتے ہوئے ثابت کیا کہ عورتوں کو جو پاور اسلام نے عطا کیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں کیے۔ عورتوں کی وراثت کے بل کی بات بہت خوش آئند ہے۔ صدر محترم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو فنکشنل بنانے کی بات بھی کی ہے۔ معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے ایک کالم ’’مسائل اور ان کا حل‘‘ کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے، جو قارئین کے لیے تو ان شاء اللہ مفید ہوگا لیکن حکمرانوں تک یہ بات پہنچنا ضروری ہے۔ مولانا لکھتے ہیں ’’عورتوں کے حقوق سے متعلق جو قوانین ملک میں رائج ہیں، وہ ناقص ہیں، عملاً غیر موثر بھی ہیں اور ان پر عملدرآمد ضابطہ جاتی قوانین کی وجہ سے بہت مشکل ہے اور سب سے بڑھ کر ان میں خواتین کے حقوق کا درست اسلامی تصور بھی پیش نہیں کیا گیا۔ اس ضرورت کے احساس کی وجہ سے ہمارے ادارے کے استاذ مولانا امداد اللہ نے عورتوں کے حقوق کے متعلق ایک جامع مسودۂ قوانین تیار کرکے اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کیا تھا، تاکہ کونسل غوروخوض اور تبادلۂ خیال کے بعد اسے پارلیمنٹ کوارسال کرے اور وہاں عوامی نمائندے اس پر قانون سازی کرکے خواتین کے حقوق کی حفاظت اور ان کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ مجھے امید ہے کہ کونسل نے مناسب غور وخوض، ضروری اصلاحات اور اضافہ جات کے بعد اسے پارلیمنٹ کو روانہ کردیا ہوگا، اس لئے اب یہ پارلیمنٹ کے اراکین پر موقوف ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کے متعلق کتنی فعالیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کے آسیہ بی بی کے مقدمے کے فیصلے پر احتجاج کے حوالے سے بھی صدر محترم نے بہت خوبصورتی سے دین سے اپنے لگائو کا اظہار کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ توہین رسالت کا مسئلہ نہایت حساس ہے۔ یہ مجھ سمیت ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ احتجاج کا حق سب کو ہے لیکن ایک طرف توہین رسالت پر احتجاج اور دوسری جانب نجی املاک کو نقصان پہنچانا ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس پر جب حامد میر نے کہا کہ یہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے تو انہوں نے کہا، قانون کو چھوڑیے اصل بات یہ کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایک طرف ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین پر احتجاج کریں اور دوسری جانب اسی احتجاج کے دوران آپﷺ کی تعلیمات کے خلاف کام کریں تو یہ بات ناقابل فہم ہے۔
صدر مملکت سے صرف اتنی گزارش ہے کہ ان سب مسائل کا حل اسلام کے نظام اجتماعی کے قیام اور شرعی قوانین کے نفاذ میں ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، ہم اس قسم کے مسائل سے جان نہیں چھڑاسکتے۔ آپ کی حکومت پہلی حکومت ہے جس نے پاکستان کو مدینے کے طرز کی ریاست میں ڈھالنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لہٰذا اس پر بدرجۂ اولیٰ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ یہاں اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے نفاذ اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔