26 ستمبر 2018
تازہ ترین

چیف سیکرٹری پنجاب اور جھنگ کے مظلوم! چیف سیکرٹری پنجاب اور جھنگ کے مظلوم!

دن میں ہم توڑتے رہتے ہیں کئی خواب محل
رات بھر اُن کی مرمت میں لگے رہتے ہیں
منتظر رہتے ہیں کر دے کوئی حملہ ہم پر
اور پھر اس کی مذمت میں لگے رہتے ہیں
رب نے انسان اتارا تھا زمین پر، لیکن
ہم فرشتے ہیں، عبادت میں لگے رہتے ہیں
(ناصرہ زبیری)
میرے کئی سینئر بیورو کریٹ دوست، عمران خان کے پنجاب کابینہ کے اجلاس والے خطاب پر حیران اور خوش ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی فیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان فیل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے پاس کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ آپ پی ٹی آئی نہیں پاکستان کے لیے کام کریں۔ وزیراعظم نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اکبر درانی کو ہی بطور چیف سیکرٹری پنجاب کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ چھوٹے صوبے کے افسران پر بڑا اعتماد ہے۔ فوجی پس منظر رکھنے والے چیف سیکرٹری نے دس سال تک رحیم یار خان سے لے کر قصور، سنٹرل پنجاب اور پنجاب کے دوسرے علاقوں کے علاوہ سیکرٹریٹ میں کام کیا ہے۔ وہ وسیع انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ جب لوگ بلوچستان جانے سے ڈرتے تھے۔ انہوں نے ڈھائی، ڈھائی سال کے دو ادوار بطور ہوم سیکرٹری کے گزارے ہیں۔ اپنے دفتر، دل اور قلم کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں۔ شعر و ادب کے دلدادہ ہیں۔ انہیں خواب دیکھنے سے محبت ہے مگر تعبیر سے عشق کرتے ہیں۔ بطور انسان نرم اور خوش اخلاق ہیں۔ مگر بطور منتظم انتہائی مضبوط اور سخت گیر بھی ہیں۔ ان کے گھر کی دہشت گردوں جب اینٹ سے اینٹ بجا دی تو وہ اپنے خاندان سمیت اسی گھر میں اللہ کے کرم سے محفوظ رہے۔ کئی بار گاڑی مائنز سے گزر گئی۔ اللہ نے انہیں محفوظ رکھا، پیچھے سے آنے والے ٹرک اڑ گئے۔ وہ اس ملک، اس زمین اور لوگوں سے عشق کرتے ہیں۔
 پنجاب کی ترقی کے حوالے سے ان کے ذہن میں بہت سے خواب اور منصوبے ہیں۔ انہیں ’’اوپن ہینڈ‘‘ ملا تو وہ صوبے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صوبہ ہر شعبے میں ترقی کرے گا۔ وہ ’’پروٹوکول‘‘ سے عاری شخص ہیں۔ اپنے افسران کو دروازے کھلے رکھنے اور اجر اللہ سے لینے کی تاکید کرتے ہیں۔ وہ صوبے میں کئی ’’ڈزنی لینڈ‘‘ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ کلچر اور سپورٹس کی سرگرمیاں ان کا محور ہونگی۔ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ مجھے برسات کے روز کہنے لگے کہ ناصر صاحب، بارش سے لطف اندوز ہوں۔ بارش آئے گی تو پانی بھی آئے گا۔ اس پر حواس باختہ نہ ہوں۔ سسٹم کو ہم بہتر کریں گے۔ تاکہ لوگ بارش کو زحمت نہ سمجھیں۔ حسن سلوک اور اخلاص ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ معزز لوگوں کو رسوا نہیں کرتے۔ توجہ سے بات سنتے ہیں۔ موقع پر ہی احکامات دیتے ہیں۔ گھر والوں کو سرکاری امور سے دور رکھتے ہیں۔ پختون روایات کے امین ہیں۔ مہمان نواز ہیں۔ امید ہے کہ ٹیم ان کی مرضی سے بنی تو صوبہ اقتصادی، صنعتی کے ساتھ معاشرتی، تہذیبی، علمی اور غیر نصابی میدانوں میں بھرپور ترقی کرے گا۔ 71 سال کے بعد بلوچستان سے لگنے والے وہ پہلے چیف سیکرٹری پنجاب ہیں۔ ان کی اس صوبے میں بھی روٹس ہیں۔ وہ پسماندگی کو صرف سمجھتے اور محسوس نہیں کرتے، ان سے نکلنے کے عملی منصوبے رکھتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ غریبوں کے ہمدرد ہیں، اللہ کی خلق سے پیار کرتے ہیں۔ انہیں بہرحال اب سب سے پہلے چیف سیکرٹری آفس اور اس کے بعد، تمام دفاتر میں تین سال سے زیادہ کام کرنے والوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ڈی جی پی آر پر نظر رکھنا ہو گی۔ وہ خود بھی یہ کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔ پنجاب میں سیم نالوں، اس میں ڈالے جانے والے صنعتی فضلے پر سخت ایکشن لینا ہو گا۔ میں اس حوالے سے اپنے جھنگ کا مقدمہ ان کے حضور بذریعہ کالم ہی پیش کروں گا۔
 آج ملک کا سب سے بڑا ضلع، سکڑ سکڑ کر ضلع کے بجائے محض ’’ضلعی‘‘ رہ گئی ہے۔ فیصل اباد کے صنعتی فضلے نے پورے شہر کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ سیم نالہ تھا۔ جو دریائے چناب میں 36 کلومیٹر پر دریا میں چنیوٹ کے پاس گر سکتا تھا۔ مگر اسے 95 کلومیٹر پر جھنگ شہر کے ساتھ سے گزار کر دریا چناب میں پھینکا گیا۔ لوگ پیلے رنگ کا پانی پی رہے ہیں۔ ہر روز ہیپاٹائٹس سے مر رہے ہیں۔ شہر کی کوئی سڑک سلامت نہیں ہے۔ جو ہیپاٹائٹس سے بچتا ہے۔ اسے شہر میں اڑتی گرد بیماریوں میں مبتلا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، یونس حسن شہید اور رام ریاض، کا شہر ایک بے آواز موت کے ہاتھوں مر رہا ہے۔ زیارت کی طرح یہاں پر 35 سال کا نوجوان ساٹھ سال کا معلوم ہوتا ہے۔ شہر میں کوئی تفریح گاہ ہی نہیں ہے۔ گراؤنڈز برباد ہیں۔ جو پڑھ لکھ جاتے ہیں وہ دوسرے شہروں کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ اس شہر سے آٹھ راستے الگ لگ اور بڑے شہروں کو جاتے ہیں اور یہ شہر پھر بھی پسماندہ ترین ہے۔ دو دریا چناب اور جہلم یہاں آ کر ملتے ہیں۔ زرخیز زمینیں اور انتہائی محبت کرنے والے لوگ، سلطان العارفین سلطان باہوؒ کے پیارے، آپ ٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں۔ جھنگ دور حاضر کا پنجاب کا موہنجو ڈارو، ہڑپہ اور مہر گڑھ ہے۔ لگتا ہے، غربت، افلاس، بھوک، پسماندگی، بے چارگی اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ یہ ہر سال بہترین دماغ تیار کرتا ہے اور وہ روتے ہوئے جھنگ سے چلے جاتے ہیں۔ اس شہر میں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ شیخوں اور سیم نالے نے اس شہر سے زندگی اور سانسیں کشید کر کے اپنے اندر قید کر لی ہیں۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
میں بہت کمزور تھا، اس ملک میں ہجرت کے بعد
پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا
راہبر میرا بنا۔۔۔ گمراہ کرنے کے لیے
مجھ کو سیدھے راستے سے دربدر اس نے کیا
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نامعتبر اس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا
(منیر نیازی)
میں لکھنا کسی اور موضوع پر چاہتا تھا۔ مگر کیا کروں، شہر سے محبت کے قرض نے مجبور کر دیا۔ سیم نالہ ایک چھوٹے پختہ نالے میں تبدیل کر کے یہاں لوگوں کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ 6 کلومیٹر کی پٹی جو شہر کے گرد گھومتی ہے، اس کو سپورٹس لائن میں تبدیل کر کے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔ منور عباس شاہ جیسے کسی ریٹائرڈ ’’پاس‘‘ کے افسر کو پروجیکٹ ڈائریکٹر لگا کر، ناامید لوگوں کو نئی امید اور زندگی دی جا سکتی ہے۔ آخر ہم لوگوں سے ایسا کونسا ناکردہ اور ناقابل معافی جرم ہو گیا ہے کہ ہمیں ’’معافی‘‘ ہی نہیں مل رہی۔ ہم 71 سال سے ذلیل ہو رہے ہیں۔ حضور ہم بھی اسی پنجاب میں رہتے ہیں۔ ہمیں ضلع میں ایسی انتظامیہ دے دیں، جو خواص کے بجائے، عام آدمی کے لیے کام کرے۔ ہمارے گراؤنڈز آباد کرے۔ ہمارے لیے دوچار صنعتیں لگا دے۔ ملتان پنڈی کا یہ شارٹ کٹ راستہ ہے۔ ہماری سڑکوں کو بہتر کر دے۔ کوئی دل ہسپتال، کوئی برن یونٹ، کوئی تفریح گاہ ہمیں دے دے۔ چلیں ہماری فریاد ہی سن لے۔ کوئی سر پر ہاتھ رکھ دے۔ کوئی جھنگ سٹی کی گلیاں، جو پانی، گارے سے اٹی ہیں، ان کو ٹھیک کر دے۔ کوئی ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں صاف پانی کا گلاس، کوئی کرکٹ بیٹ اور روزگار دے دے۔
بات دوسری طرف جا نکلی۔ چند دنوں میں نئے پاکستان کے آثار بہرحال دِکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ چاہے دھندلے دھندلے ہی سہی۔ ہمیں کوئی اجمل بھٹی جیسا نوجوان ڈی سی دے دیں۔ جو چیزیں بنانے کا شوق رکھتا ہو۔ نئی حکومت کی جانب سے بیورو کریسی میں تبدیلیاں پچاس فی صد سے زیادہ بہترین ہیں۔ افضل لطیف کو ہم ’’پتھر دل‘‘ بیورو کریٹ کہتے ہیں۔ اسے چیئرمین سی ڈی اے لگایا گیا ہے۔ اس کی صفت ہے کہ وہ غلط کام کرتا نہیں ہے، صحیح کام روکتا نہیں ہے۔ اس جیسا سخت گیر منتظم شہر کی ضرورت ہے۔ ڈی جی پاسپورٹ کی واپسی ہوئی ہے۔ ان سے بہتر افسر کی یہاں ضرورت ہے۔ جو لوگوں کو میسر ہو۔ یہاں بہت شکایات ہیں۔ آخری بات چیئرمین نادرا عثمان مبین ایم آئی ٹی کا فارغ التحصیل ہے۔ غیر سیاسی ہے۔ اسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اعظم سواتی پہلے اپنے دامن میں جھانک لیں۔ ان کی معطلی اور برطرفی بدقسمتی ہو گی۔