22 مارچ 2019
تازہ ترین

کراچی کا کیا بنے گا؟   (1) کراچی کا کیا بنے گا؟ (1)

سندھ کے وزیراعلیٰ مُراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کے دوسرے قائدین، خورشید شاہ، نفیسہ شاہ وغیرہ تو دن رات وفاق سے جھگڑے پر آمادہ نظر آتے ہیں کہ سندھ کو اُس کے حصے کا پانی نہیں ملا، وفاق سے مالی امداد نہیں مل رہی، نیشنل فنانس کمیشن کے تحت جتنی رقم جنوبی صوبے کو ملنی چاہیے وہ نہیں دی جاتی، لیکن کاش سندھ کی حکومت ان ہی اصولوں کو کراچی پر بھی لاگو کرتی، آخر ملک کا سب سے بڑا یہ شہر ناصرف وفاق کی آمدنی میں  67 فیصد جمع کراتا ہے اور صوبائی حکومت جس کا یہ دارالحکومت ہے، اُس پر 96 فیصد جمع کراتا ہے۔ تو پھر خود اس کے اوپر کتنا خرچ کیا جاتا ہے، سوال بہت اہم ہے، جواب بھی تسلی بخش ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہوتا کیوں، مگر…؟
بے چارہ کراچی کا میئر اگر شہر کی ترقی کے لیے جائز رقم کا مطالبہ کرتا ہے تو اُسے حقارت سے جھڑک دیا جاتا ہے، جب بھی کراچی کے حق کی بات کرو تو صوبے اور کراچی کو علیحدہ کرنے کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے۔ ویسے تو پیپلز پارٹی کا ہر لیڈر وفاق سے شاکی ہے، حکومت (ن) لیگ کی ہو یا پی ٹی آئی کی دونوں ہی بُرے، صرف سندھ کی بات صحیح ہے، بہت خوب، کیا فلسفہ ہے، قربان جائیے۔ کسی ٹی وی کے اینکر نے وسیم اختر سے سوال کر ڈالا کہ آخر اس قدر شکایات کیوں؟ پیپلز پارٹی تو اچھا کام کررہی ہے۔ وسیم اختر (جو میئر ہونے کے باوجود اختیارات سے محروم ہیں) نے صرف اتنا کہا کہ اگر پیپلز پارٹی صحیح کام کرتی تو لاڑکانہ کو پیرس نہ بنادیتی، اینکرپرسن ندیم کی طرف سے بھرپور قہقہہ لگا، وہ بھی شاید جواب سے لطف اندوز ہوئے۔
آج کراچی کچرے کے ڈھیر سے اٹا پڑا ہے۔ اکثر و بیشتر علاقوں میں طوفان اور گندگی سے دماغ پھٹ جاتا ہے، لیکن پھر سوال یہی اُٹھتا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی جس نے پانچ سال بعد دو صوبائی کابینہ میں دو اردو اسپیکنگ وزیر بنائے، سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب، لیکن اُن کی کتنی 
اہمیت ہے اور آصف زرداری یا فریال تالپور کے ہوتے ہوئے، اُنہیں کس قدر آزادی سے کام کرنے کی اجازت ہے، یہ تو وہی بتاسکتے ہیں، خود پی پی پی کے اندر کئی ایک افراد بھی اس حقیقت سے ناواقف ہوں گے، سعید غنی کو بھی انتخابات میں کراچی سے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے کابینہ میں شامل کیا گیا۔ جب بات پھر بھی نہیں بنی تو مرتضیٰ وہاب کو شامل کیا گیا جو واقعی انتہائی ایمان دار، صاف و شفاف، تہذیب دار انسان ہیں۔ اگر 2013 میں برسراقتدار آنے کے بعد ہی پیپلز پارٹی والے کراچی کے لوگوں کو اہم عہدے پر فائز کرتے تو ہوسکتا ہے 2018 میں نتیجہ مختلف ہوتا۔
پیپلز پارٹی میئر کو نظرانداز صرف اس لیے کرتی ہے کہ کراچی میں چند ایک منصوبے بنا کر سارا کریڈٹ خود لے، لیکن 1970 سے اب تک ہونے والے انتخابات میں کراچی کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کو کبھی ووٹ نہیں دیا، دو یا تین نشستیں قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں اور بس، اس سے زیادہ کبھی بھی پی پی پی کراچی والوں کی حمایت نہیں حاصل کرسکی۔ 1970 میں جب کراچی کی کُل 7 قومی اسمبلی کی نشستیں تھیں۔ اُس وقت بھی پیپلز پارٹی صرف 3،2 نشست ہی جیت سکی۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں جو جنرل ضیاء الحق نے کروائے تھے، کراچی کی نشستیں بڑھا کر 13 کردی گئیں، لیکن پی پی پی پھر بھی 3 سے زیادہ نشستیں نہیں جیت سکی، 1988 میں تو ایم کیو ایم کے نوجوان لڑکوں نے کایا ہی پلٹ دی۔ الطاف حسین، ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر عمران فاروق نے بڑے بڑے برج گرادیے، پروفیسر غفور، شاہ احمد نورانی سب ہی ہار گئے۔ ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں میں ایک انقلاب برپا کرچکی تھی۔ اور پھر 22 اگست 2017 تک کسی اور پارٹی کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے سامنے کھڑی ہوسکے، الزامات تو بہت لگے، لیکن دھاندلی تو پاکستان کے سارے ہی انتخابات میں ہوئی سوائے 1970 کے، کون سا انتخاب ایسا تھا جس میں صحیح طور پر ووٹ پڑے۔ ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگے اور الیکشن کمیشن کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
آج 18 ویں ترمیم پر بات ہوتی ہے۔ آصف زرداری جن کے زمانۂ حکومت میں آئین کی تبدیلی کی گئی، اُس کی حفاظت کے سب سے بڑے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ صوبوں کی خود مختاری کی تو پروا ہے، لیکن صوبوں کے اندر شہری انتظامیہ کو آزادی کیوں نہیں دی جاتی۔ شُنید یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں لوکل گورنمنٹ قانون میں ترامیم لانے والی ہے جس کے تحت میئر کو بھی باآسانی ہٹایا جاسکے گا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ پاکستان میں جمہوریت کے معنی نظام کی حفاظت نہیں اپنے مفاد کا تحفظ ہے۔ شرم کی بات ہے۔ پیپلز پارٹی جمہوریت کی جنگ لڑنے کا خود کو علمبردار کہتی ہے، لیکن بھٹو صاحب کی جمہوری حکومت میں پریس پر ہر قسم کی پابندیاں عائد تھیں، بے نظیر (اﷲ اُن کی مغفرت کرے) خفیہ بات چیت کر
کے 1988 میں وزیراعظم بنیں۔ مذاکرات دو حضرات کے ذریعے ہوئے، جن میں سے ایک واجد شمس الحسن تھے جو بے نظیر کے دور حکومت میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین رہ چکے تھے۔ پچھلے کئی برسوں سے وہ برطانیہ میں پاکستان کے سفیر رہنے کے بعد وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 
بھٹو صاحب کے زمانے میں سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں نوکریوں کا تناسب60/40 طے کردیا گیا، لیکن اُردو بولنے والوں کے احتجاج پر توجیہہ دی گئی کہ صرف 20 سال کے لیے ہے۔ آج چالیس سال سے اوپر ہوگئے، قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی نے اپنے ہی لیڈر کے وعدے سے انحراف کیا ہے۔ حقوق اور جمہوریت کی بات کرنے والے پہلے اپنی ذمے داریاں سمجھیں، تب کہیں صوبۂ سندھ کے عوام میں یکجہتی اور تعاون کی ابتدا ہوگی۔ اﷲ کرے پی پی پی کے قائدین کو عقل آجائے۔
بقیہ: حد نظر