26 اپریل 2019
تازہ ترین

کوئی ہم پلہ نہیں… کوئی ہم پلہ نہیں…

امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور اقتدار میں معیشت دوگنی ہوگئی ہے، تاہم انہوں نے بھی بے روزگاری، مہنگائی اور قومی یک جہتی کا رونا رویا، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لاکھوں نوکریوں کا بندوبست کرکے بے روزگاری کا  خاتمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ بے روزگاری پر مکمل قابو پایا جاسکے، انہوں نے شکوہ کیا کہ نیٹو کا امریکا کے ساتھ رویہ عرصہ دراز سے نامناسب  ہے۔ چین نے بھی امریکی صنعتوں کو نشانہ بنایا، ایران دہشت گردی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے، اس لیے اس سے جوہری معاہدہ ختم کرکے اسے روکنے کی تدبیر کی ہے، افغانستان میں دو دہائیوں بعد امن لوٹ رہا ہے، مشرق وسطیٰ کے امن اور خوشحالی کے لیے سات ارب روپے خرچ کیے، انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتے لیکن امریکا مُردہ باد کا نعرہ لگانے اور یہودیوں کی نسل کشی کی دھمکیاںدینے والوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ہم تو شمالی کوریا سے بھی مثبت نتائج کے لیے بات چیت کررہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے طالبان سے امن کی خاطر تعمیری مذاکرات کررہے ہیں۔ امریکا نے پچاس سال قبل چاند پر امریکی جھنڈا لہرایا اس سال پھر امریکی چاند پر جائیں گے اور ان کے ہمراہ راکٹ بھی ہوں گے، دنیا میں کوئی قوم امریکا کے ہم پلہ نہیں، اس لیے کسی سے امریکیوںکا موازنہ نہیں کیا جاسکتا، امریکا آنے والوں کا راستہ روکنا نہیں چاہتے لیکن امیگریشن کے لیے محفوظ راستہ چاہتے ہیں، تاکہ امریکیوں کے وسائل زبردستی امریکا آنے والے ہضم نہ کرسکیں، اسی لیے پہلے امریکا کا نعرہ لگایا، نتائج رفتہ رفتہ سب کے سامنے آرہے ہیں، امریکیوں کی صحت کے معاملات میں بہتری کے لیے ادویہ کی قیمتوں میں بھی کمی کی جارہی ہے،  تاہم امریکا اور امریکیوںکو ماضی کے حوالے سے اس وقت اتحاد اور یک جہتی کی زیادہ ضرورت ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین میں تفصیلی خطاب سے ارکان کانگریس کی خوب داد حاصل کی، اراکین نے دوران خطاب کھڑے ہو ہو کر اپنے صدر کی پذیرائی بھی کی، یقیناً صدر ٹرمپ نے ’’ریاست ہائے متحدہ امریکا‘‘ میں بسنے والوں کی ہر مشکل پر بات کی اور مستقبل میں بہتری کی یقین دہانی بھی کرائی، لیکن انتقامی سیاست چھوڑنے کا مشورہ دینے والے امریکی صدر ٹرمپ کو خود بھی اس راہ سے فرار اختیار کرنی پڑے گی، صرف لفظی نہیں عملی طور پر۔۔۔ ورنہ اس دو عملی میں ’’امریکا بہادر‘‘ مثبت نتائج کبھی حاصل نہیں کرسکے گا۔ اس تقریر دل پذیر میں بھی انہوں نے امریکی برتری کے غرور میں ہلکی پھلکی ہی نہیں بھاری بھر کم دھمکیاں لگانے سے بھی گریز نہیں کیا، لہٰذا دیکھنا اور پرکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کے اس خطاب کو دنیا نے کس انداز سے دیکھا، یعنی اس سلسلے میں دنیا اور خاص طور پر اسلامی دنیا کا ردعمل کیا ہے؟
صدر ٹرمپ کے ارشادات پر امریکیوں نے خوب تالیاں بجائیں کہ جس صدر کے انتخاب سے امریکی اور ان کی ریاستیں واضح انداز میں دو مختلف گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھیں، انہیں جوڑنے، آگے بڑھنے اور مستقبل کی امیدوں کی باتیں سب کو اچھی لگتی ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہوگا مغرور صدر ٹرمپ اپنی باتوں پر کس حد تک عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اگر طبیعت کے مطابق انہوں نے کوئی انہونی  نہ کی تو یقیناً وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرجائیں گے، تاہم موڈ کے مطابق ان سے کسی اچھائی کی توقع نہیں، اگر ان کے انداز خطاب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ان کے ماضی کی تمام جھلک ضرور پکڑی جائے گی، وہ اس اہم ترین خطاب میں کبھی ریسلر دکھائی دے رہے  تھے تو کبھی اداکار، لیکن خواہش ان کی یہی تھی کہ دنیا  انہیں سپرمین تسلیم کرے،  انہوں نے کمال مہارت سے اپنی ایک تقریر میں کئی انداز دکھائے، یہودیوں کو بھی خوش کیا اور ایران کے نام پر مسلم دنیا کو دھمکیاں بھی دیں اور ساتھ ہی شمالی کوریا اور طالبان سے مذاکرات کا اشارہ دے کر اپنی خارجہ پالیسی کو بھی تقویت دینے کی کوشش کی۔
حالانکہ یہ سب کچھ اپنی نااہلیوں اور شکست در شکست سے راہ فرار کا ایک اعزاز بھرا انداز تھا۔ ایران سے جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیا جب کہ ان کے اپنے حواری اس معاہدے سے انحراف کو تباہی کہہ رہے ہیں، پھر بھی صدر ٹرمپ اپنی موج مستی اور ان دوستوں کی محفل میں خوش ہیں، اسلحہ و بارود کی بھاری مقدار میں موجودگی کے باوجود افغانستان میں شکست کا سامنا ہے، مذاکرات ہر ممکن بھاگنے کا بہانہ ہے، لیکن دعویٰ یہی ہے کہ کوئی ہم پلہ نہیں، شمالی کوریا، چین اور روس کی فکر بھی لاحق ہے، پھر بھی رٹ لگا رکھی ہے کہ کوئی ہم پلہ نہیں؟؟؟
صدر ٹرمپ کی تضاد بیانی اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے۔ کہتے ہیں عوامی جمہوریہ چین نے ہماری صنعتوں کو نشانہ بنایا، دوسری طرف چین سے تجارتی معاہدوں کی نوید بھی سنائی ہے، ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن کی کوششوں کو انجام تک پہنچانے کا یہ بہترین وقت ہے، لہٰذا طالبان اور حکومت دونوں سے رابطہ ہے۔ دوسری جانب یہ بھی بتادیا کہ افغانستان میں سات کھرب ڈالر اور سات ہزار فوجی  جانیں قربان کرچکے ہیں جب کہ عراق اور شام میں داعش کا خاتمہ کرچکے ہیں۔ امریکا عظیم قوم ہے اور عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیںکبھی نہیں لڑتیں، لہٰذا شام اور افغانستان سے نکلنے کا یہی بہترین وقت ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ’’امریکا بہادر‘‘ کا طویل جنگیں لڑنا محبوب مشغلہ ہے اور ایسی جنگوں کا منطقی انجام بھی نہیں ہوسکا، یہ مثال عراق اور افغانستان پر بھی صادق آتی ہے کیونکہ دونوں جگہ ناکامیوںکو دیکھتے ہوئے ’’امریکا بہادر‘‘ نے ازخود جان چھڑانے کی حکمت عملی اپنائی۔ 
موجودہ حالات میں بھی افغانستان میں امریکا اپنے حواریوں نیٹو سمیت ناکام ہے، اسی لیے راہ فرار کے لیے پاکستان سے مدد لے کر براہ راست طالبان سے مذاکرات کیے، اس وقت جتنی بھی کامیابی پائی جارہی ہے، اس میں پاکستان اور حکومت پاکستان کا کردار اہم ہے۔ طالبان امریکی فوج کے انخلاء کے بغیر مذاکرات پرآمادہ نہیں تھے، اس وقت طالبان ماضی کے حالات سے سبق سیکھ کر مثبت نتائج کے لیے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن صدر اشرف غنی کی خواہش ہے کہ ابھی بھی امریکا انہیں تنہا چھوڑ کر نہ جائے ورنہ طالبان ان کا جینا حرام کردیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر امریکا بہادر اور طالبان میں ہونے والے معاہدے میں مستقبل کے لیے سیاسی طور پر مضبوط منصوبہ بندی نہ ہوسکی تو طالبان اشرف غنی کو بھی امریکا کا ساتھ دینے پر سابق افغان صدر نجیب اللہ کی طرح کابل چوک میں پھانسی پر چڑھا سکتے ہیں، اس ساری کہانی میں بحث کا راستہ صرف یہی ہے کہ ’’طالبان‘‘ امریکی انخلا کے بعد صورت حال کو کسی مربوط حکمت عملی سے انتقامی امور چلائیں گے، ورنہ افغانستان ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی میں پھنس جائے گا۔ بات جنگ بندی اور غیر ملکی افواج کے انخلا تک پہنچی ہے تو اس تاریخی صورت حال میں بھی پاکستان کا کردار ناقابل فراموش رہا، اس لیے ’’امریکا بہادر‘‘ کو غرور کرتے ہوئے کچھ تو سوچنا چاہیے، کیونکہ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔