کانگرس کا اجلاس خاص اور مسلمان اتحاد کانگرس کا اجلاس خاص اور مسلمان اتحاد

(13 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
داخلہ کونسل کی جماعت برادران ہنود نے بنائی، سنگٹھن برادران ہنود نے شروع کیا، شدھی کی تحریک کا آغاز بھی برادران ہنود کی طرف سے ہوا۔ غرض آج مسلمان نہایت بلند آہنگی اور جرات سے کہہ سکتے ہیں کہ تحریک ترک موالات کا خوف صرف ہندوئوں کی گردن پر ہے کیونکہ مسلمان من حیث القوم آج تک ترک موالات کی ایک شق سے بھی منحرف نہیں ہوئے اور جمعیۃ العلمائے ہند کا فتویٰ علیٰ حالہ قایم ہے۔
برادران ہنود کا یہ حال ہے کہ ان کی اکثریت آج پنڈت مدن موہن مالوی کو اپنا سب سے بڑا رہنما سمجھتی ہے جو شروع ہی سے موالاتی چلے آ رہے ہیں۔ جو ہندو باقی ہیں ان میں سے بہت بڑی تعداد جناب داس کی پیرو ہے اور شرکت کونسل کیلئے کوشش کر رہی ہے۔ بہت کم ہندو ہیں جو آج بھی مہاتما گاندھی کے تمام طریقہ ہائے کار پر قایم ہیں اور پکے تارک موالات ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو دیکھ لیجئے۔ ہم اب تک اپنے تارکِ موالات رہنمائوں کو اپنے حقیقی رہنما سمجھتے ہیں اور بدستور جمعیۃ العلمائے ہند کے حلقہ بگوش ہیں۔ مسلمانوں نے اب تک تنظیمِ قوائے اسلامیہ کی کوئی مرتب و منظم کوشش شروع نہیں کی۔ تبلیغ اسلام کی تحریک کسی قدر ہو رہی ہے اور وہ بھی مدافعانہ۔ اس لئے اس کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عاید نہیں ہوتی حالانکہ مسلمان تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کے اعمال و افعال کا ایک جزو لاینفک خیال کرتے ہیں اور ترک موالات ہو یا نہ ہوہر حالت میں اس کلام کو جاری رکھنے پر شرعاً مجبور ہیں۔
ان مختصر اشارات سے قارئین کرام کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اب تک تحریک ترک موالات کی بربادی کی تمام تر ذمہ داری ہنود کے سرپر ہے اور بحمد للہ کہ اس آلودگی سے مسلمانوں کا دامن بالکل پاک ہے۔ اگر آج ہندو چاہیں تو تحریک آزادی کو پھر زندہ کر سکتے ہیں۔ ان کی جن حرکتوں سے یہ تحریک تباہ ہوئی وہ حرکتیں ترک کر دی جائیں تو آج بھی مسلمان سب کچھ فراموش کر کے آزادی ہند کے راستے پر گامزن ہونے کیلئے آمادہ ہیں۔ اگر آج جناب داس شرکت کونسل کا جنون دماغ سے نکال کر پھر کانگرس کے نیاز مند بن جائیں، اگر پنڈت مالوی سنگٹھن کے مشاغل ترک کر کے خاموش ہو جائیں، اگر آج سوامی شردھا نند شدھی سے دست بردار ہو کر پھر تحریک آزادی کے سرگرم سپاہی بن جائیں تو آج بھی حالات کی اصلاح ہو سکتی ہے۔
ہم اپنے رہنمایان ملت اور کارکنان تحریک سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کانگرس شرکت کونسل کی تجویز کو کثرت رائے سے منظور کرے اور جمعیۃ العلما کے فتوے کا احترام نہ کرے تو وہ فی الفور کانگرس سے الگ ہو جائیں کیونکہ دنیا کی کوئی ایسی مجلس مسلمانوں کی رہنما نہیں ہو سکتی جو ہمیں علمائے اسلام کے احکام کے خلاف مشورہ دے۔
جب تک ہندو رہنمایان قوم تحریری عہد و پیمان کر کے اس امر کی ذمہ داری نہیں لیں کہ وہ شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریکات کو دبا دیں گے اور پھر ابھرنے نہ دیں گے مسلمان رہنما اور کارکن ہر گز کوئی عہد نہ کریں بلکہ کانگرس کو مجبور کریں کہ وہ پنڈت مدن موہن مالوی اور سوامی شردھا نند جی کے خلاف جنہوں نے ہندوستان کے سیاسی فواید کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے نفرت و ملامت کی قرارداد منظور کرے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اتحاد ہندو و مسلم اور تحریک آزادی ہند کادفتر تہ کر کے رکھ دیا جائے اور حضرات علما سے استفتا کیا جائے کہ ایسے حالات میں جب ہندو من حیث القوم مخالف اسلام تحریکات کے حامی ہیں، دینِ قیم مسلمانوں کو کس طریق پر عمل کرنے کی ہدایت دیتا ہے؟
سال بھر سے ہندوستان مختلف عوارض میں مبتلا ہے جن کا علاج یہی ہے کہ ملک کی بکھری ہوئی طاقتوں کو جمع کیا جائے اور ہم مندرجہ بالا تدابیر و تجاویز سے اہم و اقدم اسی امر کو سمجھتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو ہمارے تمام رہنما جن میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سبھی شامل ہیںپھر ہندوستان کی محبت سے سرشار ہو جائیں اور اس عزیز و محبوب وطن کی آزادی کیلئے کوشش شروع کر دیں کیونکہ ہندو سنگٹھن ہو یا تنظیمِ قوائے اسلامیہ ہو اس قسم کی کوئی تحریک غلامی و محکومی کی حالت میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ غلاموں کی یہ تمام تحریکات حرکاتِ مذبوجی کا حکم رکھتی ہیں۔ ان کا کوئی نتیجہ نہیںکوئی اثر نہیں۔ جو طاقت ہم سب پر مسلط کر دی گئی ہے وہ جس قوم کو کمزور کرنا چاہئے ایک جنبش قلم اور ایک اشارہ چشم سے اس کو خاک میں ملا سکتی ہے اس لئے اے بدقسمت مسلمانو اور اے بدنصیب ہندوئو، ایک دوسرے کا سر نہ پھوڑو، الگ الگ ہو کر ہندوستان کی عزت کو بٹہ نہ لگائو اور اپنے تمام ذاتی اور جماعتی مفاد سے قطع نظر کر کے ہندوستان کی سرزمین کو آزاد کرائو کہ تم سب کی نجات اسی میں ہے۔
ہم پھر ایک دفعہ مسلمان رہنمایان ملت اور کارکنان وطن کو مشورہ دیتے ہیں کہ اب کے کوئی ایسا انتظام کرو جس سے قوموں کا اتحاد ہمیشہ کیلئے مستحکم ہو جائے۔ ادھر ادھر کی لغو تحریکات کو دفن کر دو، میثاق قومی مرتب کرو اور پھر بدستور آمادہ عمل ہو جائو لیکن اگر ہندوئوں کی شوریدہ سری سے اس قسم کا انتظام ناممکن ہو تو پھر حریت ہند کی تحریک سے دستبردار ہو جائو کہ تمہاری قسمت میں غلامی ہی لکھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔