20 ستمبر 2019
تازہ ترین

کاش اقوام متحدہ ٹاکنگ کلب ہوتا  (2) کاش اقوام متحدہ ٹاکنگ کلب ہوتا (2)

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے صدر ٹرمپ کا خطاب محض امریکی قوم کا بیان نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا ایجنڈا، دنیا کے لیے راہ عمل اور امریکی قوم کے پُر امن دنیا کے قیام کے لیے کردار کا بیان تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جہاں دنیا کو گہوارہ امن بنانے کے لیے اقدامات کا ذکر کیا تو امن کے لیے خطرہ اقوام کوآڑے ہاتھوں بھی لیا۔ مگر مسلم دنیا کے لیے اس میں کوئی خیر کی خبر نہ تھی۔ جبکہ اس کے برعکس امریکی مقاصد سے متصادم اقوام کے لیے ان کا لہجہ دھمکی تک پہنچ گیا جب انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی کہا کہ rogue regimes کی اس فورم اور اجلاس میں موجودگی امن کی نفی اور دہشت گردی کی حمایت ہے۔
مسلم دنیا کی موجودہ حالت اور صدر ٹرمپ کے خطاب کا آہنگ دو باتوں کی صاف وضاحت کر رہا تھا: ایک یہ کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیوں نہ کیا جو اندھے کو بھی نظر آ رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ عالمی برادری میں کب کسی قوم کی بات اور مؤقف کی شنوائی ممکن ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا خطاب حقیقی معنوں میں اپنے ملک اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ اور دوسری اقوام سے ایک حاکم کے رعایا سے خطاب کا نمونہ تھا۔ انہوں نے آج سے ستر سال پہلے صدر ٹرومین کے دیے ہوئے مارشل پلان کا ذکر اس طرح کیا گویا وہ امریکا کا نہیں اقوام متحدہ کا ایجنڈا تھا۔ انہوں نے مارشل پلان کے بنیادی اصولوں امن، خود مختاری، تحفظ اور خوشحالی کا ذکر تو کیا مگر فلسطین، کشمیر اور روہنگیا مسلمانوں سمیت ان محروم اقوام کا ذکر تک نہ کیا جو ان اصولوں کے نفاذ سے نا صرف محروم ہیں بلکہ طاقتور اور جابر حکمران انہیں ان بنیادی حقوق سے مسلسل محروم کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا خطاب اپنی قوم کے مفادات سے اٹوٹ وابستگی، چاہے اس سے دوسری قوموں کے مفادات پر زد ہی کیوں نہ پڑے، اپنے اتحادیوں (جنہیں وہ اپنا اتحادی سمجھتے ہیں) کی غیر متزلزل حمایت، امریکی سوچ اور آئیڈیالوجی کے مخالف نظریات کا مؤثر رد اور مخالف ممالک کے حکمرانوں پر تنقید مگر ان ممالک کے عوام سے اظہار ہمدردی اور حمایت کی وجہ سے ایک عالمی طاقت کے صدر کے خطاب کے طور پر جنرل اسمبلی کے تمام اجلاس پر چھایا رہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام نے مجھے خود طاقتور بننے کے لیے صدر منتخب نہیں کیا بلکہ اس لیے صدر منتخب کیا کہ میں امریکی عوام کو طاقتور بناؤں۔ لہٰذا ہم خارجہ پالیسی کے میدان میں اپنے لوگوں کو طاقتور بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں اور امریکا دنیا میں کسی ملک سے کوئی ایسی دوستی نہیں رکھنا چاہے گا جہاں جواب میں امریکی عوام کو کچھ نہ مل رہا ہو۔ دوستی میں ہم نظری بحثوں سے زیادہ نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔ دنیا میں جب انہوں نے امریکا کے کردار کا ذکر کیا تو یورپ کا ساحلوں، مشرق وسطی کا صحراؤں اور ایشیا کا جنگلوں کے ساتھ ذکر کر کے امریکا کی نظر میں دنیا کے ان خطوں کا مقام و مرتبہ بھی بیان کر دیا۔ امریکی قوم کے مفادات کو بقیہ دنیا پر برتر و فائق سمجھنے کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے روہنگیا میں ہونے والی اس صدی کی بدترین نسل کشی کا تو اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا جبکہ انہوں نے ایک امریکی طالبعلم اوٹو وارمبیر سے سلوک کو شمالی کوریا حکومت کے بدترین ظلم کی مثال کے طور پیش کیا اور طالب علم کا نام تک لینا نہیں بھولے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں اور مخالف ممالک کا ذکر بھی ایک طاقتور ملک کے صدر کے طور پر ہی کیا۔ شمالی کوریا کے کردار کو محدود کرنے کے لیے انہوں نے اقوام متحدہ کو واضح پیغام دینے کے بعد کہا: That’s what the United Nations is for. Let’s see how they do. یہاں صدر ٹرمپ کا لہجہ ہی بتا رہا ہے کہ وہ یہ بات اقوام متحدہ کے رکن ملک کے طور نہیں بلکہ اقوام متحدہ کو چلانے والے ملک کے طور پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بصورت دیگر we will have no choice but to totally destroy North Korea. امریکا مخالف نظریات کو جس قطعیت کے ساتھ صدر ٹرمپ نے تنقید کا نشانہ بنایا وہ ان کے عالمی طاقت ہونے کی علامت تو تھا ہی ان کی تقریر لکھنے والوں کی کمال ذہانت کا مظہر بھی تھا۔ سوشلزم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: The problem of Venezuela is not that socialism has been poorly implemented, but that socialism has been faithfully implemented. صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جہاں بھی اپنے مخالف ممالک کے حکمرانوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا وہ ان ممالک کے عوام سے اظہار ہمدردی اور انہیں ان کے ظالم حکمرانوں سے نجات دلانے کا وعدہ کرنا نہیں بھولے۔
آج اقوام متحدہ کمزور اقوام خصوصاً مسلم دنیا کے لیے ٹاکنگ کلب اور مغربی دنیا کے لیے ان کے مفادات، پالیسیوں اور نکتہ نظر کے نگران کا ادارہ بن چکا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اسے ٹاکنگ کلب بنانا ہے تو پھر اسے پوری دنیا کے لیے ٹاکنگ کلب ہی ہونا چاہیے یا یہ تمام دنیا کے لوگوں کے مفادات کا بلا امتیاز رنگ و نسل نگران اور محافظ ادارہ بنے۔ جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس ہی کو لیں اس کے ایجنڈے میں مسلم دنیا کا کوئی مسئلہ شامل نہیں کیا گیا۔ بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایجنڈا طے کرنے والی جنرل کمیٹی میں بھی مسلم دنیا کی کوئی مؤثر نمائندگی موجود نہیں۔ کیا مسلم دنیا کی طرف سے اس پر کوئی احتجاج ہوا؟ نہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ جنرل کمیٹی کی موجودہ تشکیل اور طریق کار ان اصولوں کے خلاف ہے جن کا ذکر سیکرٹری جنرل، انتونیوگوتیرش نے اپنے افتتاحی خطاب میں کیا۔ انہوں نے 12سمتبر کو موجودہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، وہ جن رہنما اصولوں کو پیش نظر رکھیں گے وہ ہیں دنیا کے مجبور و مقہور عوام کی شنوائی، معاملات میں عدل و توازن، مساوات اور شفافیت۔ جنرل اسمبلی کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے والی جنرل کمیٹی میں چھ اہم کمیٹیوں کے سربراہ، سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین، چھ افریقی ممالک کے نمائندے، پانچ ایشیائی ممالک کے نمائندے، لاطینی امریکا و یورپ کے نمائندے اور اسرائیل شامل ہیں۔ مسلم دنیا سے کسی ایسے ملک کی نمائندگی موجود نہیں جو مسائل کا شکار ہے۔ افغانستان جیسے ملک کو اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے جہاں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت موجود نہیں اور نہ وہ خطے کے مسائل کے بارے میں کوئی مناسب رائے رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ میں مغرب کی طاقتور اقوام کا طرز عمل کیا ہے، اپنے مفادات کی خاطر انہیں اس کا حق حاصل ہے، مگر مسلم دنیا کو اپنے مستقبل کے تحفظ کی خاطر خود فیصلے کرنا ہوں گے۔ مسلم دنیا کو آج دوہری ذمے داریاں ادا کرنا ہیں۔ اپنے حقوق کی حفاظت اور دنیا میں امن کا قیام۔ کیونکہ دنیا میں امن کا قیام وہی قوم یقینی بنا سکتی ہے جو خود اعتدال کی حامل ہو۔ دنیا کے موجودہ منظر نامے کو بیان کرتے ہوئے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ
پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
باز روشن میشود ایام شرق
آج انسانیت مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مبتلائے الم ہے اور زندگی ہنگاموں کی نذر ہے۔ اے اقوام مشرق تمہیں اب وہ اقدام کرنا چاہیے کہ مشرق کے تاریک ایام پھر سے روشن ہو جائیں۔
خیز و از کار امم بکشا گرہ
نشہ افرنگ را از سر بنہ
نقشے از جمعیت خاور فگن
واستاں خود را از دست اہرمن
اٹھ اور اقوام عالم کے الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کے لیے کمربستہ ہو جا۔ مغرب کی طاقت کا تاثر مسترد کر دے اور اقوام مشرق کی اپنی جمعیت کی تشکیل کر تا کہ دنیا کو ابلیسی گرفت سے آزاد کرا سکے۔