17 نومبر 2018
تازہ ترین

کلرکہار کا ہیرو کلرکہار کا ہیرو

ضلع چکوال کا کلرکہار سے چواسیدن شاہ تک کا 27 کلومیٹر علاقہ خوبصورت ترین ملکی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس علاقے کو ’’وادیٔ کہون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پوٹھوہار کی زمین ہونے کے باعث ان علاقوں میں اونچے نیچے راستے اور پہاڑی سلسلے ہیں، جن میں جگہ جگہ چشمے تھے۔ ان درجنوں چشموں سے صدیوں سے انسان بھی پانی پیتے تھے اور چرند پرند بھی اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ کلرکہار میں ہزاروں مور پائے جاتے تھے، اس علاقے کے جنگلوں میں اڑیال اور موروں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ لوگ ان کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ہر طرف لوکاٹ اور آڑو کے باغ نظر آتے تھے۔ اس علاقے کے آڑو اور لوکاٹ دوسرے علاقوں سے بہت زیادہ میٹھے اور رسیلے ہوتے تھے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس پُرفضا اور مسحور کن وادی کو دیکھنے جاتے تھے، بیرون ملک سے آنے والے سیاح کلرکہار اور چواسیدن شاہ کے خوبصورت نظاروں میں کھوجاتے۔ 
پندرہ برس قبل اس ’’منی کشمیر‘‘ کہلانے والی وادی کہون پر دولت کے پجاریوں کی نظر پڑی، جس کے بعد اس وادی کا حُسن مُرجھانے لگا۔ صدیوں سے بہنے والے قدرتی چشمے خشک ہونے لگے۔ کلرکہار کے کٹاس راج کے مندر کا چشمہ، چک خوشی میں واقع چلہ گاہ لعل شہباز قلندر کا چشمہ، ملکانہ، وان، چواسیدن شاہ اور کلرکہار کے کئی چھوٹے بڑے چشمے پھوٹنے بند ہوئے تو مقامی لوگوں میں اضطراب پیدا ہوگیا۔ ہندوئوں کے مطابق شیونے اپنی بیوی ’’ستی‘‘ کی موت پر آنسو بہائے تو کٹاس راج کا تالاب وجود میں آیا۔ 7 صدی قبل مسیح میں بھی اس کے بارے میں روایات ملتی ہیں۔ صدیوں سے قدرتی طور پر پوٹھنے والے ان چشموںکو صرف دس بارہ برسوں میں خشک کرنے کی کہانی بھی بہت ظالمانہ ہے۔
نّوے کی دہائی میں جب لاہور سے اسلام آباد تک موٹروے بنائی جارہی تھی تو چکوال کے قریب پہنچ کر کوریا کی کمپنی ڈائیوو کو پانی لانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ اس دوران مقامی افراد نے کمپنی کے ماہرین کو ’’کٹاس راج‘‘ کے مندر کے صدیوں قدیم چشمے کے بارے میں بتایا تو ماہرین نے اس علاقے میں ’’ڈائیوو ویل‘‘ کے نام سے پانی کا ذخیرہ بنایا، جہاں زیر زمین پانی کو محفوظ کرلیا جاتا۔ اس ڈائیوو ویل سے کورین کمپنی کو کلرکہار سے اسلام آباد تک موٹروے بنانے میں آسانی ہوگئی۔ 2004 میں سیمنٹ فیکٹریاں لگانے کے لیے اس علاقے کا سروے شروع ہوا اور 2007 میں پہلی سیمنٹ فیکٹری لگ گئی۔ کلرکہار اور چواسیدن شاہ میں پہلے ڈی جی سیمنٹ فیکٹری اور پھر بیسٹ وے ون اور بیسٹ وے ٹو فیکٹریاں لگائی گئیں۔ ڈی جی سیمنٹ فیکٹری میاں منشا کی ہے جب کہ بیسٹ وے فیکٹری کے مالک انور پرویز ہیں۔ ان فیکٹریوں نے زیر زمین میٹھے پانی کو اس قدر بے احتیاطی سے نکالا کہ اگلے دس برسوں میں تمام مقامی قدرتی چشمے سوکھ گئے۔ پانی کی شدید قلت کے باعث سیکڑوں مور ہلاک ہوگئے، نایاب پرندوں کی نسل ختم ہونے لگی اور اڑیال کی نسل بھی معدوم ہوتی جارہی ہے۔ لوکاٹ اور آڑو کے باغات ماضی کا قصہ بن گئے ہیں۔ 
ماہرین کے مطابق اس علاقے میں پانی کی تین تہیں تھیں۔ پہلی دونوں تہوں کو فیکٹریوں نے استعمال کرکے ختم کردیا اور اب پانی کی تیسری تہہ چھ سو سے آٹھ سو فٹ کی گہرائی میں رہ گئی ہے۔ وادی کہون میں تین لاکھ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی مختلف دیہات اور شہری علاقے میں رہتی ہے۔ زیادہ آبادی تترال، وعولہ، ڈھلوال، دلیرپور، بادشاہ پور، ملوٹ، بہولر اور دوسرے دیہات میں آباد ہے۔ ہم نے ان علاقوں کا خود بھی دورہ کیا ہے۔ مقامی افراد جلد، پھیپھڑوں، دمے، معدے، آنکھوں اور الرجی کے مریض بن گئے ہیں۔ ان فیکٹریوں کے قیام کے وقت مشرف صدر، شوکت عزیز وزیراعظم اور پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ یہاں سے منتخب ہونے والوں میں سے کسی نے ان فیکٹریوں کے ذریعے آلودگی پھیلنے اور زیر زمین پانی کے خشک ہونے کو روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہ کیا، بلکہ اس وقت کی ضلعی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے متعلقہ محکموں نے فیکٹری مالکان کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ نواز اور شہباز شریف کی وفاقی و صوبائی حکومتوں میں ان فیکٹریوں کو آلودگی پھیلانے اور زیر زمین پانی استعمال کرنے سے روکا نہیں گیا۔
تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کلرکہار کے ایک چھوٹے سے دیہات موضع ملوٹ کی 2400کینال زمین سیمنٹ فیکٹری بنانے کے  لیے ایکوائر کی گئی۔ چند مقامی افراد نے اس کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان کے باپ دادا کی آبائی زمین بھی زبردستی ایکوائر کرلی گئی ہے۔ ان افرادمیں راجہ وسیم بھی شامل تھے، جنہوں نے ان فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور زیر زمین پانی کے خاتمے کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرنے کا بیڑا اٹھالیا۔ وہ گزشتہ پندرہ برس سے اس محاذ پر سرگرم ہیں۔ انہوں نے 2004 میں سول کورٹ چکوال میں ان فیکٹریوں کو بنانے کے لیے مختلف اداروں کی جعلی رپورٹوں کو چیلنج کردیا۔ ان کی کوششوں سے یہ معاملہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور پاکستان انوائرمینٹل لائرز ایسوسی ایش (پیلا) تک پہنچا۔ پیلا کے پلیٹ فارم سے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں یہ کیس پہنچ گیا۔ فیکٹری مالکان کے کہنے پر راجہ وسیم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئیں، ان کے اپنے ہی ضلع میں داخلے پر پابندی لگائی گئی اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ جب بات نہ بنی تو مقامی پٹواری کے ذریعے عالی شان کوٹھی، نئی گاڑی اور لاکھوں کا بینک بیلنس لے کر معاملے سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی، جو انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرادی کہ میں اپنے علاقے کی آئندہ نسلوں کو آلودگی سے پھیلنے والی بیماریوں اور پانی کی کمی سے بچانا چاہتا ہوں۔ 
یہ مقدمات گزشتہ 14 برس سے چل رہے ہیں، راجہ وسیم اب 56 سال کے ہوگئے ہیں لیکن انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ اس دوران اکتوبر 2017 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کٹاس راج مندر کے چشمے کا پانی خشک ہونے پر ان فیکٹریوں کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا۔ راجہ وسیم نے پنجاب کے محکمۂ ماحولیات، محکمۂ انڈسٹری اور دوسرے محکموں کی طرف سے جعلی انتقال سے شاملات اور قبرستان کی اراضی کو بھی سیمنٹ فیکٹریوں کا حصہ بنانے کی دستاویزات پیش کردیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے حکم نامے میں ان فیکٹریوں کو چھ ماہ میں پانی کا متبادل انتظام کرنے اور اس وقت تک دس لاکھ روپے فی کیوسک یومیہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اب ان فیکٹریوں کے ساتھ پانی کے میٹرز لگادیے گئے ہیں۔ انہیں ہر حال میں پانی کا متبادل انتظام کرنا پڑے گا۔ مقامی افراد کا کہناہے کہ راجہ وسیم کلرکہار کے اصلی ہیرو ہیں۔ ان کی کوششوں سے وادی کہون کے چشمے دوبارہ پھوٹنے اور معدوم ہوتی جنگلی حیات کے احیا کا راستہ کھل گیا ہے۔