24 اپریل 2019
تازہ ترین

کارپوریٹ سوشل ذمے داری۔ عازمین حج کو سہولت کارپوریٹ سوشل ذمے داری۔ عازمین حج کو سہولت

دنیا بھر میں ملٹی نیشنل کمپنیاں کارپوریٹ سوشل ذمے داری کے تحت اپنی آمدن کا ایک سے دو فیصد حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرتی ہیں، جس سے کوئی ہسپتال بنا دیتی ہیں، سکول اور اسی طرح کے دیگر فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کرتی ہیں تاکہ معاشرے کے پسے طبقات بھی اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔ حکومت پاکستان ہر سال عازمین حج سے کئی ارب بہبود فنڈ جمع کرتی ہے جو عازمین پر سعودی عرب میں ادویہ اور مقامی طور پر بھرتی کیے جانے والے لوکل خدام الحجاج کے یومیہ الاؤنس اور دوسرے متفرق کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود کروڑوں روپے کا بہبود فنڈ وزارت مذہبی امور کے پاس جمع رہتا ہے، جو اس وزارت کے حکام جہاں کہیں مرضی ہو، خرچ کر دیتے ہیں۔ ہر سال کروڑوں کا بچ جانے والا بہبود فنڈ عازمین حج کی ٹریننگ پر ہی خرچ کر دیا جاتا تو آج عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ کر بھی دوسروں سے مسجد الحرام کے بارے میں پوچھ نہیں رہے ہوتے کہ کعبہ کس طرف ہے۔
وزارت مذہبی امور نے امسال کارپوریٹ سوشل ذمے داری کے تحت عازمین حج کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان  ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے حج گروپ آرگنائزرز سے مذکورہ فارمولے کے تحت ان کے کوٹہ کے دس فیصد عازمین حج کو بھیجنے کو کہا گیا، لیکن جب حج ٹور آپریٹروں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو معاملہ پانچ فیصد پر آ گیا۔ اس طرح سال رواں کے حج میں ہر ٹور آپریٹر اپنے کوٹہ کے پانچ فیصد عازمین کو سرکاری سکیم کے عازمین حج میں سے بھیجے گا، اس ضمن میں ہر حج گروپ آرگنائزر سے بیان حلفی بھی لیا جائے گا کہ وہ اپنے کوٹہ میں سے پانچ فیصد سرکاری سکیم کے عازمین حج کو بھیجے گا۔ لہٰذا جب تک وہ بیان حلفی نہیں دیں گے، انہیں حج کوٹہ کی باضابطہ اطلاع نہیں دی جائے گی۔ بیان حلفی نہ دینے کی صورت میں وہ عازمین حج کی بکنگ نہیں کر سکے گا۔
توجہ طلب پہلو یہ کہ وزارت مذہبی امور نے حج گروپ آرگنائزروں سے پانچ فیصد سرکاری سکیم کے عازمین حج کو لے جانے کا کہہ تو دیا ہے لیکن ابھی تک اس کا  طریقہ کار طے نہیں ہو سکا کہ سرکاری سکیم کے عازمین حج کو پرائیویٹ گروپوں میں بھیجنے کے لیے انتخاب کس طرح ہو گا۔ چنانچہ ہم نے سرکاری سکیم کے عازمین حج کو پرائیویٹ گروپ میں بھیجے جانے کے سلسلے میں بعض ٹور آپریٹروں سے استفسار کیا تو ان کا موقف تھا کہ اگر کسی ٹؤر آپریٹر کا پیکیج دس لاکھ روپے کا ہے تو وہ سرکاری سکیم کے عازمین حج کو چار لاکھ تیس ہزار روپے میں بھیجے جانے پر چھ لاکھ روپے اپنے پاس سے ادا کرے گا جب کہ اس کے ساتھ رہنے والے پرائیویٹ سکیم والے عازمین حج کو جب اس بات کا علم ہو گا کہ ان کے ساتھ رہنے والے حاجی نے تو صرف چار لاکھ تیس ہزار ادا کیے ہیں تو صورت حال بڑی عجیب ہو گی۔
ہمیں عازمین حج کی فلاح بہبود کے بارے میں لکھتے ہوئے لگ بھگ تیس برس ہو گئے، لیکن جو صورت حال موجودہ دور میں پیدا ہو چکی ہے کہ کوئی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن کا خواہش مند ہے اور کوئی حج کوٹہ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، ہمیں حیرت اس پر بھی ہے کہ جن کے پاس حج کوٹہ ہے، وہ بھی اپنا کوٹہ بڑھانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ اگر وزارت مذہبی امور شروع دن سے حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور ان کے درمیان کوٹہ کی تقسیم کسی قاعدے قانون کے تحت کرتی تو آج  اس طرح کی صورت حال کا اسے سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کارپوریٹ سوشل ذمے داری کے تحت عازمین حج کو اکاموڈیٹ کرنا اچھی بات ہے، لیکن پہلی بات تو یہ کہ اگر عالمی سطح پر کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت کمپنیاں ایک سے دو فیصد اپنی آمدن میں سے خرچ کر رہی ہیں تو پھر حج ٹؤر آپریٹروں کو پانچ فیصد کے لیے کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔
اب حج سیزن شروع ہو چکا ہے، وزارت مذہبی امور کے حکام کو سعودی عرب میں حج انتظامات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماہ رواں میں وزیر اور سیکریٹری مذہبی امور دورۂ سعودیہ پر جا رہے ہیں، انہیں اس دوران عازمین حج خصوصاً مدینہ منورہ میں رہائشی کرایوں میں کمی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ مدینہ منورہ میں ہر سال کرایوں میں اضافے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ مدینہ منورہ میں حجاج نے صرف ایک ہفتہ رہنا ہوتا ہے، لیکن ان کی رہائش کے کرائے میں ہر سال سو ریال سے بھی زائد اضافہ ہو جاتا ہے۔ مدینہ منورہ میں ذوالقعدہ کے پہلے ہفتے مرکزیہ میں تمام عمارات خالی ہوتی ہیں۔ حالیہ دور میں تو وزارت مذہبی امور کی نصف تعداد کے لیے رہائشی انتظامات کرنا ہوتے ہیں، لہٰذا سرکاری سکیم کے عازمین حج کی آدھی تعداد کو ذوالقعدہ کے پہلے ہفتے میں آسانی کے ساتھ مرکزیہ میں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں مدینہ منورہ میں رہائشی کرایہ بڑھانے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا۔ امید ہے کہ وزارت مذہبی امور کے حکام اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران ان تمام باتوں کو مدنظر رکھیں گے۔