20 نومبر 2018

ڈینگی مچھر اور تعلیمی ادارے ڈینگی مچھر اور تعلیمی ادارے

ڈینگی مچھر کا لاروا تلاش کرنے کے لیے دو تین افراد پر مشتمل ٹیمیں مختلف اداروں کا دورہ کرتی ہیں۔ اچھی بات کہ یہ دورے کیے جاتے ہیں لیکن کاش کوئی ایسا کام کیا جاتا کہ دورے سے پہلے ڈینگی کی روک تھام کے لیے محکمۂ صحت یا جو بھی متعلقہ محکمہ ہے، وہ کوشش بھی کرتا، تاکہ اہل وطن کو اس وائرس سے بچایا جاسکے۔ تعلیمی اداروں میں ٹیمیں بھجوانا اچھا عمل ہے لیکن ان اداروںکی مدد کرنی چاہیے، اگر سب کچھ تعلیمی اداروں ہی نے کرنا ہے تو اس محکمے کا کیا فائدہ؟ میٹرک پاس عملہ ایم فل یاپی ایچ ڈی لوگوں پہ ایف آئی آر کٹواتا ہے، جس کی ضمانت بھی 72 گھنٹے تک نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اداروں میں یہ ڈینگی ڈھونڈنے والی ٹیمیں کیوں آتی ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے اس ادارے نے خود کیا کیا؟ تعلیمی اداروںکودنیا بھر میں خصوصی مراعات دی جاتی ہیں، آسانیاں دی جاتی ہیں مگر عجیب بات کہ ہمارے نظام میں سب سے زیادہ مشکلات تعلیمی اداروں کی راہ میں حائل کی جاتی ہیں۔ 
ڈینگی ٹیمیں یوں تعلیمی اداروں میں داخل ہوتی ہیں جیسے یہ ڈینگی لاروا پالنے کی کوئی نرسریاں ہیں۔ ضروری ہے کہ محکمہ اپنا کام کرے، وقت پہ سپرے ہو، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ سپرے ہوتا بھی ہے تو صرف ان پوش علاقوں میں جہاں بااثر لوگ رہتے ہیں۔ نظام ہر سطح پہ ٹھیک ہونا چاہیے، مجسٹریٹ یا عدالت کے پاس جب اس نوعیت کی ایف آئی آر کے سلسلے میں ضمانت لینے کے لیے ادارے کا 
ایم فل یا پی ایچ ڈی سربراہ جب مجسٹریٹ کے سامنے پہنچتا ہے تو مجسٹریٹ پولیس اور ایف آئی آر دینے والوں کی سرزنش بھی کرتا ہے کہ تم نے ایک استاد کے خلاف پرچہ دے دیا۔ اس کے باوجود بھی پولیس کے کان پہ جوں رینگتی ہے اور نہ لاروا دریافت کرنے والوں کو کسی قسم کی حیا آتی ہے۔ ساری دنیا میں معلم کی عزت منفرد انداز میں کی جاتی ہے، پاکستان میں استاد کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ الیکشن ہوں تو دودو کلومیٹر الیکشن کا سامان پیدل اٹھاکر وہ لوگ جاتے ہیں جو علم کی دولت تقسیم کرتے ہیں۔ اقوام ترقی کے زینے اسی وقت طے کرتی ہیںجب وہ اپنے اساتذہ کی قدر کرتی ہیں۔ 
سرکاری ادارے اپنے فرائض اس چستی، مستعدی سے انجام نہیں دیتے جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے، یا جو انہیں کرنا چاہیے۔ ملک کی ترقی میں ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگرادارے عوام کی کارکردگی دیکھنے کے لیے آئیں تووہ ادارے خدمت نہیں درحقیقت، حاکمیت والی صورت حال اختیارکرجاتے ہیں۔ اداروںکو اپنی ذمے داریوں سے واقف ہونے کے ساتھ، اپنا فرض ادا بھی کرنا چاہیے۔ تعلیمی ادارہ خواہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، اسے آسانیاں مہیا کرنا حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اسی طرح استاد نجی ادارے کا ہو یا سرکاری وہ استاد ہی ہوتاہے، اس کااحترام کرنا چاہیے۔ اقوام کی ترقی کا جائزہ لیں تو سب سے اہم بات جو نظر آئے گی وہ استاد کا احترام ہی ہوگا۔ سکندراعظم ایک بار اپنے استاد کے ساتھ سفرکررہا تھا کہ جب وہ دریاکے قریب پہنچے تو دریا کا مزاج بپھرا ہوا تھا۔ استاد نے سکندر سے کہا کہ آپ رک جائیں، مجھے آگے جانے دیجیے۔ سکندراعظم نے کہا کہ میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ یہیں رک جائیے۔ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میری زندگی آپ سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں اگر مروںگا تو صرف آدھی دنیا کا فاتح مرے گا، مگرآپ کو کچھ ہوگیا تو کوئی دوسرا سکندر نہیں بن سکے گا۔ مگر ہمارے ہاں استاد کو ڈینگی لاروے کا مورد الزام ٹھہراکر اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ ہماری اتھارٹی تمہارے علم سے کہیں زیادہ ہے۔ ان ڈینگی لاروے تلاش کرنے والوں سے کبھی کسی نے سوال کیا کہ تم نے اس کی روک تھام کے لیے کیاکیا؟ کتنی بار علاقوں یا تعلیمی اداروں میں سپرے کیا گیا؟ اس کاکوئی موثر جواب ان کے پاس نہیں ہوتا، کہ انہوںنے کبھی ایسا کیا ہی نہیں۔ اصولاً اس متعلقہ ادارے کو بند کردینا چاہیے، اگر ساری ذمے داری تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی ہے تو یہ لوگ کس بات کی تنخواہ وصول کررہے ہیں؟ ان کی ذمے داری کیا ہے؟ کس نے انہیں اساتذہ کی تذلیل کا حق دیا ہے؟ اول تو ڈینگی کے انسداد کے لیے انہیں اقدامات کرنے چاہیے تھے لیکن ایسا نہ ہوا یہ تو آفیسر بن گئے، اپنا رعب داب ظاہرکرتے ہیں۔
اگر محکمۂ صحت اپنا کام ذمے داری سے کرے تو ممکن ہے ہم ڈینگی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ ڈینگی کی انسپکشن کے لیے جس طرح ٹیمیں دندناتی پھرتی ہیں، کاش ڈینگی کے خاتمے کے لیے بھی ٹیمیں بنائی جاتیں۔ خصوصاً تعلیمی اداروں کو اس سلسلے میں خصوصی سہولتیں دینی چاہئیں۔ اساتذہ کا احترام کرنا چاہیے، وہ قوم کے اصل معمار ہیں۔ لاروا ڈھونڈنے کے بجائے اس کے جنم کے اسباب روکنے چاہئیں۔ ایف آئی آر جو اساتذہ پہ کٹوائی جاتی ہیں، اس کا سدباب ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ اداروں کو سِیل کرنے کی دھمکیاں دینے کے بجائے وقت پہ سپرے کرنا چاہیے، تاکہ اس بیماری کے پھیلنے کے خدشات ہی ختم ہوجائیں۔ حکومت وقت کو اس پہ بھرپور توجہ دینی چاہیے۔