17 اگست 2017
تازہ ترین

کانگو بخار…! کانگو بخار…!

کانگو بخار کا باعث بننے والے خطرناک وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں، مگر شہریوں میں اس سے آگاہی اور اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کا شعور اجاگر کیے بغیر اس مرض سے مکمل نجات اور ہلاکتوں میں کمی ممکن نہیں۔ اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے لیے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کانگو وائرس جانوروں کی کھال پر موجود خون چوسنے والے Tick (ایک قسم کا جراثیمی کیڑا، جسے عام طور پر چیچڑ کہا جاتا ہے) کے ذریعے پھیلتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس (چیچڑ) کا کام جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستے رہنا ہے، لیکن چند ایک چیچڑوں میں کانگو وائرس موجود ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اس کے کنٹریکٹ میں آتا ہے، یہ انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے، یعنی اگر متاثرہ چیچڑ کسی انسان کو کاٹ لے تو وہ فوری کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یوں کانگو وائرس جانوروں سے انسانوں اور ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 
کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین کانگو ہیمریجک فیور (Crimean congo hemorrhagic fever) ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ اس کی چار اقسام ہیں، ڈینگی وائرس (Dengue)، ایبولا وائرس (Ebola)، لیسا وائرس (LASSA)، ریفٹی ویلی وائرس (RiftVally)۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقا اور جنوبی امریکا، مشرقی یورپ، ایشیا اور مشرقی وسطیٰ میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب 
سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتا افریقی علاقوں سے چلا، اسی وجہ سے اسے افریقی ممالک کی بیماری کہا جاتا ہے۔ یہ مرض سب سے پہلے 1944 میں کریمیا میں سامنے آیا، تبھی اس کا نام کر یمین ہیمبرج رکھا گیا۔ پاکستان میں کانگو وائرس کی پہلی شکار آزاد کشمیر کے علاقے باغ کی سلمیٰ بیگم تھیں جو 6 فروری 2002 ء کو ایک مقامی کلینک پر معمولی بخار کی شکایت کے ساتھ گئیں اور 13 فروری کو ان کی موت واقع ہوگئی۔ بعد ازاں ہولی فیملی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر فرزانہ (جس نے سلمیٰ کا علاج کیا تھا) بھی دو ہفتے کے بعد 25 فروری کو موت کی آغوش میں چلی گئی۔ اس کے بعد اس مرض کی دہشت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 
کانگو وائرس کی واضح علامات یہ ہیں۔ جب کسی کو یہ وائرس لگ جائے تو اس انفیکشن کے بعد متاثرہ مریض تیز بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک 
میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے اور آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے، جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں جب کہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، متاثرہ مریض کی جلد کے مساموں سے خون رسنے لگتا ہے۔ خاص کر مسوڑھوں، ناک اور اندرونی اعضاء سے خون خارج ہونے لگتا ہے اور یوں خون بہنے کے باعث ہی مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ یہ مرض اس تیزی سے پھیلتا ہے کہ متاثرہ شخص ایک ہفتے کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جبکہ صفائی کی ناقص صورتحال سے جانوروں میں پیدا ہونے والے خطرناک چیچڑ اس بیماری میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ جانوروں کی بڑی تعداد کھیت کھلیانوں، کھلے میدانوں اور پہاڑی علاقوں میں پرورش پاتی ہے، عید قربان سے قبل انہیں شہری علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان کی بڑی تعداد میں سے چند ایک بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اگر جانوروں کی شہروں میں منتقلی کے دوران جراثیم مار اسپرے اور مناسب احتیاطی تدابیر نہ اختیار کی جائیں تو جانوروں سے انسانوں میں خطرناک بیماریوں کی منتقلی کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔ 
اس بخار کا زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو لائیو اسٹاک اور ذبیحہ خانوں سے منسلک ہوتے ہیں، ایسے تمام افراد میں یہ بخار عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہونے کا خدشہ 
ہے۔ کانگو بخار ایک سے دوسرے انسان میں خون، متاثرہ شخص کے اعضاء، رطوبت اور جسمانی تعلقات سے پھیلتا ہے جب کہ طبی عملے نے اگر اپنا حفاظتی لباس نہ پہنا ہو، ان کو متاثرہ شخص کا علاج کرتے ہوئے یہ لاحق ہوسکتا ہے، متاثرہ مریض کے لیے استعمال کیے گئے طبی آلات اگر کسی اور شخص کے لیے استعمال کیے جائیں تو وہ بھی اس مرض کا شکار ہوسکتا ہے۔ کانگو کے ٹیسٹ نہایت اعلیٰ کوالٹی بائیوسیفٹی لیب میں ہی ممکن ہوسکتے ہیں۔ جانوروں میں اس خطرناک مرض کی علامات نظر نہیں آتیں، تاہم چیچڑوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جانا چاہیے۔ اور اگر کسی بھی شخص میں کانگو فیور کی علامت نظر آئے تو اس کو فوری ہسپتال منتقل کرنا چاہیے، بلاشبہ بروقت علاج سے بہت سی جانیں بچ سکتی ہیں۔ 
اس مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں، لمبی آستینوں والی قمیص پہنیں۔ مویشی منڈی کا رخ کرتے وقت احتیاطی طور پر کپڑوں اور جلد پر چیچڑوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں، کیوںکہ بیمار جانوروں کی کھال اور منہ سے مختلف اقسام کے حشرت الارض چپکے ہوتے ہیں جن کے کاٹنے سے مختلف امراض لاحق ہوسکتے ہیں، جانور خریدنے سے قبل اچھی طرح سے دیکھ لیں کہ کہیں وہ بیمار تو نہیں، مویشی باندھنے کی جگہ پر چونے کا چھڑکائو کرتے رہیں۔ ہر ممکن احتیاط اور بروقت علاج سے ہی ان جان لیوا بیماریوںسے نجات ممکن ہے۔