16 نومبر 2018

کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنا؟ کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنا؟

بدقسمتی سے ہمارے ہاں خصوصاً جاہل اور شوشا کے مارے الیکٹرونک میڈیا پر قابض ایک مخصوص ٹولے نے دانشوری اور لیڈری کے بھی اپنے معیار طے کر رکھے ہیں۔ ان کے نزدیک ’’معتبر اور ماہر‘‘ وہی ہیں جن کے یہ ملازم ہیں یا جو ان کے ملازم ہیں۔ اپنی زندگی ملک و قوم کے مفاد کی نذر کر دینے والے گمنام غازی، شہید اور زندہ شہید ان کی گنتی اور حساب کتاب میں نہیں آتے جبکہ اللہ کے یہ پراسرار بندے بڑی خاموشی سے اپنے کام میں ہر محاذ پر مصروف ہیں۔ یہ ان کی محنتوں اور قربانیوں کا صدقہ اور ثمر ہے کہ ہم آج ایک آزاد قوم کی حیثیت سے زندہ ہیں وگرنہ جس ملک کے ایئر پورٹ، موٹرویز بھی ’’میثاق جمہوریت‘‘ والے جمہوری تماش بینوں نے گروی رکھ دیے ہوں، وہ آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ تمام قومی ادارے سٹیل مل، پی آئی اے وغیرہ اپنی بدکرداری کی بھینٹ چڑھا دیے ہوں اس کو تو کوئی مرضی سے سانس نہ لینے دے، لیکن الحمد للہ ان کی بد اعمالیوں کے باوجود ہم زندہ و پائندہ قوم ہیں اور ان شاء اللہ شکنجے میں آئے یہ ’’سیاسی آکٹوپس‘‘ جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
میں نے ایک ایسے ہی ’’زندہ شہید‘‘ اسمٰعیل شاد صاحب سے گزشتہ دنوں صادق آباد میں ملاقات کی انہوں نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اپنی تحقیق سے آگاہ کیا تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ آئیے ان کی زبانی آپ بھی جانئے کہ یہ موذی کالا باغ ڈیم کے خلاف کیوں ہیں۔
کالا باغ ڈیم پورے ملک کے غریب عوام کے لیے ایک ایسا ڈرم جس میں برسات کے موسم میں پانی بھر لیا جائے اور بعد میں بوقت ضرورت پر ضرورت مند اس سے اپنی ضرورت کے مطابق پانی استعمال کرے، یہ حق کسی کو نہ ہو کہ وہ اس نعمت الٰہی کو ضائع کر دے۔ ہر زندہ قوم کے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو غور و فکر کر کے آنے والے وقت سے لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔ جس طرح ہمارے انجینئروں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں اپنی زراعت کو وسعت دینا ہو گی، جس کے لیے ہمیں وافر پانی درکار ہے۔ اس لیے ہر موضوع جگہ پر ہمیں آبی ذخیرے تعمیر کرنا ہوں گے۔ سیاسی ہو یا مذہبی، تاجر ہو یا مزدور اس کو اس موضوع پر بات کرنے کا حق نہیں کیونکہ آپ جس چیز کا علم نہیں رکھتے اس پر رائے دینا مناسب نہیں۔ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ خالص ٹیکنیکل مسئلہ ہے اس لیے عام آدمی کو اس بحث سے دور رہنا چاہیے۔
ہمارے کچھ سیاسی لیڈر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ ان لیڈروں میں اکثریت ان کی ہے جو اپنے آپ کو قوم پرست کہتے ہیں حالانکہ ان نام نہاد لیڈروں میں قوم پرست کوئی نہیں۔ یہ سب مفاد پرست ہیں۔ ان لوگوں نے قوم کے اندر گروہ بندی پیدا کی عوام کی سادہ دلی، کم علمی کی وجہ سے انہیں گمراہ کیا۔ قومی مفاد کے خلاف آواز بلند کر کے عوام کے مفاد کے نام پر ان سب لوگوں نے اپنے فائدے حاصل کیے۔ ملک میں جب تربیلا ڈیم بنا کچھ لوگوں نے مخالفت کر کے اپنے مفاد حاصل کیے۔ منگلا ڈیم بنا اس کے لیے بھی ہڑتالیں ہوئی، عوام کو گمراہ کیا اور حکومت سے اپنے مفاد حاصل کیے۔ یہ لوگ قومی مفاد کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکانے کے لیے ایسے الزامات لگاتے ہیں جسے عوام سمجھ نہیں سکتے اور جب تک ان کو سمجھ آتی ہے، یہ لوگ اپنے مفاد حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ 
مثلاً کراچی سے کوئٹہ روڈ بناتے وقت لسبیلہ سے وڈھ ضلع خضدار تک تقریباً 150کلو میٹر سڑک نہ ہونے کی وجہ سے کراچی سے کوئٹہ جانے کے لیے پہلے روہڑی سکھر آنا پڑتا تھا، پھر کوئٹہ تقریباً 400کلو میٹر سفر زیادہ کرنا پڑتا تھا۔ بلوچستان کے سردار یہ 150کلو میٹر روڈ بنانے نہیں دیتے تھے۔ سرداروں نے اپنی جاہل اور سادہ دل عوام کو یہ کہہ کر حکومت پاکستان کے خلاف بھڑکایا کہ اگر یہ سڑک تعمیر ہو گئی تو اس سڑک کے ذریعے تمہارے ملک میں کافر لوگ آ جائیں گے۔ وہ آپ کے گھروں، آپ کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیں گے۔ ضیاء الحق کے دور میں یہ سڑک فوج سے طاقت کے ذریعے تعمیر کرائی گئی اور جب اس سڑک پر کراچی سے کوئٹہ آمدورفت شروع ہوئی تو ان لوگوں کو ہوش آیا کہ اس روڈ سے نہ تو کافر آئے ہیں نہ کسی نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا ہے۔ ان لوگوں کا رابطہ ساری دنیا سے ہو گیا۔ ترقی ان کے گھروں تک پہنچ گئی۔     (جاری ہے)