20 ستمبر 2018
تازہ ترین

چین و عرب ہمارا چین و عرب ہمارا

ہمارے ہردل عزیز کپتان عمران خان نے جب یہ بیان دیا کہ اگر ڈیم نہ بنے تو پاکستان خدا نخواستہ 2025ء میں قحط سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انکل سرگم کو یہ بیان سُن کر تسلی ہوئی کہ ڈیم بنے نہ بنے وہ سن دو ہزار پچیس تک تو زندہ رہے گا، ورنہ جس قسم کا ماحول مل رہا ہے، جس قسم کی دو نمبر خوراک اور دوا مل رہی ہے اس لحاظ سے عمران خان صاحب کا بیان حیات افزا لگ رہا ہے۔ دیکھا جائے تو شاید عمران یہ سوچ کر اب پچھتا رہے ہوں کہ وہ بھی کیا اچھے دن ہوا کرتے تھے جب وہ اپنے گھر میں سکون کی نیند سوتے تھے، جو جی میں آئے کھاتے تھے جب جی کرے تو ورزش کرتے اور دوستوں سے گپیں لگاتے تھے۔ اب تو یہ حال ہے کہ ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ انہیں چین سے سونے کہاں دیتا ہو گا؟ انہیں تو اب اُس پرائے گھر میں سونا پڑتا ہو گا جو کبھی کسی کا اپنا نہ ہوا، وہ تو اب ملازموں سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے ہونگے کہ آج تم لوگوں نے کیا پکایا ہے؟ میں بھی تمہارے ساتھ کھانا کھاؤں گا۔ اب تو ان کا کھانا پروٹو کول کے حساب سے پہلے چیک کیا جاتا ہو گا۔
اب تو انہیں گپیں مارنے کے بجائے بور گفتگو سے اپنا جی مارنا ہو گا۔ وہ اب دن گنتے ہوں گے کہ ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج تک جو کہا وہ پورا کیا۔ مجھے یہاں وہ واقعہ یاد آیا جب میں اپنی ٹیم کے ہمراہ عمران خان کے تعلیمی پروگرام کے لیے شوز کیا کرتا تھا۔ ایک بار راولپنڈی کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ان سے ملاقات ہوئی تو وہ بولے، فاروق تم نے اپنے تعلیمی شوز کی پبلسٹی کیلئے اپنے پپٹس کے ساتھ میری تصویر بنانی تھی، میں کل آسٹریلیا ورلڈ کپ کھیلنے جا رہا ہوں اس لیے وہ تصویر آج ہی بنا لیتے ہیں۔ میں نے سوچا رات کے دس بجے ہیں، میں کپتان کو اس وقت اپنے فلیٹ میں کہاں لے جاؤں گا؟ چنانچہ میں نے جواب دیا خان صاحب آپ آسٹریلیا سے واپس آ جائیں تو تصویر بنا لیں گے۔ وہ بولے، اگر ہم ورلڈ کپ نہ جیت سکے تو میں بھلا پاکستان واپس کیسے آؤں گا؟ پھر بولے، تم فکر نہ کرو  انشا اﷲ میں ورلڈ کپ لے کر ہی لوٹوں گا۔ میں نے بھی آمین کہہ دیا۔ اور پھر کپتان صاحب نے وہی کر کے دکھایا جو کہا تھا۔ ہسپتال بھی بنا، یونیورسٹی بھی بنی اور کے پی کے میں مثالی حکومت بھی۔ بات ہو رہی تھی عمران خان کے بیان کی۔ ہم انہیں اس بات پہ دعا دیتے ہیں کہ انہیں کیا ضرورت تھی ہم جیسے بدھو لوگوں کے لیے فلاح و بہبود کا کام کرنے کی؟ وہ تو دنیا بھر میں جانے پہچانے جاتے ہیں، ان کی دنیا بھر میں عزت ہے، شہرت ہے، ہم نے تو ساٹھ ستر سال میں ایسا مخلص انسان پاکستان میں نہیں دیکھا جو اپنے بجائے ملک کی بھلائی کا سوچتا ہو۔ ورنہ اس سے پہلے تو ہم شتر بے مہار کی طرح منہ اُٹھائے ستر سال سے منزل ہی تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ بقول انکل سرگم ہم شاید اپنے سیاسی راہنماؤں کی بتائی ہوئی راہ پہ آج تک اس لیے نہیں چل پائے کہ اگر عوام اپنے اپنے سیاسی راہنماؤں کے پیچھے ان کی راہ پہ چلتے تو چلتے چلتے آدھے عوام ملک سے باہر ہوتے اور آدھے اٹک، لانڈھی یا اڈیالہ جیل میں۔
اخبارات اور ٹی وی چینلز پہ ہم روزانہ اپوزیشن کے بیانات پڑھتے اور دیکھتے سنتے رہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔ اس طرح کے بیانات کو پڑھ سُن کر ہمیں ایک لطیفہ یاد آیا۔ ایک الیکٹریشن اپنے شاگرد کے ساتھ ایک جگہ کام کر رہا تھا۔ کرنٹ چیک کرنے کا آلہ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے شاگرد کے ہاتھ میں ایک ننگی تار تھمائی اور بولا ’’ہاتھ لگا کر چیک کرو، اس میں کرنٹ ہے؟‘‘ شاگرد نے تار چھو کر کہا ’’نہیں استاد جی، اس تار میں تو کرنٹ نہیں ہے‘‘۔ استاد نے کہا ’’اب دوسری تار چھو کر بتاؤ، اس میں کرنٹ آ رہا ہے؟‘‘۔ شاگرد نے دوسری تار کو چھو کر بتایا کہ اس میں بھی کرنٹ نہیں۔ اس کے بعد استاد نے اطمینان سے تار پکڑ کر کام کرنا شروع کر دیا۔ شاگرد نے ہچکچاتے ہوئے استاد سے پوچھا، ’’استاد جی، اگر تار میں کرنٹ ہوتا تو میں تو کرنٹ لگنے سے مر بھی سکتا تھا؟‘‘ استاد بولا، ’’تم جیسے بے وقوفوں کی وجہ سے ہی تو ہم  زندہ ہیں، یہی تو میں تمہیں سکھلانا چاہتا تھا‘‘۔ گویا ہمارے لیڈر ہماری بیوقوفیوں کی وجہ سے ہی تو زندہ تھے مگر اب شاید ان کا بس نہیں چلتا یا پھر عوام کو ہوش آ چکا ہے۔
ایک اور خبر کے مطابق حال ہی میں دو سیاست دانوں کی بیگمات ایک بڑے ہوٹل میں کسی فنکشن کے دوران ایک دوسرے سے ملیں اور ایک دوسرے کا حال و احوال پوچھتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ وہ دونوں اپنے اپنے شوہروں کی وجہ سے اتنا عرصہ ایک دوسرے سے نہ مل سکیں۔ ان کے قریب کھڑی ایک خاتون نے ازراہِ تجسس پوچھا، ’’کیا آپ دونوں کے شوہر آپ کو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتے تھے؟‘‘ تو ایک سیاستدان کی بیوی ہنس کر بولی، ’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں، دراصل ہمارے شوہر حضرات جب اقتدار میں تھے تو ان کے ساتھ ہمیں بھی کسی سے ملنے کا وقت نہیں ملتا تھا، آج کل چونکہ وہ جیل میں ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں گھومنے پھرنے کی آزادی ہی آزادی ہے‘‘۔ انکل سرگم کا یہ خبر پڑھ کر کہنا ہے کہ ’’عورتوں کی آزادی کی خاطر مردوں کا جیل جانا بنتا ہے‘‘۔
وزیر اعظم عمران خان صاحب نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک بیان میں یہ انکشاف کر ڈالا تھا کہ ’’نواز شریف بے وقوف وزیرِ اعظم تھے‘‘۔ عمران خان کے اس انکشاف سے اُن نعرے بازوں کو تشویش لاحق ہو گئی تھی جنہوں نے یہ نعرے لگائے تھے کہ ’’قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں عمران خان پہلے بتا دیتے تو وہ کم از کم نعرے کی عبارت تبدیل کر کے یہ نعرہ لگاتے کہ ’’قدم بڑھاؤ بے وقوف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ بقول انکل سرگم، نواز شریف صاحب کے جیل جانے کے بعد نوازشریف کی نون لیگ پارٹی نے جس جس قسم کے بیانات دینا شروع کیے ہیں ان کی ورائٹی دیکھ کر اندازہ ہوتا کہ پارٹی فیل ہو نہ ہو، پارٹی کے بیانات کی بریکیں فیل ہیں۔ بالکل ویسے جیسے کسی ریلوے اسٹیشن پہ اناؤنسمنٹ ہوئی ’’جنوب کی طرف سے آنے والی ایکسپریس ٹرین پلیٹ فارم نمبر چار پہ آ رہی ہے۔ دس منٹ کے بعد پھر اناؤنسمنٹ ہوئی کہ ٹرین اب پلیٹ فارم نمبر چار کے بجائے پلیٹ فارم نمبر چھ پہ داخل ہو رہی ہے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد لاؤڈ سپیکر پہ وہی آواز پھر گونجی، ’’حضرات، ایکسپریس ٹرین بریک فیل ہونے کی وجہ سے اب کسی بھی پلیٹ فارم میں داخل ہو سکتی ہے‘‘۔ تو جناب کسی نے جب ہم سے یہ پوچھا کہ ہمارا تعلق کس سیاسی پارٹی سے ہے، تو ہم نے جواب دیا کہ ہمارا تعلق اُس پارٹی سے ہے جو ابھی تک نہیں بنی یعنی پاکستان پارٹی۔ ہم ہر اُس پارٹی سے ہیں جو پاکستان کے لیے کام کرتی ہے، جو پاکستان سے سچی محبت کرتی ہے اور جو پاکستان کے عوام کا درد سمجھتی ہے۔ ہمیں شاید یہ سب کچھ تحریک انصاف میں نظر آیا، چنانچہ ہم اب اس پارٹی سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ ویسے بھی ہم عوام کا کام ستر سال سے آس لگائے بیٹھنا ہی ہے کہ شاید مستقبل کے اڑتے ہوئے دھندلے غبار میں ہمیں خوش حالی کی وہ منزل مل جائے جسے دیکھنے کو ہماری آنکھیں ترس گئی ہیں۔ خدا کرے عمران خان ہمارے ان خوابوں کی تعبیر بنے ورنہ پھر انکل سرگم کے کہے ہوئے یہ اشعار سچ ثابت ہو جائیں گے کہ
چین و عرب ہمارا، ایران بھی ہمارا
ویزہ نہیں ہے ملتا، سارا جہاں ہمارا