23 ستمبر 2018
تازہ ترین

کونسلوں کا قضیہ اور جمعیۃ العلماء کونسلوں کا قضیہ اور جمعیۃ العلماء

(16 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
لیکن مسلمان علما اسے تین سال پیشترممنوع کر چکے ہیں اس لئے رواداری کا تقاضا یہ ہے کہ اس فیصلہ کا احترام کیا جائے اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو مسلمان کانگرس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ بندےؔ ماترم بہت بڑا قوم پرست ہے کیا اسے ایسے کلمات لکھتے وقت یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ اسلام کے اس ناموس پر حملہ کر رہا ہے جس کی خاطر مسلمان دنیا میں زندہ ہے۔ کیا اسے اس افسوسناک حرکت کے الم انگیز نتائج معلوم نہیں ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاپان میں صبحِ قیامت کا ظہور
جاپان سے زلزلے اور آگ کی تباہی خیزی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں وہ گزشتہ دو تین اشاعتوں میں درج ہو چکے ہیں۔ ان کے ملاحظہ سے قارئین کرام پر واضح ہو گیا ہوگا کہ سرزمین ایشیا کی یہ سب سے بڑی طاقتور سلطان جسے ’’آفتابِ مشرق‘‘ کہا جاتا تھا دفعتہً کیسے ہولناک اور زہرہ گداز مصائب کا شکار بن گئی ہے۔ شہر کے شہر تباہ ہو گئے۔ صرف یوکوہامہ میں ایک لاکھ انسان لقمہ نہنگِ اجل بنے اس کے بعد آگ نے بہت تباہی پھیلائی۔ ہمیں جاپان کے ساتھ اس دل گداز مصیبت اور اس جگر شگاف حادثہ ہا لہ پر گہری ہمدردی ہے۔ یہ جانگزا سانحہ ان طاقتور سلطنتوں کیلئے آیہ تنبیہ و عبرت ہے جو کثیر التعداد افواج، ہلاکت بار آلات و اسلحہ جنگ، مہیب جنگی جہازوں کی قطاروں، تجارت کی وسعت و گرم بازاری اور دولت کی فراوانی کو حقیقی قوت و طاقت سمجھ کر عدل و انصاف کو ٹھکرایا کرتی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ کوئی بے دست و پا ملک، کوئی کمزور و ضعیف قوم میدان جنگ میں ان کے مقابلے پر نہ آ سکے لیکن ان کا یہ سرمایہ قوت و طاقت کے معذب و منتقم ہاتھ کی موثر جنبش کو روک نہیں سکتا۔ جس طرح جاپان آرام، امن، راحت اور آسایش کی بہار کے مزے لوٹتا ہوا بیٹھے بیٹھے چند لمحوں میں تباہ ہو گیا اسی طرح دوسری سرکش اور متمرد سلطنتوں پر بھی آفتیں نازل ہو سکتی ہیں۔ خدائی کارخانے میں کسی کو دخل نہیں ہے ۔ لیکن کاش یہ آفت جاپان کے بجائے یورپ پر نازل ہوتی تاکہ ایشیا اور افریقہ کے غریب اور مظلوم باشندوں کے مصائب کا بھی خاتمہ ہو، تاہم ان کو مطمئن نہیں بیٹھنا چاہئے۔ قدرت کا ہاتھ اب جبنش سے عاری نہیں ہو گیا۔ جس لایزال طاقت نے آج چند لمحوں میں جاپان کو مرگھٹ بنا دیا ہے دوسرے اس کی گرفت اور دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ کاش قوت کے گھمنڈ میں کمزورں اور ضعیفوں کو کچلنے والے خواب غفلت سے بیدار ہوں اور حق و انصاف کے رشتے کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں۔ آخر میں ہم پھر اپنے مصیبت زدہ جاپانی بھائیوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ محمد احمد خان اور منشی اللہ دتا
قارئین کرام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حافظ احمد خان اور منشی اللہ دتا صاحب کے مقدمے میں استغاثہ کا پہلو کس قدر کمزور تھا اور جس مضمون کی بناء پر مقدمہ چلایا گیا وہ دفعہ 124 الف کے ماتحت نہیں آتا۔ لالہ شینکر داس سٹی مجسٹریٹ، وکیل سرکار کی غیر مدلل، کمزور اور پھسپھسی تقریر پر بار بار مسکرا دیتے تھے اور بار بار ان سے استفسار کرتے تھے کہ آخر اس مضمون کے کون سے حصے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کیخلاف نفرت و حقارت پھیلائی گئی ہے۔ چنانچہ غالباً اسی خیال سے متاثر ہو کر مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا کہ 24 اگست کو فیصلہ سنا دیا جائے گا لیکن 24 کو فیصلہ سنانے کے بجائے آپ نے کہاکہ استغاثہ کی شہادت ناکافی ہے۔ اگر وکیل سرکار مزید شہادت یا ثبوت پیش کر سکے تو 29 اگست کو پیش کرے لیکن 29 تاریخ کو کوئی مزید شہادت پیش نہ کی گئی۔ ہمیں خیال تو آیا تھا کہ لالہ شینکر داس صاحب جو ذاتی طور پر طبعاً شریف انسان واقع ہوئے ہیں اس موقع پر جرات سے کام لیں گے اور حافظ صاحب اور منشی جی کو بری کر دیں گے۔ لیکن شہادت ناکافی ہونے اور مزید شہادت پیش نہ ہونے کے باوجود دو دو سال کی قید اور تین تین سو روپے جرمانے کا حکم سنا دیا گیا اور انگریزی انصاف و عدالت کی شان دار روایات پر ایک ناقابل رشک مہر تصدیق ثبت کر دی گئی۔ خدا جانے استغاثہ کی صریح کمزوری کے باوجود جناب حاکمِ عدالت کو کون سی طاقت نے سزا دینے پر مجبور کر دیا اس کی صحیح خبر عالم الغیب ہی کو ہو سکتی ہے۔ ہم کیا جانیں کہ حکومت کے ارباب اختیار کے چمن زارِ استبداد میں:
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد
فیصلے میں مجسٹریٹ صاحب نے زمیندار کے نابینا مدیر سے بہت ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور یہ لکھ کر اپنی افسوسناک ’’قانون دانی‘‘ اور معاملہ فہمی کا ثبوت دیا ہے کہ اصلی شرارت پیشہ آدمی پس پردہ ہے۔ (جاری ہے)