19 جنوری 2019
تازہ ترین

کاشت کار … کاشت کار …

میرا تعلق سرائیکی وسیب کے دیہاتی پس منظر سے ہے۔ یہاں اکثریت کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ سادہ لوگ ہیں، ان کو نہیں معلوم ڈالر کی اڑان کو کیسے روکا جاسکتا ہے یا آئی ایم ایف کے پاس جانا جاری بحران کا واحد حل ہے یا نہیں؟ برآمدات کیوں کم ہورہی ہیں، معیشت کیوں زبوں حالی کا شکار ہے، تجارتی انڈیکس کیا بتارہا ہے؟ انہیں اتنا معلوم ہے کہ پہلے جو کھاد کی بوری 12 سو کی تھی، اب 14سو کی ہوچکی، پہلے جس بیج کا کٹا 15سو میں آتا تھا، اب 22سو کا ملتا ہے۔ پہلے ملز وقت پر چلتی تھیں، انہیں پیسے وقت پر ملتے تھے اور وہ وقت پر نئی فصل کاشت کرلیا کرتے تھے۔ اب یہ گنے کی فصلوں کو آگ لگارہے ہیں، اب ملز وقت پر نہیں چلتیں، اب سی پی آر ان کے لیے کاغذ کا اک ٹکڑا ہے، جس سے ابھی تک پیسے نہیں نکلوائے جاسکے۔ یہ لوگ کاروبار زندگی کے اکثر فیصلے فصلوں کی کٹائی کے وقت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں، کھاد بیج والے کا ادھار چکانا ہو یا نیا ہل خریدنا، بچوں کی شادی کرنی ہو یا اگلی فصل تک کے راشن کا بندوبست کرنا ہو، آنکھوں کا آپریشن کرانا ہو یا خاندان کے ذہین بچے کو شہر کے کالج میں داخلہ دلانا، یہ تمام کام فصل کٹائی کے بعد حاصل ہونے والے محنتانے پر انحصار کررہے ہوتے ہیں۔ مگر حالیہ فصل ان تمام پریشانیوں میں اضافے کے ساتھ مستقبل کے اندیشوں کا انبار لائی ہے۔ 
ایسے ہی پریشان حال دیہاتیوں کے اک گروپ میں نسبتاً ایک بزرگ کاشت کار تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا مہنگائی کا طوفان آگیا ہے جب ان (عمران خان) کے پاس مسائل 
ا حل نہیں تھا تو عوام کو سبز باغ کیوں دکھائے؟ تحریک انصاف والے اب ہر بات پر (ن) لیگ کا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی مجرمانہ غفلتوں کا موازنہ اس سے ہی کرنا تھا تو (ن) لیگ کیا بری تھی؟ سب اک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ وہ بولے! ملک بھر میں پیسوں کا بحران ہے، کیا نوکری پیشہ کیا دکان دار، کیا ملازم کیا مالک، کیا بزنس مین کیا زمیندار، کیا مزدور کیا کارخانہ مالک، سب اس بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ خطرناک بات کہ ان کے پاس اس بحران کا حل بھی نہیں اور اس سے بھی خطرناک کہ یہ عوامی فلاح کے لیے مخلص بھی نہیں۔ زیادہ دُور نہ جائیں، شوگر مافیا کی ہی مثال لے لیں، گنے کے کاشت کار رل گئے، چیخ چیخ کر تھک گئے کہ ملز چلائی جائیں لیکن حکومت، وقت پر ملز نہ چلواسکی، باوجود اس کے کہ پنجاب میں متعدد شوگر ملز کے مالکان تحریک انصاف کے رہنما ہیں، پھر وہ جہانگیر ترین ہوں، خسرو بختیار یا پھر ہمایوں اختر۔ ان ملز مالکان کی ہٹ دھرمی کے باعث کاشت کار گندم کی فصل نہ اگاسکے۔ اس سے ناصرف اگلے سیزن میں زمیندار پھر ان ملز کے چنگل میں ہوگا، بلکہ گندم کی قلت کے باعث روٹی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ 
راقم نے عرض کی کہ بزرگوار ملک کے یہ حالات اتنے قلیل عرصے میں کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں؟ جب کہ پچھلی حکومت خزانہ خالی چھوڑ کر گئی ہے۔ اس پر بزرگ بولے کہ بیٹا میں زیادہ پڑھا لکھا تو نہیں، مگر اتنا جانتا ہوں کہ پچھلی حکومت کے خزانہ خالی ہونے کا راگ بس اک بہانہ ہے۔ 
اپنی بات سمجھانے کے لیے انہوں نے مثال دی کہ گاؤں میں بڑے زمیندار اپنی جاگیر میں سے رقبہ جات کاشت کے لیے آگے مستعار دیتے ہیں۔ اکثر غریب لوگ بڑے زمینداروں سے یہ زمین ٹھیکے پر مستعار لیتے ہیں۔ یہ ٹھیکہ ایک فصل سے لے کر کئی برسوں پر محیط ہوسکتا ہے۔ اکثر جب پرانا مزارع زمین چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ بس اپنی فصل اٹھاکر چلا جاتا ہے اور جب نیا کاشت کار آتا ہے تو اسے زمین فصل اُگانے کے لیے تیار نہیں ملتی۔ اب نیا کاشت کار بجائے اس زمین کی بوائی کرنے کے رونا شروع کردے کہ پچھلے کاشت کار نے اسے زمین ٹھیک حالت میں نہیں دی تو اس میں نئے کاشت کار سے چند دن ہمدردی تو کی جاسکتی ہے مگر فصل اگانے کے لیے 
اقدامات نہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ چلیں پچھلا کاشت کار بے ایمان تھا، مان لیا۔ اس کی وجہ سے زمین تیار کرنے میں چند دن تاخیر بھی قابل برداشت، مگر جب نیا کاشت کار زمین کو سدھارنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھائے تو یہ پچھلے کاشت کار سے بھی گیا گزرا کہلائے گا۔ آپ دیکھیں اتنے عرصے میں کیا نئے کاشت کار نے زمین میں پانی لگایا؟ پگڈنڈیوں کی کاٹ چھانٹ کی، کھالے صاف کیے، کھیتوں کا گند صاف کیا، ہل چلائے، بیج بویا، کھاد دی؟ کرنے والے پہلے دن سے ہی کام میں جت جاتے ہیں۔ لیکن یہاں تو پچھلے کاشت کاروں کا اردگرد پھیلایا گیا گند اٹھاکر بھی کھیت میں ڈال دیا گیا اور بجائے بیج بونے کے اس گند کے ڈھیر کے اوپر بیٹھ کر سر پر پٹکا باندھ کر دُہائیاں دی جارہی ہیں۔ 
کاشت کار کو خبر ہو کہ بہانے اب نہیں چلیں گے۔ انہیں اٹھنا ہوگا، کمر کسنی ہوگی، تاکہ وہ فصل تیار کی جاسکے جس کے اناج سے گھر والوں کا پیٹ بھرا جائے۔ اگر آپ کے پاس اہلیت نہیں تھی، تو زمین کا مزارع بننے کی ضرورت کیا تھی؟ اب اگلے پانچ برسوں کے لیے زمین آپ کے پاس ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس فصل اگانے کے لیے اوزار نہیں، پانی لگانے کے لیے ٹیوب ویل نہیں یا پھر بیج بونے کے لیے مددگار ساتھی نہیں تو خدارا اب بھی وقت ہے دستبردار ہوجائیں، تاکہ آپ کی ہٹ دھرمی کا خمیازہ خاندان کو قحط کی صورت نہ بھگتنا پڑے۔ مانا کہ آپ ایمان دار ہیں مگر صرف ایمان داری سے پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔ فیصلہ کریں قبل اس کے کہ دیر ہوجائے اور فصل کاشت کا وقت ہی ہاتھ سے نکل جائے۔