21 نومبر 2018
تازہ ترین

چین جانے کی ضرورت نہیں…! چین جانے کی ضرورت نہیں…!

گزرے زمانے کا ذکر ہے، ویڈیو کی ایجاد ہوچکی تھی لیکن غریب اور پسماندہ ملکوں تک یہ نہیں پہنچی تھی، البتہ آڈیو گھر گھر تھی، اس کو آڈیو کا زمانہ کہہ سکتے ہیں، چونکہ سننے سنانے کا دور تھا، لہٰذا بزرگ اپنے بچوں کو اچھی اچھی سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے تھے اور بچّے بھی ذوق وشوق سے سنتے تھے، والدین کو چولہا جھونکنے اور فکر روزگار سے فرصت ہی نہ ہوتی تھی، لہٰذا گھر کی نانیاں، دادیاں یہ فرض نبھاتیں، جن والدین نے نانیوں دادیوں کو چھوڑ کر الگ گھر بسائے تھے، ان کے بچوں کو ان بزرگوں سے سال میں چھٹیوں کے دوران ملنے کا شدت سے انتظار رہتا تھا، پرانے دور کی کہانی نئے زمانے کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یوں ہے۔
ایک ملک میں ایک بادشاہ حکمران تھا، جو پرندوں سے بہت پیار کرتا تھا اس نے مختلف رنگ ونسل طوطے پال رکھے تھے، ایک طوطا چین سے منگوایا تھا جو بہت عقل مند تھا، نیک چلن تھا، ہمیشہ اپنی ساتھی طوطیوں کو برادرانہ نظر سے دیکھتا، اس نے کبھی ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی تھی، کہا جاسکتا ہے کہ وہ بادشاہ کی طرح آئین کی دفعہ 62-63 پر پورا اترتا تھا، ہر چیز بانٹ کر کھاتا اور دوسروں کو اس میں سے حصہ بقدر جثہ دیتا، 
لہٰذا کبھی اس پر غیرصادق اور غیرامین ہونے کے الزام ثابت نہ ہوئے، اس نے آف شور کمپنیاں بھی بنائیں نہ ان میں مال چھپایا، طوطے کی شرافت کے ڈنکے چہار جانب تھے۔
بادشاہ نے سیر وتفریح کی غرض سے چین جانے کا قصد کیا تو روانہ ہونے سے قبل وہ اس طوطے کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ وہ چین جارہا ہے اور چند مہینوں تک واپس آجائے گا، طوطے نے یہ سنا تو اداس ہوگیا، بادشاہ سے کہنے لگا کہ جب چین پہنچو تو چین کے طوطوں کو میرا ایک پیغام پہنچادینا، بادشاہ نے خوش دلی سے پوچھا کہ کیا پیغام دوں؟ طوطا بولا، ’’ان سے کہنا کہ میں یہاں بہت خوش ہوں، بادشاہ میرا بہت خیال رکھتا ہے، یہاں ہر طرف امن وامان کا دور دورہ ہے، سٹریٹ کرائم کانام ونشان نہیں، بینکوں میں روپیہ محفوظ ہے، بے تحاشا منافع ملتا ہے، کھیت غلہ اُگل رہے ہیں، صنعت و حرفت میں ترقی ہورہی ہے، تعلیمی ادارے سقراط و بقراط پیدا کررہے ہیں، روٹی کپڑا اور مکان ہر شخص کو سستے داموں ملتا ہے، غریب ختم ہوچکا ہے، جدھر نظر دوڑائو امیر طبقہ ہی نظر آتا ہے، خیرات زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں، دینے والے لاتعداد ہیں، چوکوں چوراہوں پر بھیک مانگنے والا کبھی نظر نہیں آتا، حتیٰ کہ خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ ملنے کے بعد نوکریوں میں ان کے لیے کوٹہ رکھ دیا گیا ہے، لہٰذا لڑکے کی پیدائش پر ناچنے گانے، ڈھول ڈھمکا کرنے والے اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے، موٹرویز بن رہے ہیں، بلٹ ٹرین چل رہی ہے، فیشن شوز کی بھرمار ہے، ہر چیز ڈیزائنر ہے، حتیٰ کہ موت بھی، مرنے والوں کی قل خوانیاں، چہلم اور برسیاں فائیوسٹار ہوٹلوں میں ہوتی ہیں، ملک کو خطے کا ٹائیگر بنے عرصہ بیت گیا، اب ہم شیر کو پچھاڑ کر ببر شیر بننے والے ہیں، میرا مشورہ مانو تو اپنا قدیم ترین اور پسماندہ ترین ملک چین چھوڑ کر میرے ملک آجائو۔‘‘
بادشاہ چین کے تفریحی دورے سے فارغ ہوا تو اسے اپنے پیارے طوطے کا پیغام یاد آیا، بادشاہ ایفائے عہد کے خیال سے ایک باغ میں گیا، اس نے طوطوں کو بلایا اور بتایا کہ وہ اپنے ملک کے انتہائی عقل مند طوطے کا پیغام ان تک پہنچانا چاہتا ہے، سب طوطے ہمہ تن گوش ہوئے، بادشاہ نے طوطے کا پیغام پڑھ کر انہیں سنایا، تمام طوطوں نے اس پیغام کو غور سے سنا اور سب کے چہروں پر اداسی چھاگئی، بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ سب طوطے احساس محرومی کا شکار ہیں، ترقی کی داستانیں سن کر حیران پریشان ہیں کہ دنیا میں ان کا ایک ہمسایہ ملک ترقی کی کس منزل پر ہے جب کہ وہ ابھی تک ترقی کی دوڑ شروع ہی نہیں کرپائے۔ بادشاہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک طوطا پھڑپھڑا کر درخت کی ٹہنی سے نیچے گرا، یوں لگا کہ جیسے وہ اس جہان فانی سے کوچ کرگیا ہو، بادشاہ نے دیگر طوطوں سے اس کا افسوس کیا اور ملک واپسی کا سفر اختیار کیا، وطن واپس پہنچ کر وہ اپنے لاڈلے طوطے کے پنجرے کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس نے چین کے طوطوں کو اس کا پیغام پہنچادیا ہے، طوطے کی تسلی نہ ہوئی اس نے کہا کہ اسے تفصیل سے بتایا جائے کہ اس کا پیغام کس طرح چین کے طوطوں تک پہنچا اور پیغام سن کر ان کا ری ایکشن کیا تھا۔
بادشاہ نے تمام واقعہ تفصیل سے سنایا اور چینی طوطے کی موت کی خبر بھی ہمارے ٹی وی چینلز کے خبر نشر کرنے کے انداز میں سنائی، طوطا یکدم اداس ہوگیا پھر بادشاہ کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھڑپھڑایا اور پنجرے میں بے سدھ ہوکر گرگیا، بادشاہ سمجھ گیا کہ اس کا پیارا طوطا اپنے چینی طوطے بھائی کی موت کی خبر سن کر برداشت نہ کرسکا، لہٰذا اچانک اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور موت ہوگئی۔ بادشاہ اداس ہوگیا اور سوچنے لگا کہ اسے کچھ روز پہلے علم ہوجاتا کہ طوطے کو ہارٹ پرابلم ہے تو وہ اسے کسی اچھے اور مہنگے ترین ہسپتال لے جاکر کم ازکم دو عدد اسٹنٹ ہی ڈلوا دیتا، لیکن اب کچھ نہ ہوسکتا تھا۔ بادشاہ نے طوطے کو پنجرے سے باہر نکال کر قریبی ٹیبل پر رکھ دیا، طوطے نے فوراً آنکھیں کھولیں اور اڈاری کے لیے پرکھولے پھر وہ جمپ لگاکر ایک اونچی دیوار پر بیٹھ گیا۔
بادشاہ نے دیکھا تو حیران ہوکر پوچھا، میاں طوطے یہ سب کیا ہے، میں تو سمجھا کہ تم فوت ہوچکے ہو لیکن تم تو زندہ ہو، ایسا کیوں کیا؟ طوطے نے جواب دیا، بادشاہ سلامت آپ نے میرا پیغام چین میں میرے بھائیوں کو پہنچادیا وہ سمجھ گئے کہ اس میں درحقیقت کیا پیغام پوشیدہ ہے، میں نے انہیں پیغام دیا تھا کہ یہاں میری زندگی عذاب میں ہے اور تم خالص خوراکیں کھاکر آزاد فضائوں میں راحت بخش سانس لے رہے ہو، زندگی انجوائے کررہے ہو، انہوں نے جو جوابی پیغام بھیجا میں اسے سمجھ گیا آپ نہیں سمجھ سکے، انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ فوراً امیگریشن کی تیاری کرو اور بتایا گیا طریقہ اختیار کرکے فوراً چین پہنچو۔ بادشاہ سلامت تھینک یو ویری مچ، آپ شاید یہاں کی عدالتوں سے سزا نہ پاسکیں، ہوسکتا ہے آپ کی ایک مرتبہ پھر کامیاب ڈیل ہوجائے لیکن روز محشر انصاف ہوگا، خدا حافظ۔ طوطا چین پرواز کرگیا۔ 
وزیراعظم عمران خان چند روز قبل چین کے سرکاری دورے پر تشریف لے گئے تھے، انہوں نے دل کھول کر اہل چین کو اپنا حال دل سنایا، پھر ان سے تیزرفتار ترقی اور کرپشن ختم کرنے کا طریقہ بھی پوچھا، چینیوں نے یقیناً انہیں ہربات واضح بتائی اور سمجھائی ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان ان کے انداز حکمرانی اور انسداد کرپشن کے چینی فارمولے پر کتنا عمل کرتے ہیں، یہ دو باتیں جاننے کے لیے انہوں نے سفر چین کیا تو ان کا یہ دورہ بیکار ہے، ان دونوں باتوں کا جواب تو قوم کے بچّے بچّے کے پاس موجود ہے، جواب یہ ہے کہ ہرکرپٹ، ہرچور کو نشان عبرت بنادو، ہر سرکاری افسر واہلکار کے اثاثے طلب کرو، سزا و جزا کا نظام رائج کرو، چین کی ترقی کا راز یہی ہے۔