24 مارچ 2019
تازہ ترین

ڈرامہ ملاقات… ڈرامہ ملاقات…

سیاست بھی عجیب کھیل ہے، صدق دل سے ایک دوسرے کے حلیف، کبھی اپنی اپنی ضرورت کے تحت ایک دوسرے سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے حریف ہوں، حریف بھی ایسے جو ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ دیں، گلے میں رسّی ڈال کر چوک پر لٹکادیں، پھر جب ضرورت پڑے تو مزاج پُرسی یا تعزیت کے نام پر اکٹھے ماحاضر تناول کرتے نظر آئیں۔
پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں عرصۂ دراز سے مفاہمت ہے، جسے مثالی کہا جاسکتا ہے، کبھی خفیہ اور کبھی اعلانیہ مفاہمت کے کئی مظاہرے گزشتہ دس برس میں دیکھنے کو ملے۔ بلاول نواز شریف ملاقات اسی سلسلے کی کڑی ہے، اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کی اس ملاقات کو حکومت دو ضرورت مندوں، ایک مجرم اور ملزم کی ملاقات کا نام دیتی ہے، جس سے بحر سیاست میں کوئی تلاطم پیدا نہیں ہوگا، البتہ خوش آمدید اور شکریہ شکریہ کے بیانات کو کچھ جگہ ضرور ملے گی۔
ملاقات جیلر کے کمرے میں نہیں تھی بلکہ پروٹوکول کا خیال رکھتے ہوئے اور جیل مینوئل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علیحدہ کمرے میں ہوئی، علیحدہ کمرے کی ملاقات بھی بعض اعتبار سے ایسی ہی ہوتی ہے جیسے درجن بھر افراد کے سامنے ہو، ملاقات کا ہر لمحہ محفوظ رکھنے کے لیے خفیہ کیمرے موجود ہوتے ہیں، ہر سانس ہر سرگوشی ریکارڈ ہوتی ہے، ملاقات کرنے والے بھی اس سے بے خبر نہیںہوتے، یوں بھی مذکورہ ملاقات  کرنے والے کسی بڑے ایجنڈے کے تحت ایک دوسرے سے نہیں ملے، وہ تو صرف یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ اگر ہماری ڈیمانڈ پر کان نہ دھرا گیا تو ہم اکٹھے ہوسکتے ہیں، ڈیمانڈ مرضی کے ہسپتال یا مرضی کے ڈاکٹر سے علاج نہیں کچھ اور ہے۔
بلاول نواز ملاقات کے بعد شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز نے بھی (ن) لیگ کے قائد سے ملاقات کی اور بعدازاں بتایا کہ اُن کی طبیعت بہت خراب ہے، انہیں کئی مرتبہ انجائنا کی تکلیف ہوئی، یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر واقعی تکلیف ہوئی تو انہوں نے کیا کیا دوائیں استعمال کیں، کیونکہ ڈاکٹر بلکہ پسندیدہ ڈاکٹر ہمراہ موجود تھا اور ہر وقت میسر ہے، مزیدبرآں ایک لائف سیونگ یونٹ جیل میں ہمہ وقت مہیا کردیا گیا ہے، کیا اس سہولت سے فائدہ اٹھایا گیا، یا اس لائف سیونگ یونٹ کو صرف یہ تاثر دینے کے لیے منگوایا گیا کہ مریض کی حالت بہت خراب ہے۔
یاد رہے کہ نواز شریف کو پاکستان کے کسی بھی ہسپتال میں علاج کی پیشکش کی جاچکی ہے، مگر  مریض ہے کہ مانتا ہی نہیں، گزشتہ ماہ انہیں لاہور  کے بہترین ہسپتال لایا گیا جہاں انہوں نے بارہ سو کمروں کا معائنہ کیا مگر انہیں کوئی کمرہ، کوئی وارڈ، کوئی وی آئی پی یونٹ پسند نہ آیا، پس انہوں نے فرمائش کی کہ انہیں واپس جیل بھیج دیا جائے وہ وہیں خوش ہیں۔
دل کے امراض میں مبتلا کسی مریض کا یہ  چلن پہلی مرتبہ دیکھا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہسپتال میں داخل ہوکر کسی قسم کے علاج میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن وہ اور ان کا حال ہی میں ایکٹو کیا جانے والا میڈیا سیل برابر یہ فضا قائم رکھنا چاہتا ہے کہ نواز شریف کو کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو اس کے ذمے دار عمران خان ہوں گے، نواز شریف جیل کے ماحول سے اکتائے ہوئے تھے اور اندر کی کہانی یہ ہے کہ جس وقت وہ ہسپتال میں کمرہ پسند اور ناپسند کررہے تھے، ان کے قانونی مشیروں نے انہیں ارجنٹ پیغام پہنچایا کہ براہ مہربانی ہسپتال میں داخل ہونے سے گریز کریں، کیونکہ ہم نے آپ کی ضمانت کی درخواست دے رکھی ہے اور اس میں موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی حالت خراب ہے، انسانی ہمدردی اور طبی بنیادوں پر انہیں ضمانت دی جائے  تاکہ وہ اپنی پسند و سہولت کے مطابق اپنا علاج کراسکیں، اگر نوازشریف ہسپتال داخل ہوجاتے تو ان کا ضمانت کا کیس کمزور ہوجاتا، فریق مخالف یہ استدلال پیش کرتا کہ علاج شروع ہوچکا ہے لہٰذا اب ضمانت کی ضرورت نہیں۔ جوں ہی نواز شریف معاملے کی نزاکت کو سمجھے، انہوں نے ہسپتال کے کمروں میں کیڑے نکالنے شروع کیے اور  جیل جانے میں ہی بہتری جانی، اب وہ اپنی پسند و خواہش کے مطابق جیل گئے ہیں لیکن ان کی ہدایت کے مطابق روز ایک نئی داستان میڈیا کے لیے جاری کی جائے گی، جس کے مطابق ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور علاج کی سہولت مہیا نہیں کی جارہی۔
بات نہایت سادہ اور آسان ہے کہ نواز شریف میڈیکل بنیادوں پر ضمانت حاصل کرکے لندن جانا چاہتے ہیں اور وہیں اپنا علاج کرانا چاہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ڈار لندن گئے اور اپنا علاج کراتے نظر آتے ہیں، سال بیت گیا ان کا علاج ابھی جاری ہے، شریف خاندان کے نیب کے مقدمات میں پلی بارگین کی سہولت موجود ہے لیکن اس قانون کے مطابق فریقین میں افہام وتفہیم ہونے کے بعد رقم کی ادائیگی  اعلانیہ ہے اور اس سے قبل اقرار جرم لازم ہے، اس قانون سے فائدہ صرف اسی طرح اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ شریف خاندان کی خواہش ہے کہ سب کچھ قانون کے مطابق لے لیا جائے مگر اسے خفیہ رکھا جائے، نشر نہ کیا جائے تاکہ فیس سیونگ رہ سکے۔
حکومت اگر ان نیب زدگان کو فیس سیونگ دیتی ہے تو اس کا اپنا فیس بگڑ جاتا ہے کیونکہ جس نعرے پر عمران خان اور تحریک انصاف کو ووٹ ملے ہیں، وہ یہی تھا کہ چوروں کو پکڑیں گے اور عوام کا لوٹا ہوا پیسہ ان سے چھین کر قومی خزانے میں واپس لائیں گے، اب اگر لوٹا ہوا پیسہ خاموشی سے قومی خزانے میں آجاتاہے اور مجرم لندن لینڈ کرجاتے ہیں، جہاں سے پہلی فرصت میں ایک بیان آجاتا ہے کہ ہم بے گناہ تھے، کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، کوئی ڈیل نہیں ہوئی، ایک روپیہ واپس نہیں کیا، حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے، اس اعلان اور بیان کے بعد حکومت کی فیس سیونگ تو دُور کی بات اس کا چہرہ ایسا بگڑے گا کہ دنیا بھر کے ماہر پلاسٹک سرجنز  مل کر بھی اس کے خدوخال درست نہیں کرسکیں گے۔ عمران خان اور ان کی حکومت پر اس حوالے سے دبائو بہت ہے کہ مریضوں کو جیل میں رکھ کر آپ نے کیا لینا ہے، رقم وصول کریں اور اپنی اکانومی پر توجہ دیں، پانچ سال یکسوئی سے حکومت کریں، قوم کی خدمت کا کوئی منصوبہ ہے تو اسے بھی عملی جامہ پہنالیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کے مزے لوٹیں، چاہیں تو اگلی ٹرم بھی اسی ڈیل میں شامل کرلیں، شریف آپ کے مقابل نہیں آئیں گے۔  پیپلزپارٹی میں اب ماضی کا دم خم کہاں، اسے بچھاڑنا تحریک انصاف کے لیے کچھ مشکل نہیں، لہٰذا دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی پر توجہ دیں۔
حکومت اور اس کے اکابرین سب کچھ سنتے ہیں، کیونکہ ان میں سے نصف کبھی مسلم لیگ میں تھے، انہوں نے ہوا کا رُخ بروقت پہچانا اور تحریک انصاف میں شامل ہوگئے، ان میں سے کسی سے بھی اس حوالے سے پوچھیں تو ایک ہی جواب ملتا ہے، خان نہیں مانتا، آج شب تک تو خان نہیں مانا، کل کی خبر نہیں، لیکن بلاول نواز کی ملاقات جیسی ڈرامہ ملاقاتیں جاری رہیں گی۔