کوئی بات سچی نہیں کوئی بات سچی نہیں

آج دنیا ایسے دور سے گزر رہی ہے، جس میں انسان جھوٹ کے عروج پر چلاگیا ہے، اگر ساری دنیا کو چھوڑ دیا جائے، صرف پاکستان کی بات کریں تو یہاں ہر خرابی کی بنیادی وجہ جھوٹ ہے، شاید لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ سچائی نقصان کا سودا ہے، آج ملک کا سارا کاروبار جھوٹ سے چلتا ہے، لوگوں نے فیصلہ کرلیا ہے، اگر صاف گوئی سے بات کی تو پھر نقصان ہی نقصان ہے، یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ 
اس ساری کائنات میں سچ ہی سب سے بڑا نقصان ہے۔ دراصل لوگوں نے فرض کرلیا ہے کہ سچائی پرانے زمانے کی باتیں ہیں، آج کا دور صرف فریب کا ہے، جب سے دنیا بنی ہے، انسان یہی سمجھ رہا ہے کہ سچائی سے گزارا نہیں ہوگا، دراصل وہ خود فریبی میں مبتلا ہے، اس کا یقین اکثر کمزور ہوجاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں ہوتا ہے، وہ بالکل سچا ہوتا اور اس کو خود دولت اور رزق کی طلب نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتے ہیں تو اس کا رزق کا بندوبست کردیتے ہیں۔ اس کی کوئی ذمے داری نہیں ہوتی، سوائے رونے یا شور ڈالنے کے، انسان اپنی زندگی کا خوبصورت وقت بغیر سچ اور جھوٹ کے بسر کرتا اور اللہ اس کا پیٹ بھرتا رہتا ہے، جب وہ شعور میں آتا ہے تو سمجھتا ہے،  اب میری ضروریات سچائی سے پوری نہیں ہوسکتیں۔ کیا غفلت کی بات ہے کہ ماں کے رحم سے لے کر سمجھ دار ہونے تک کبھی اس کو یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ میں دنیا میں ترقی کیسے کروں گا اور بغیر سچائی کے زندہ کیسے رہوں گا، جو رب انسان کو پیدا کرتا، پالتا ہے، وہ رازق بھی ہے۔ 
انسان صرف کوشش اور ہمت کا ذمے دار ہے، پھر پتا نہیں اس کے دماغ میں یہ بات کہاں سے آجاتی ہے کہ میں دیانت سے زندگی گزار نہیں سکتا۔ ایسی بات نہیں اور وہ کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے جو اس کا نصیب نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں ہر انسان کی شکل، عقل، قد اور نصیب اپنا ہے۔
دراصل انسان اپنا نصیب کم دیکھتا اور دوسروں کے زیادہ دیکھتا ہے۔ جھوٹ کبھی سچی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتا، مثلاً کوئی آدمی ریس میں حصہ لیتا ہے اور بھاگنے کے بغیر جیتنا چاہتا ہے، اس کو جھوٹ کہتے ہیں، دوڑ میں بھاگنا لازم ہے، ہر چیز کے لیے کوئی چیز لازم ہے۔ آپ جہاں جھوٹ شامل کریں گے، وہاں ہار جائیں گے۔ بے شک دولت مند ہوجائیں مگر اللہ کی نظر میں ہارے ہوئے ہوں گے۔ یہاں بہت بڑے بڑے لوگ جھوٹے ہیں، یہ سارا پاکستان جانتا ہے، بے شک وہ بہت سی دولت کے مالک ہوں، پر ہیں ناکام۔ بے شک وہ دنیا کے لیے ترقی کرچکے ہیں۔ میں نام نہیںلیتا پاکستان میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو دولت مند تو 
ہیں مگر باعزت نہیں۔ کیوں؟ وہ جھوٹے ہیں۔ سچ انسان کی معراج ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے بے شک انسان کو جھوٹ بولنے کی طاقت دی ہے مگر سچ بولنے کی طاقت میں اللہ کا قُرب ہے، جھوٹ میں رب العزت کی طرف سے لعنت ہے، اب یہ انسان کی مرضی ہے یہ قرب لے یا لعنت کا خریدار بن جائے۔ سچ سے اللہ راضی ہوتا ہے، جھوٹ سے ناراض… سچ اور جھوٹ اللہ کی طرف سے انسان کی آزمائش ہے اور آج کا انسان اللہ کی آزمائش میں ناکام ہے اور اس ناکامی کی وجہ ہے دولت۔ دولت انسانی کمزوری ہے۔ آج پاکستان کا حال آپ کے سامنے ہے۔ پورے ملک میں بددیانتی عرو ج پر ہے، جو کہتا ہے میں سچ بولتا ہوں، حلال کماتا ہوں، حلال کھاتا ہوں، وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ سچ ایسی علامت ہے جس کے لیے گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سچ خود سند ہے، اس کے لیے کسی سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ ہم سب کو سچی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔
جھوٹے جہنم کے خریدار ہوتے ہیں
ان کے سب اعمال بے کار ہوتے ہیں
کھا جاتا ہے ان کی نیکیوں کو جھوٹ فرازیؔ
یہ خدا کی نظر میں گنہگار ہوتے ہیں
سچ وہ ہتھیار ہے جس سے ابلیس بھاگتا ہے، جھوٹ وہ بدی ہے جو شیطان کو خوش کرتی ہے۔