22 نومبر 2018
تازہ ترین

ڈرامہ جاری ہے ڈرامہ جاری ہے

 ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کے دوران ماحول انتہائی جذباتی رہا، ارکان اسمبلی کی اکثریت افسردہ نظر آئی، جب نوازشریف نے عبوری وزیراعظم کے لئے شاہد خاقان عباسی کا نام پیش کیا تو وہ آبدیدہ ہوگئے، اس سے قبل جب مشاورتی اجلاس میں نوازشریف نے وزارت عظمی کے لئے شاہد خاقان عباسی کا نام لیا تو ان کا اصرار تھا کہ کسی اور کو امیدوار نامزد کر دیں، انہوں نے نوازشریف سے کہاکہ آپ کی نااہلی کی وجہ سے اس عہدے کے لئے مجھے نامزد کیا جا رہا ہے اس لحاظ سے یہ کوئی خوشگوار موقع نہیں۔ جب سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ میں آپ کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تو کئی ارکان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ نوازشریف صاحب Change the law and come back جس پر نوازشریف نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اب تو میں جا رہا ہوں جس پر سعد رفیق، سیما جیلانی نے ردعمل میں کہا کہ میاں صاحب آپ یہ الفاظ استعمال نہ کریں، ہمارے دل دکھی ہیں، مزید دکھی نہ کریں۔ نوازشریف نے ارکان اسمبلی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں فکر نہ کریں، آپ سے ملاقاتیں جاری رہیں گی، میں آپ کو رائے ونڈ بلاتا رہوں گا، آپ لوگ دل تھوڑا نہ کریں، میں آپ کے ساتھ رہوں گا، انتخابی مہم کے دوران آپ لوگوں کے حلقہ انتخاب میں آ کر جلسوں سے خطاب کروں گا جس پرارکان اسمبلی کچھ مطمئن دکھائی دیئے، رکن قومی اسمبلی زیب جعفر اجلاس کے دوران مسلسل روتی رہیں جنہیں وزیراعظم نے دلاسا دیا، نوازشریف جب ہال میں داخل ہوئے تو ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور خوب نعرے بازی کی، اقلیتی رکن جارج خلیل نے دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگوائے،ان کی تقلید میں ٟنٞ لیگ جاپان کے صدر ملک نور اعوان نے بھی نعرے لگانا شروع کر دیئے لیکن اس پر ہال میں سناٹا ہی چھایا رہا۔ قبل ازیں نوازشریف پنجاب ہائوس آئے تو لیگی رہنما بجاش خان نیازی نے مرکزی دروازے پر استقبال کیا، سابق وزیراعظم نے استفسار کیا آپ کہاں غائب ہیں تو بجاش خان نے جواب دیا کہ ہمیشہ کی طرح مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہوں۔ è    دریں اثنائ اسلام آباد میںہمارے ایک سرگرم اور متحرک رپورٹر، رانا ابرار خالد کی خبر کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں حاصل کئے گئے9 ارب ڈالر مالیت کے بیرونی قرضہ کا ریکارڈ غائب ہوگیا ہے۔ ذمہ دار ذرائع نے ہمارے اس رپورٹر کو بتایا کہ اقتصادی امور ڈویږن کے ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2013ئ سے لے کر 30 جون 2017ئ کے عرصے میں 35 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کئے جن میں سے 17ارب ڈالر سابق غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لئے استعمال کئے گئے جبکہ بقیہ 18 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل کئے گئے۔ اس کے برعکس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق 28 جون 2013ئ کو مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 6 ارب ایک کروڑ ڈالر تھے جو 21 جولائی 2017ئ تک بڑھ کر 15 ارب ڈالر ہوگئے، اس طرح گذشتہ تقریباً چار سال کے عرصے میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 8ارب 99 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ وفاقی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائرکو بڑھانے کے لئے 18 ارب ڈالر غیرملکی قرضہ حاصل کیا، اس طرح مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے لیا گیا 9 ارب ایک کروڑ ڈالر کا قرضہ ریکارڈ سے غائب ہے جو نہ تو سابقہ قرضوں کی واپسی کے لئے استعمال کیا گیا جبکہ نہ ہی مذکورہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل ہوئی۔ اقتصادی امور ڈویږن کے ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بتا سکتے ہیں کہ مذکورہ رقم کہاں اور کس مد میں خرچ کی گئی۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس بھی 9 ارب ایک کروڑ ڈالر کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ واضح رہے کہ 15 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مارچ 2014ئ میں سعودی ارب سے بطور تحفہ ملنے والے 1.5ارب ڈالر بھی شامل ہیں، اس طرح گذشتہ دور حکومت میں عالمی مالیاتی اداروں سے لیا گیا 10 ارب 50 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ وزارت خزانہ کے ریکارڈ سے غائب ہے۔ è    ممکن ہے بعض قارئین اس کا یقین نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان حالات میںجب سٹیل مل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس اسلام آباد میں منعقدہ ہوا تو اس میں ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کرنے والے فولاد سازی کے عظیم الشان کارخانے کی بحالی کے بجائے ادارے کی اراضی کی کوڑیوں کے مول فروخت پر توجہ مرکوز رہی اور ہزاروں ایکڑ قیمتی زمین کو مارکیٹ سے کہیں کم قیمت پر فروخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں افسران کی ترقیاں، ادارے کی قیمتی اراضی کی مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت اور کفایت شعاری کے معاملات ایجنڈے پر تھے تاہم بورڈ اجلاس میں کسی بھی لمحے ادارے کی بحالی اور نئے بزنس پلان کی تیاری کے حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ بورڈ اجلاس میں سی پیک منصوبے کے تحت اسپیشل اکنامک زون کی تعمیر کے لئے سٹیل مل کی 1500 ایکڑ اراضی کی فروخت کی بھی منظوری دی گئی اور اس کے لئے فی ایکڑ قیمت کا تخمینہ محض ایک کروڑ 40 لاکھ روپے لگایا گیا جبکہ مارکیٹ میں مذکورہ اراضی کی قیمت دو یا اڑھائی کروڑ روپے فی ایکڑ کے درمیان ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دو اراکین کو بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع فراہم کیا گیا اور انہیں بھی سات اور نو ایکڑ کے دو پلاٹس فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ è    ہر طرح کے حالات میں چونکا دینے والی کارکردگی کے حوالے سے اپنی شہرت برقرار رکھنے والی پنجاب پولیس کی طرف سے سیکرٹ سروس اخراجات کے نام پر 33 کروڑ روپے اضافی استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ گذشتہ مالی سال میں 47 کروڑ 93 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی جبکہ مختص رقم صرف 14 کروڑ 88 لاکھ تھی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے ہر سال سیکرٹ سروس کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد اشتہاری ملزموں، دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور تخریب کاروں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والے مخبروں کو انعام کے طور پر مالی فائدہ دینا ہوتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے احوال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس افسر اپنی جیب سے مخبروں کو خوش کرتے تھے لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق اب یہ رقم ضلع میں تعینات ایس پیز، انسداد دہشت گردی فورس، سپیشل برانچ اور حکومت کو بانٹ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات اس رقم سے ممنوعہ اشیائ بھی خریدی جاتی ہیں جن میں راکٹ لانچر، لسننگ ڈیوائس اور سی ڈی آر مشینیں شامل ہیں چنانچہ اب سیکرٹ فنڈ کا غلط استعمال بہت کیا جاتا ہے، جیسے ملزم کو پولیس خود گرفتار کر لے لیکن مخبر کے نام پر رقم جاری کروا لینا یا پھر فرضی مخبر کو پیش کرکے انعام حاصل کر لینا۔ اس بارے میں جب سابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس سرمد سعید سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈ پولیس کی مدد کے لئے کم اور حکومت اپنے کاموں کے لئے زیادہ استعمال کرتی ہے۔ اگر کسی منصوبے کی تکمیل کے مراحل میں رقم کی ضرورت پڑ جائے تو اس فنڈ کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ صرف 2016-17ئ کے جاری کردہ فنڈ کی بات کی جائے تو پولیس نے 33 کروڑ روپے سے زائد اضافی رقم استعمال کی چونکہ اس فنڈ کی تفصیلات ہر عام و خاص کو مہیا نہیں کی جاتیں اس لئے پولیس حکام اس فنڈ میں من مانی کرتے ہیں اور منظور نظر افسروں کو اس سے انعام بھی دلواتے ہیں۔   ٟپردہ گرتا ہے، پردہ گرا ہی رہے تو بہتر ہےٞ