"نیا پاکستان " اور "تبدیلی " کے نعرے بھی انہیں مویشیوں کی طرح ہیں، جن کو خوب پالا گیا ہے۔ لوگ ان نعروں کے صدقے واری جا رہے ہیں مگر کوئی ان نعروں کو "خریدنے" کو تیار نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کے اب وزیراعظم بن چکے رہنما، یو ٹرن لینے سے تو باز آ چکے ہیں مگر قدم ادھر سے ادھر رکھ دینے سے انہیں کوئی ہے جو روک سکے۔ انہوں نے کہا میں سیکیورٹی نہیں لوں گا، گھر کھانا کھانے یا بیگم کی دعائیں لینے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر جاؤں گا، مگر ہر اڑان سے اٹھنے والا خرچ نہیں بتایا۔ حزب اختلاف کے خورشید شاہ نے ایک اڑان کا خرچ تین لاکھ بتایا ہے جو شاید دس گنا زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہر تین گھنٹے بعد پی ایم ہاؤس سے بنی گالہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ صرف دو بار جاتے ہونگے اور خرچ بھی کم کر دیتے ہیں، دونوں ادھر ادھر کی اڑانوں کا خرچ پچاس ہزار روپے روزانہ لگاتے ہیں اور مہینے کے 25 روز تو خرچ ہوا ساڑھے بارہ لاکھ روپے ماہانہ، کوئی زیادہ تو نہیں نا۔ تو جناب سادگی کی باقی مثالیں بھی ایسی ہی ہونگی۔
پہلا حکم جاری ہوا کہ پہلی سے بارہویں کلاس تک قرآن حکیم با ترجمہ پڑھایا جائے گا۔ اچھی بات ہے مگر لوگوں نے بتایا کہ حکم تو اس سے پہلے کے وزیر تعلیم بلیغ الرحمٰن کا تھا، اگر تبدیلی لانی ہی مقصود ہے تو قرآن باترجمہ پڑھانے کی بجائے عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ نوجوان قرآن کو سمجھ پائیں۔ قرآن کا ترجمہ تو آٹھویں جماعت پاس کوئی بھی چاہے تو اپنے طور پر آسانی سے پڑھ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر زبانیں پکڑنے، داڑھیاں نوچنے، ٹھٹھہ اڑانے اور پگڑی اچھالنے کی جو ریت مقتدر پارٹی ڈال چکی ہے وہ نہ صرف یہ کہ فسطائی سوچ کی جانب لے جائے گی بلکہ بہت ممکن ہے ردعمل میں ستائے ہوئے لوگ بھی وہی لہجہ اور وہی زبان اپنا لیں جس سے صف بندی زیادہ شدید ہو جائے گی جو مستقبل کی قومی سیاست میں برداشت و رواداری کے عنصر کو یکدم مفقود کر سکتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس نوع 
کے طرزعمل کو روکنے کی خاطر اسی میڈیا ٹیم پر کنٹرول کرنے کو ایک سیل بنایا گیا ہے۔ اس سیل کو شکایت کرنے سے ایسے طرز کا ازالہ کیا جا سکے گا۔ ایسا کیا جانا شاید ممکن نہ ہو کیونکہ لوگ انفرادی طور پر بھی ایسا کر رہے ہیں اور مقتدر پارٹی کے کئی رہنماؤن کے اپنے اپنے آئی ٹی سیل ہیں، جو کسی کو بھی مزہ چکھانے یا دھول چٹوانے کو کمر بستہ رہتے ہیں۔
   تازہ ترین مثال نامور صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی کی ہے جنکے بیان کو پہلے تو غلط رنگ دیا گیا اور پھر ان کی توہین کرنے کا عمل شدومد سے شروع کیا گیا۔ اب وہ شریف آدمی ہر جگہ اپنی صفائی دیتا پھر رہا ہے۔   اختلاف نظر اور مثبت تنقید جمہوری عمل کا خاصہ ہوتا ہے۔ اگر سیاستدانوں کو ان کا کہا یاد نہ دلایا جائے، ان کے بھٹکے ہوئے قدم روکنے کا چارہ نہ کیا جائے، ان کو اپنے توڑے گئے وعدوں پر نادم نہ کیا جائے تو سیاسی فضا مسموم ہو جانے سے جمہوریت کا گلا گھٹ جائے گا۔ جمہوریت آمریت کے آگے نڈھال ہو جائے گی۔ جمہوریت کے نام پر فسطائیت طرز حکومت بن جائے گا۔
   چین کی مثال دیں یا ایران کی کسی بھی ایسے ملک کی جہاں کا نام نہاد نظام ایک پارٹی کی حکمرانی کے نام پر جمہوریت کے پردے میں چھپایا جا رہا ہو وہ انسانی نظام نہیں ہوا کرتا۔
 جہاں لوگوں کو اپنی بات کہنے کا موقع نہ ملے، جہاں لوگ اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد نہ ہوں، اسے جمہوریت کہنا جمہوریت کی توہین ہوگا۔جس طرح کی طرز فکر اور ردعمل کو مقتدر پارٹی نے انتخابات سے پہلے فروغ دیا ہے وہ کوئی سنجیدہ اور احسن نہیں ہے۔ اس انداز تخاطب اور طرز بحث کو روکنا جہاں مشکل ہے وہاں ضروری بھی۔ 
بقیہ: وسعت نظر
 

" /> Jehan Pakistan
19 نومبر 2018

کس سے منصفی چاہیں؟ کس سے منصفی چاہیں؟

لگتا ہے نئی حکومت کے بارے میں سب کو چپ رہنا چاہیے۔ کوئی تنقید کوئی اعتراض کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ صورت احوال کچھ ایسی ہے جیسے افغانستان اور عراق پر حملہ کرتے ہوئے جارج بش جونیر نے دنیا بھر کو چیتاونی دی تھی کہ اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں تو آپ ہمارے دشمن کے ساتھ ہیں۔ عمران خان، ان کے دعاوی اور طرز عمل سے متعلق آپ کچھ کہہ کے تو دیکھیں، مقتدر پارٹی کی تاحال فعال آئی ٹی ٹیم اور پارٹی کے حامی آپ کو جو سنائیں گے وہ علیحدہ مگر ساتھ ہی آپ کو پی ایم ایل این بلکہ نواز شریف کا حامی و ہمدرد قرار دے ڈالیں گے، چاہے آپ کے دل میں پی ایم ایل اور نواز شریف کے لیے ہبّہ بھر بھی جگہ نہ ہو۔
سوشل میڈیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی بھی اور کچھ بھی کہہ سکتا ہے مگر سوشل میڈیا پر مقتدر پارٹی کے فعال اراکین اور حامی لوگوں کی وجہ سے یہ چوپال "احتساب گاہ" میں ڈھل چکی ہے۔ شکر کیجیے کہ یہ پارٹی جرمنی کی سوشلسٹ پارٹی یا روس کی ابتدائی کمیونسٹ پارٹی نہیں تھی یا ان کی طرح کی نہیں تھی جو فسطائی یا اشتراکی انقلاب لائی ہوتی تب جگہ جگہ " اذیت گاہیں " قائم کی جا چکی ہوتیں۔ شہروں میں شاید گلوٹین گاڑ دیے جاتے مگر شکر ہے ایسا نہیں ہوا البتہ سوشل میڈیا پر زباں بندی کی ہر کوشش کی جا رہی ہے۔ تبدیلی کی خواہش اگرچہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے مگر انہیں کابینہ کی بنت سے تبدیلی میں پڑی دراڑ دکھائی نہیں دے رہی۔ حد تو یہ ہے کہ لال حویلی سے اٹھے ریل سوار وزیر تک کی "خر مغزی " کا دفاع وہی لوگ کر رہے ہیں جو تبدیلی لانے کے شائق تھے اور ہیں۔ تحریک انصاف کے نعروں سے لوگوں نے ابھی سے فائدہ اٹحانے کی سعی شروع کر دی ہوئی ہے۔ بقر عید کے موقع پر مویشیوں کے ایک بیوپاری نے کراچی کی مویشی منڈی میں 25 من کا بیل " نیا پاکستان" کے نام سے پیش کیا تھا جس کے وہ پچیس لاکھ طلب کر رہا تھا۔ اسی طرح 18 من کی گائے جس کا نام " تبدیلی " تھا، کے اٹھارہ لاکھ روپے مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے ان جانوروں کے ساتھ سیلفیاں تو خوب بنائیں مگر کسی نے اس قیمت پر یہ مویشی خریدے بھی یا نہیں، اس بارے میں معلوم نہیں۔
"نیا پاکستان " اور "تبدیلی " کے نعرے بھی انہیں مویشیوں کی طرح ہیں، جن کو خوب پالا گیا ہے۔ لوگ ان نعروں کے صدقے واری جا رہے ہیں مگر کوئی ان نعروں کو "خریدنے" کو تیار نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کے اب وزیراعظم بن چکے رہنما، یو ٹرن لینے سے تو باز آ چکے ہیں مگر قدم ادھر سے ادھر رکھ دینے سے انہیں کوئی ہے جو روک سکے۔ انہوں نے کہا میں سیکیورٹی نہیں لوں گا، گھر کھانا کھانے یا بیگم کی دعائیں لینے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر جاؤں گا، مگر ہر اڑان سے اٹھنے والا خرچ نہیں بتایا۔ حزب اختلاف کے خورشید شاہ نے ایک اڑان کا خرچ تین لاکھ بتایا ہے جو شاید دس گنا زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہر تین گھنٹے بعد پی ایم ہاؤس سے بنی گالہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ صرف دو بار جاتے ہونگے اور خرچ بھی کم کر دیتے ہیں، دونوں ادھر ادھر کی اڑانوں کا خرچ پچاس ہزار روپے روزانہ لگاتے ہیں اور مہینے کے 25 روز تو خرچ ہوا ساڑھے بارہ لاکھ روپے ماہانہ، کوئی زیادہ تو نہیں نا۔ تو جناب سادگی کی باقی مثالیں بھی ایسی ہی ہونگی۔
پہلا حکم جاری ہوا کہ پہلی سے بارہویں کلاس تک قرآن حکیم با ترجمہ پڑھایا جائے گا۔ اچھی بات ہے مگر لوگوں نے بتایا کہ حکم تو اس سے پہلے کے وزیر تعلیم بلیغ الرحمٰن کا تھا، اگر تبدیلی لانی ہی مقصود ہے تو قرآن باترجمہ پڑھانے کی بجائے عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ نوجوان قرآن کو سمجھ پائیں۔ قرآن کا ترجمہ تو آٹھویں جماعت پاس کوئی بھی چاہے تو اپنے طور پر آسانی سے پڑھ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر زبانیں پکڑنے، داڑھیاں نوچنے، ٹھٹھہ اڑانے اور پگڑی اچھالنے کی جو ریت مقتدر پارٹی ڈال چکی ہے وہ نہ صرف یہ کہ فسطائی سوچ کی جانب لے جائے گی بلکہ بہت ممکن ہے ردعمل میں ستائے ہوئے لوگ بھی وہی لہجہ اور وہی زبان اپنا لیں جس سے صف بندی زیادہ شدید ہو جائے گی جو مستقبل کی قومی سیاست میں برداشت و رواداری کے عنصر کو یکدم مفقود کر سکتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس نوع 
کے طرزعمل کو روکنے کی خاطر اسی میڈیا ٹیم پر کنٹرول کرنے کو ایک سیل بنایا گیا ہے۔ اس سیل کو شکایت کرنے سے ایسے طرز کا ازالہ کیا جا سکے گا۔ ایسا کیا جانا شاید ممکن نہ ہو کیونکہ لوگ انفرادی طور پر بھی ایسا کر رہے ہیں اور مقتدر پارٹی کے کئی رہنماؤن کے اپنے اپنے آئی ٹی سیل ہیں، جو کسی کو بھی مزہ چکھانے یا دھول چٹوانے کو کمر بستہ رہتے ہیں۔
   تازہ ترین مثال نامور صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی کی ہے جنکے بیان کو پہلے تو غلط رنگ دیا گیا اور پھر ان کی توہین کرنے کا عمل شدومد سے شروع کیا گیا۔ اب وہ شریف آدمی ہر جگہ اپنی صفائی دیتا پھر رہا ہے۔   اختلاف نظر اور مثبت تنقید جمہوری عمل کا خاصہ ہوتا ہے۔ اگر سیاستدانوں کو ان کا کہا یاد نہ دلایا جائے، ان کے بھٹکے ہوئے قدم روکنے کا چارہ نہ کیا جائے، ان کو اپنے توڑے گئے وعدوں پر نادم نہ کیا جائے تو سیاسی فضا مسموم ہو جانے سے جمہوریت کا گلا گھٹ جائے گا۔ جمہوریت آمریت کے آگے نڈھال ہو جائے گی۔ جمہوریت کے نام پر فسطائیت طرز حکومت بن جائے گا۔
   چین کی مثال دیں یا ایران کی کسی بھی ایسے ملک کی جہاں کا نام نہاد نظام ایک پارٹی کی حکمرانی کے نام پر جمہوریت کے پردے میں چھپایا جا رہا ہو وہ انسانی نظام نہیں ہوا کرتا۔
 جہاں لوگوں کو اپنی بات کہنے کا موقع نہ ملے، جہاں لوگ اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد نہ ہوں، اسے جمہوریت کہنا جمہوریت کی توہین ہوگا۔جس طرح کی طرز فکر اور ردعمل کو مقتدر پارٹی نے انتخابات سے پہلے فروغ دیا ہے وہ کوئی سنجیدہ اور احسن نہیں ہے۔ اس انداز تخاطب اور طرز بحث کو روکنا جہاں مشکل ہے وہاں ضروری بھی۔ 
بقیہ: وسعت نظر