22 جولائی 2019
تازہ ترین

کتابت اور رقابت کتابت اور رقابت

بعض اوقات اخبارات میں کتابت کی غلطی سے اچھی خاصی سنجیدہ خبر مزاحیہ بن جاتی ہے۔ کچھ خبریں ازخود اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ انکی سنجیدگی پہ ہنسی آ جاتی ہے اور کچھ خبریں اتنی ذومعنی کہ خبر کم اور انور ؔ مقصود کی کمپیئرنگ زیادہ لگتی ہیں۔ مثلاً حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سنجیدہ خبر پڑھ کر سنجیدہ لوگوں کی بھی ہنسی نکل گئی۔ خبر کچھ یوں تھی کہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے سیاستدانوں کو حکومت کے خلاف اکٹھ میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ یہ خبر پڑھ کر ہمیں لطیفہ یاد آ گیا۔ ڈاکٹر کے کلینک کے باہر ایک بورڈ پہ بڑے بڑے حروف سے لکھاتھا، ’’یہاں سوموار، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے‘‘۔ نوٹ: ’’ہفتہ، اتوار کلینک کی چھٹی ہوتی ہے‘‘۔ یہ خبر پڑھتے ہی ذہن میں فوراً یہ خیال آتا ہے جیسے پچھلی حکومتوں کے دوران کسی ایماندار سیاستدان کو ڈھونڈا جا رہا ہو اور اسکے بعد خبر چھپے کہ اتنی قلیل مدت میں کوئی ایماندار سیاستدان نہیں مل سکا، لہٰذا ہمیں چند سال کی مزید مہلت دی جائے ۔
خبر کی سرخی میں زیر زبر پیش یا نقطہ کی کمی بیشی سے بھی خبر کی نا صرف صورت و سیرت تبدیل ہو جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو کاتب کی نادانستہ کتابت یا دانستہ شرارت سے خبر پُر معنی اور ذومعنی رنگ اختیار کر جاتی ہے۔ مثلاً، ایک اخباری خبر کی سرخی کچھ یوں تھی، ’’سیاسی لیڈر کو کرپٹ کہنے پہ قومی اسمبلی میں ہنگامہ‘‘۔ اس خبر کی سرخی میں اگر غلطی سے ’’صرف‘‘ کا اضافہ ہو جاتا تو سرخی کا مطلب مزید سنگین ہو جاتا اور سرخی کچھ یوں بن جاتی ہے کہ ’’فلاں سیاسی لیڈر کو ’’صرف‘‘ کرپٹ کہنے پہ قومی اسمبلی میں ہنگامہ‘‘۔ جس طرح ہمارے ہاں مختلف طبقوں کے لوگ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟‘‘ کا اپنی اپنی ضرورت کے مطابق مطلب نکالتے رہتے ہیں، ایسے ہی کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر قاری اپنا مقصد اخذ کر لیتے ہیں۔ مثلاً، ایک خبر کے مطابق پاکستانی سائنسدانوں نے ایک ایسا آلہ ٔ سماعت ایجاد کر لیا ہے جس کے ذریعے پیدائشی بہرے بھی مکمل طور پہ سن سکیں گے۔ یہ خبر پڑھتے ہی پاکستانی عوام نے سائنسدانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت پہ زور دیا ہے کہ یہ آلۂ سماعت فوری طور پہ سرکاری محکموں کے افسران کے کانوں میں زبردستی فِٹ کرا دیے جائیں۔ نیز اس ایجاد کے بعد سائنسدانوں کو پولیس اور کسٹم کے محکمے کے لیے ’’اینٹی رشوت ہاتھ‘‘، میونسپل کارپوریشن کے لیے ’’آنکھیں‘‘ اور سیاست دانوں کے لیے ’’آلۂ ضمیر‘‘ بھی ترجیحی بنیادوں پہ ایجاد کرنے کا کام شروع کر دینا چاہیے۔
کرکٹ اور میچ فکسنگ کو اب چولی دامن کا ساتھ مانا جاتا ہے۔ کرکٹ کلبوں کے ساتھ ساتھ اب میچ فکسنگ کلب بھی بننے شروع ہو چکے ہیں۔ جوئے اور کرکٹ کو اتنی پبلسٹی ملی ہے کہ انکا فرق پتا نہیں چلتا۔ ایک تھانے میں کسی نے اطلاع دی کہ فلاں میدان میں کھلے عام جوا ہو رہا ہے۔ تھانیدار سپاہیوں کے ہمراہ موقع پہ پہنچا تو دیکھا کہ کچھ لوگ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اسی مفروضے کے پیشِ نظر اخبار میں چھپنے والی ایک خبر ’’افغانستان کو ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ دے دیا گیا‘‘۔ اس خبر کو اگر یوں پڑھا جائے ’’افغانستان کو جوا کھیلنے کا درجہ دے دیا گیا‘‘ تو خبر زیادہ معنی خیز لگے گی۔ایک یونیورسٹی کے ایک سابق ریکٹر کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق ان صاحب نے اہل قلم پہ زور دیا ہے کہ وہ ’’محروم طبقوں‘‘ کی آواز بلند کریں۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد محروم طبقے والے سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ ان صاحب نے محروم طبقے کی صرف آواز کو بلند کرنے کا کیوں کہا ہے؟ یہ کام تو ساؤنڈ سسٹم والے بڑے بڑے سپیکر لگا کر بھی کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی ’’محروم طبقہ‘‘ تو ’’ کب کا‘‘ اپنا ’’طبقہ‘‘ تبدیل کر کے ’’مرحوم تب کا‘‘ بن چکا ہے۔
جب سے اخباروں میں یہ خبریں چھپ رہی ہیں کہ ہر دولت مند احتساب کی زد میں آئے گا، تب سے بیچارے دولت مند اسی کشمکش میں ہیں کہ آیا وہ اپنے آپ کو دولتمند ڈکلیئر کریں یا پھر چار پانچ سال اوکھے سوکھے ہو کر کاٹ لیں اور ’’نئی حکومت کی نرم پالیسی‘‘ کا انتظار کریں۔ قومی دولت کے کچھ پروفیشنل لٹیرے احتساب کا غصہ ٹھندا ہونے کا انتظار بھی کر رہے ہیں۔ انکے یقین کے مطابق ہر گرم چیز آخر کار ٹھنڈی پڑ ہی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ رقم واپس کرنے کے بجائے رقم واپس مانگنے والے کی یادداشت کھو بیٹھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ گویا وزیر اعظم عمران خان کا سیاسی اونٹ انکے موافق کروٹ بیٹھ گیا تو ٹھیک، مخالف کروٹ بیٹھ گیا تو مجبوراً اسکے اٹھنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس پہ ہمیں پھر ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ کرکٹ کا گیند کھڑکی سے ہوتا ہوا ایک دکان کے اندر گرا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک بچہ بلا اٹھائے جھجکتا ہوا دوکان کے اندر داخل ہوا۔ دوکان دار نے اس سے پوچھا۔ ’’یہ گیند تمہارا ہے؟‘‘ بچہ بولا، ’’کیا اس گیند سے دکان کا کوئی شیشہ ٹوٹا ہے؟‘‘ نہیں، دوکاندار نے جواب دیا۔ ’’پھر تو یہ میرا ہی ہے‘‘ بچے نے گیند پکڑتے ہوئے کہا۔
 ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ شادی کے دعوتی کارڈ کا مضمون صرف دکھانے کیلئے ہوتا ہے اصل میں تو دعوت دینے والا سلامیوں اور تحفے تحائف کا حساب لگا رہا ہوتا ہے کہ شادی کا کھانا کتنے میں پڑے گا؟ اسی طرح برتھ ڈے کارڈز پہ دوسرے کو مبارک دیتے ہوئے لمبی عمر پانے کی دعا دی جاتی ہے جو صرف پرنٹ شدہ کتابت ہوتی ہے۔ لمبی عمر کے حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ کسی گاؤں میں ایک سیاح نے ایک بچے سے اسکی عمر پوچھی تو بچے نے اپنی عمر ایک سو دس سال بتائی۔ سیاح نے اسے مذاق جانتے ہوئے قریب کھڑے ایک بڑے بچے سے اسکی تصدیق چاہی تو بڑا بچہ بولا، ’’یہ ٹھیک کہہ رہا ہے، میں اس کا نانا ہوں اور میری عمر دو سو سال کے لگ بھگ ہے‘‘۔ سیاح کی
حیرت دیکھتے ہوئے بچہ بولا، ’’ہمارے گاؤں میں تقریباً ہر بندے کی عمر سو برس سے زیادہ ہی ہے، اسکے علاوہ ہمارے ہاں پچھلے پچاس سال میں کوئی فوت نہیںہوا‘‘۔ اتنے میں قریب سے ایک جنازہ گزرا تو سیاح نے پو چھا، ’’تم تو کہہ رہے تھے کہ اس گاؤں میں کوئی فوت نہیں ہوتا تو پھر یہ جنازہ کس کا ہے؟‘‘ بچہ بولا، ’’مرنے والا ہمارے گاؤں کا نہیں، یہ بیچارہ ایک ڈاکٹر تھا جو شہر سے روزگار کی تلاش میں یہاں آیا اور بیروز گاری سے تنگ آ کر اس نے آخر کار خود کشی کر لی‘‘۔ 
ایسی ایجادات کا کھیل ہمارے لیے کوئی نیا نہیں کہ یہ کھیل کچھ تو ہمیں قدرت کی جانب سے ملا ہوا ہے اور کچھ ہم لوگوں نے خود اپنی فطرت بنا لیا ہوا ہے جس کے تحت ہمارا مزاج بھی اب ہمارے کنٹرول میں نہیں رہا۔ ہمارے ہاں شوہر گھر آئے اور کھانے میں روٹی گرم نہ ہو تو بات طلاق تک جا پہنچتی ہے۔ ہم روٹی گرم کھا کے ٹھنڈا پانی مانگتے ہیں۔ گرم مسالوں والے کھانوں کے ساتھ دھنیے کی چٹنی اور رائتہ کھاتے ہیں، آم کھا کے کچی لسی پیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے معدے اس گرمی سردی سے تنگ آ کر ہم سے ویسے ہی پناہ مانگتے ہیں جیسے ہم اپنی سیاست سے پناہ مانگتے ہیں۔ ہمارے موسموں کی طرح ہمارے کھانے پینے میں انتہائی گرمی سردی ہمارے مزاج اور کردار میں بھی سرائیت کر چکی ہے۔ ہم اپنے معدوں کی طرح اپنے کردار کو چین سے ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتے۔ قیمتوں کی طرح بیانات پہ کنٹرول نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے کردار فلمی کرداروں سے ملتے جلتے ہیں جس میں کہانی تو وہی رہتی ہے البتہ ہیرو ہیروئن کبھی ایک کے ساتھ اور کبھی دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے عہد و وفا کے بول بولتے نظر آتے ہیں۔ بقول انکل سرگم، اخبارات میں چھپنے والے بیانات کی کتابت اب سیاستدانوں کے سچ بولنے میں رقابت بنتی جا رہی ہے۔