26 اپریل 2019
تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ اور موسمی تبدیلیاں ڈونلڈ ٹرمپ اور موسمی تبدیلیاں

 امریکا میں سردی کی شدید لہر آئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنجیدگی سے اس کی وجوہات کے ادراک کے بجائے اس موقع کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نظریے کے خلاف اپنے خیالات کے اظہار کے لیے استعمال کر ڈالا۔ یہ بات کسی عام آدمی کو سمجھانا آسان نہیں کہ قطب شمالی کے مخصوص حصے (Polar vortex) پر ہوا کی کمزور لہروں نے کیا اثرات مرتب کیے کہ امریکا اور کینیڈا شدید برفباری اور سردی کی لپیٹ میں آ گئے۔ کسی عام آدمی کی نسبت ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اپنی مشاورت کے لیے موجود سائنسدانوں کی فوج سے آسانی سے یہ بات سمجھ لیتے کہ ان کے ملک میں شدید سردی کی وجہ کیا ہے۔ ایسا کرنے کے بجائے امریکا کے غیر سنجیدہ صدر نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نظریہ کا مذاق اڑاتے ہوئے اس قسم کی ٹویٹ کر ڈالی کہ امریکا میں سخت سردی ہے تو گلوبل وارمنگ کہاں ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے ہر قسم کے مفادات کے تحفظ کی غرض سے موسمیاتی تبدیلیوں یا گلوبل وارمنگ کے نظریہ کے مخالف ہیں۔
جہاں تک گلوبل وارمنگ تھیوری کا تعلق ہے تو سویڈن کا سوانتے آرہینس دنیا کا وہ پہلا سائنس دان تھا جس نے 1896ء میں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اور زمینی درجہ حرارت کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ صنعتوں میں معدنی تیل اور کوئلے کے استعمال کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آرہینس کی تحقیق کا زمانہ یورپ کی صنعتی ترقی کا ابتدائی دور تھا۔ اس دور میں یورپی صنعتوں کا تیار شدہ مال دھڑا دھڑ نوآبادیوں میں کھپت کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔ اس دور میں تمام تر صنعتی عمل کا دارو مدار معدنی تیل اور کوئلے پر تھا۔ توانائی کے ان ذرائع کے متبادل ابھی سامنے نہیں آئے تھے، اسی لیے آرہینس کی تھیوری منافع کے حصول کی ترجیحات کے نیچے دب کر رہ گئی۔
آرہینس کی تھیوری کی مخالفت میں یہ خیال پیش کیا گیا کہ سمندروں کی وسعتیں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی تہہ میں جذب کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ کا کوئی امکان نہیں۔ 1980ء کی دہائی کے شروع تک زیادہ تر سائنس دانوں کا یہ اصرار تھا کہ دنیا برف کے دور کی طرف واپس جا رہی ہے اور زمین پر گلوبل وارمنگ نہیں بلکہ گلوبل کولنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران کولوراڈو کے قومی مرکز برائے ماحولیاتی تحقیق کے پروفیسر اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات پر بے شمار مضامین اور کئی کتابوں کے مصنف سٹیون سنیڈر نے1976ء میں یہ انکشاف کیا کہ گلوبل کولنگ نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود گلوبل وارمنگ کے نظریہ کو بین الاقوامی سطح پر اس وقت اہمیت دی گئی جب سائنس دانوں نے یہ ثابت کیا کہ صنعتی عمل کی وجہ سے 1980ء سے 1988ء تک گلوبل وارمنگ میں درجہ بدرجہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سائنس دانوں نے گلوبل وارمنگ کی وضاحت یوں کی ہے کہ سورج کی روشنی سطح زمین پر پڑتے ہی اس میں جذب ہو جاتی ہے اور بعد میں حدت کی شکل میں فضا میں خارج ہوتی ہے۔ صدیوں سے جاری یہ قدرتی عمل زمین کے اوسط درجہ حرارت میں توازن کا سبب تھا لیکن بتدریج تبدیلیوں کی وجہ سے اب ایسا نہیں ہو رہا۔ اس عمل میں پہلے تو زمین سے فضا میں خارج شدہ حدت خلا میںتحلیل ہو جاتی تھی، لیکن اب فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی حد سے زیادہ مقدار میں موجودگی کی وجہ سے سطح زمین سے منعکس ہو کر فضا میں جانے والی ساری کی ساری حدت خلا میں تحلیل نہیں ہو پاتی بلکہ اس کے بڑے حصے کو فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کا پھندا روکے رکھتا ہے اور اسی وجہ سے فضا میں اس کی موجودگی زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کا باعث بنتی رہتی ہے۔
زمین کی قدیم تاریخ کے مطالعہ سے سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا تناسب تغیر پذیر رہا ہے جو مختلف ادوار میں کبھی بڑھتا اور کبھی کم ہوتا رہا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ ہزار سال کے دوران فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا تناسب مستحکم رہا جس کی وجہ سے زمین کا اوسط درجہ حرارت بھی معتدل رہا۔ بعد ازاں جب صنعتوں کا پھیلاؤ یورپ اور شمالی امریکا کے بعد ایشیا، لاطینی امریکا اور افریقا تک جا پہنچا تو صنعتوں کو چلانے کے لیے توانائی حاصل کرنے کے ذرائع میں معدنی تیل جلنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی بڑھتا گیا جو اب گلوبل وارمنگ یا گرین ہاؤس افیکٹ میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔
اس صورتحال کی وضاحت کے لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس دان گرین ہاؤس افیکٹ اور گلوبل وارمنگ کے بجائے ماحولیاتی تبدیلی کی اصطلاح استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ہی ہوا اور سمندر کی متحرک لہریں حدت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں جس کے سبب زمین کے کچھ حصے نسبتاً ٹھنڈے اور کچھ حصے نسبتاً گرم ہو رہے ہیں۔ 
اس کے علاوہ بارش اور برف باری میں اضافہ کے ساتھ ہی موسموں کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی کی شکل مختلف علاقوں میں مختلف طور پر سامنے آ رہی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق زمانہ قدیم میں زمین کے مدار میں قدرتی تبدیلی کے عمل کی وجہ سے زمین پر برف کے ادوار آتے اور جاتے رہے ہیں لیکن اب فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے بے تحاشا اجتماع کی وجہ سے زمین کے اوسط درجہ حرارت میں جو تبدیلی آئی ہے اس کی وجہ سے زمین میں تبدیلی کے قدرتی عوامل بھی متاثر ہوئے ہیں۔ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں اضافہ اس وقت دنیا کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے، جو دن بہ دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ زمین پر موجود برف کے قدرتی ذخیرے پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ برف کے پگھلاؤ کا عمل اگر اسی طرح جاری رہا تو اس کے نتیجے میں سمندر کی سطح حد سے زیادہ بلند ہونے کا خطرہ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اگر اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ماحول میں غیر متوقع تبدیلیاں انتہائی سرعت کے ساتھ رونما ہو سکتی ہیں۔ سطح سمندر میں اضافہ کی وجہ سے موسموں کی شدت خطرناک حد تک جا سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ زمین کے کسی حصے میں تو بہت زیادہ طوفان اور بارشیں ہو سکتی ہیں اور کہیں طویل خشک سالی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ کسی مقام پر پانی کی زیادتی کی وجہ سے انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگی کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں تو کہیں پانی کی کمی کی وجہ سے ایسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو خطرے کی علامت سمجھنے کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ داری نظام کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔