22 فروری 2019
تازہ ترین

کلامِ اقبال اورتضمینات کلامِ اقبال اورتضمینات

حضرت اقبال کی شاعری آفاقی ہے۔ ان کے ایک ایک شعر بلکہ ہر مصرع میں ایک جہانِ معنی آباد ہے۔ چنانچہ بعد میں آنے والا کوئی شاعر ایسا نہیں جو اقبال سے متاثر نہ ہوا ہو یا جس نے شاعرِ مشرق کی عظمت کو دل سے تسلیم نہ کیا ہو۔ اردو کے بیشتر شعراء نے اقبال کے شعروں یا مصرعوں کو تضمین کر کے کلام اقبال سے استفادہ کیا ہے۔ اس کوشش میں ہمارے مزاح گو شعراء تو پیش پیش رہے ہیں۔ چنانچہ اقبال کے بعد آنے والے شعراء میں شاید ہی کوئی مزاح گو شاعر ایسا ہو جس نے شاعرِ مشرق کے کسی نہ کسی مصرعے یا شعر کو تضمین نہ کیا ہو۔ خصوصاً فرقت کاکوروی، سید محمد جعفری، مجید لاہوری، ضمیر جعفری، امیرالسلام ہاشمی، انور مسعود، شاہد الوری اوراطہرشاہ خاں جیدی نے تو علامہ اقبال کے کئی کئی مصرعوں بلکہ اشعار کی تضمین کر کے فکاہی ادب کو ایک ایسا خزینہ عطا کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔
علامہ اقبال نے خود کئی شعراء کے اشعار کو تضمین کیا ہے۔ جیسے ’’خطاب با جوانانِ اسلام‘‘ میں غنی کاشمیری کے اس شعر کی تضمین کی ہے:
غنی روزِ سیاہ پیر کنعاں را تماشا کُن
کہ نورِ دیدہ اَش روشن کند چشم زلیخا را
اِسی طرح بعض دوسری نظموں کو مثلاً ’فردوس میں مکالمہ‘، ’مذہب‘، ’تہذیب حاضر‘ اور ’مسلمان اور تعلیم جدید‘ میں بالترتیب شیخ سعدی، عبدالقادر بیدل، فیضی اور ملک قمی کے اشعار پر تضمین کی گئی ہے۔
تضمین چونکہ عام طور پر معروف و مقبول شعراء کے کلام پر کی جاتی ہے اس لیے یہ ایک طرح کا نذرانۂ عقیدت بھی ہے جو ایک شاعر دوسرے کو پیش کرتا ہے۔ برمحل تضمین سے شعر میں بلا کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال کے بے شمار مصرعوں اور شعروں کی تضمین کر کے ہمارے مزاح گو شعراء نے شاعرِ مشرق کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
مرزا محمود سرحدی کو تو اقبال کی شاعری سے خصوصی عقیدت تھی۔ انہوں نے علامہ اقبال کے کئی مصرعے تضمین کیے جن میں ایک درج ذیل ہے:
میں نے اک دخترِ ملت سے یہ اک روز کہا
حُسن کی اپنے نہ اِس طرح سے رسوائی کر
ہنس کے کہنے لگی اقبال نے فرمایا ہے
’’پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کر‘‘
مجذوب چشتی بھی کسی سے کم نہیں ، فرماتے ہیں:
اِدھر بچوں کا رونا ہے اُدھر سے ڈانٹ بیگم کی
’’یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری‘‘
رشوت کے حوالے سے عظیم الوقار فرحان کی یہ تضمین دیکھئے:
’’کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ‘‘
رشوت سے اُبھرتے ہوئے کلچر کو ذرا دیکھ
ضیاء الحق قاسمی نے بھی کیا خوب گرہ لگائی ہے:
’’میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند‘‘
اِس جُرم میںعرصے سے حوالات میں ہوں بند
اور سید ضمیر جعفری نے تو بہت گہری بات کر دی:
’’عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں‘‘
تو ہڑتالیں کرا دیتی ہے اکثر کارخانوں میں
شاہد الوری بھی تضمین کے استاد معلوم ہوتے ہیں:
میرے ابا تو نے رشوت سے کرائی سب کو عیش
’’آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے‘‘
قارئین! شوکت تھانوی کی نظم ’’شاعر کی بیوی‘‘ کا آخری شعر کیا خوبصورت تضمین ہے:
بھاڑ میں جائے یہ تیری شاعری، یہ تیرا فن
’’تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن اپنا تو بن‘‘
سید محمد جعفری نے تو اپنے اشعار میں اقبال اور غالب کے اتنے زیادہ مصرعوں کو تضمین کیا ہے کہ بعض اوقات ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر غالب اور اقبال نہ ہوتے تو سید محمد جعفری کی شاعری کیونکر معرضِ وجود میں آتی۔ نظم ’’گوشت کا مرثیہ‘‘ کا ایک شعر ملاحظہ ہو :
’’اے خدا ! شکوئہ اربابِ وفا بھی سن لے‘‘
خوگرِ گوشت سے سبزی کا گِلہ بھی سن لے
روشنی ہو گی مکانوں پہ نہ دوکانوں پر
’’برق گرتی ہے ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘
نیاز سواتی اعلیٰ مزاح گو شاعر تھے۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ وہ فکاہی ادب کو بہت کچھ دے جاتے ۔ تضمین دیکھئے:
پیش جب فہرست کی بیگم نے شاپنگ کی مجھے
میں یہ سمجھا تھا کہ ہو گی وہ نہایت مختصر
جب پڑھی ہے کھول کر تو اس قدر لمبی تھی وہ
’’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘‘
ایم ناشاد فرماتے ہیں:
بے شک میاں کے ساتھ رہے بیوی رات دن
’’لیکن کبھی کبھی اُسے تنہا بھی چھوڑ دے‘‘
انور مسعود کی تضمین کے کیا کہنے، فرماتے ہیں:
کبھی میں نے کش لگایا، کبھی کش نہیں لگایا
’’اِسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں‘‘
قارئین! آجکل یوں تو کوئی شے خالص نہیںملتی لیکن اطہر شاہ خاں جیدی کا یہ قطعہ خالص مزاح کا نمونہ ہے:
یارب دلِ جیدی میں اک زندہ تمنا ہے
تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے
اِس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو
’’جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے‘‘
صاحبو! آخر میں راقم الحروف کا تضمینی رنگ بھی دیکھتے جائیں:
ڈاکٹر قائم مریضوں سے ہے تنہا کچھ نہیں
’’موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں‘‘