18 نومبر 2018
تازہ ترین

چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل! چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل!

کیا نام دوں، مجھے اس کے لیے کوئی مناسب الفاظ نہیں مل رہے۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقے بستی فوجہ میں ’’غیرت‘‘ کے نام پر حقوق نسواں کی نڈر، جرأت مند، نامور سماجی کارکن اور  شاعرہ آسیہ اکبر کو جائیداد پر قبضے اوراپنی چھوٹی بہن اقصیٰ کو انصاف فراہم کرنے کی پاداش میں بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ قتل کا یہ اندوہناک واقعہ 19 جون 2018 کو پیش آیا۔ معروف سیاسی و سماجی کارکن اور متحدہ بلوچ موومنٹ خواتین ونگ کی سابقہ چیئرپرسن آسیہ اکبر (جو مقامی ٹرانسپورٹر اکبر خان بودلس کی بیٹی ہیں) کو ’’غیرت‘‘ کے نام پر آبائی گاؤں خانپور منجوالہ جاتے ہوئے راستے میں بودلس پبلک ٹرانسپورٹ کی ویگن سے4 ملزمان نے اتارکر سرمیں گولیاں مارکر قتل کردیا تھا۔ اس وقت ویگن آسیہ کے والد اکبر چلارہے تھے، فرنٹ سیٹ پر آسیہ کی والدہ پروین، عقب میں بھائی بلال اور خود آسیہ بیٹھی تھی۔ ڈی پی او کے مطابق تھانہ کوٹ چھٹہ کے ایس ایچ او انسپکٹر سجاد حسین مقتولہ کے بھائی بلال کی مدعیت میں 4 افراد صابر حسین، آصف حسین اور 2نامعلوم ملزمان کے خلاف زیردفعہ 302/34 کے تحت مقدمہ درج کرچکے ہیں۔ لیکن المیہ یہ کہ آسیہ اکبر کے قتل کے بعد سے اس کی چھوٹی بہن اقصیٰ بھی تین مہینے سے زائد ہونے پر ابھی تک لاپتا ہے۔ خواتین کے حقوق اور گمشدہ بچیوں کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والی یہ جوان سال پُرعزم خاتون اپنی گمشدہ بہن کی بازیابی کی خاطر سرگرداں تھی جو شادی کے دو ہفتوں بعد سے ہی لاپتا ہوگئی تھی۔
30برس کی آسیہ اکبرسے میری واقفیت کئی سال پرانی تھی۔ آسیہ قانونی و سماجی معاملات میں میرے ساتھ مشاورت کرتی رہتی تھی، ایک متاثرہ خاند ان کو انصاف دلانے کے لیے مجھ سے کالم لکھنے کی درخواست بھی کی تھی۔ روزنامہ ’’جہان پاکستان‘‘ میں بھی ایک کالم 27 اگست 2017 کو ’’وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ میں نے کالم لکھنے سے قبل ان سے معاملے سے متعلق مقدمے کے ٹھوس ثبوت مانگے، جو انہوں نے مجھے اُسی وقت فراہم کردیے۔ میں نے اُن دستاویزات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کالم لکھ دیا تھا۔ آسیہ اکبر میرے کالم کی بنیاد پر جعلی پولیس مقابلے کے خلاف قانونی کارروائی کروانے میں کامیاب ہوئی۔ میں تو اپنی مصروفیات کے سبب قریباً بھول چکا تھا۔ پھر آسیہ اکبر نے میری اُس متاثرہ خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے گفتگو بھی کرائی تھی۔ وہ سرائیکی زبان میں بات کررہی تھی۔ شکریہ وغیرہ کے رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا۔ کافی دن گزر چکے ہیں لیکن آسیہ کے خوشی کے اُن لمحات کو کبھی نہیں بھول سکتا جو اس خاندان کی مدد کرنے سے اُسے حاصل ہوئی تھی۔ آسیہ سرائیکی ادب پر عبور رکھتی تھی اور منفرد لب و لہجے کے ساتھ جب سرائیکی اشعار سناتی تو اس زبان کی مٹھاس دوبالا ہوجاتی۔ میں کبھی کبھار آسیہ کی فیس بک پر شیئر کی جانے والی کسی تصویر یا شاعری پر سرائیکی میں ہی کمنٹس کرتا تو وہ حیران ر ہ جاتی کہ ’’پٹھان ہو کر سرائیکی سمجھ لیتے ہو‘‘۔ میں ہنس پڑتا کہ ’تمام زبانوں میں شیرینی ہے، بس اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے‘۔ ایک بار شاہ زین بگٹی کے ساتھ آسیہ کی تصویر دیکھ کر حیران ہوا کہ بگٹی کے ساتھ کیا کررہی ہو، اُس وقت تک آسیہ نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ وہ سیاسی طور پر متحدہ بلوچ قومی موومنٹ میں بھی متحرک ہے۔
حالیہ قومی انتخابات سے قریباً ایک ڈیڑھ مہینے قبل مجھے فیس بک میسنجر پر آسیہ کی کال آئی۔ مجھ سے موبائل نمبر لے کر رات گئے فون کیا۔ آسیہ اکبر سنجیدہ تھی۔ میں نے استفسار کیا کہ اس وقت اتنی رات گئے، عقب میں کس کی آوازیں آرہی ہیں، کہاں ہو تم۔ پھر وہ کبھی اردو زبان تو کبھی سرائیکی میں بولتی چلی گئی۔ آسیہ نے بتایا کہ وہ اس وقت سندھ کے دورافتادہ کسی گائوں میں ہے۔ اس نے مجھے ایک کمرے کا مکان کرایے پر خاص کرپے انگ گیسٹ کے طور پر لینے کی درخواست کی۔ اب معاملات مجھے بہت گمبھیر لگ رہے تھے۔ آسیہ نے بتایا کہ وہ تنہا گاڑی چلا چلا کر تھک گئی ہے۔ اب کسی محفوظ جگہ کچھ مہینے آرام سے رہنا چاہتی ہے۔ آسیہ نے واضح طور پر اپنے رشتے داروں کا بتایا کہ وہ اُسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی لوکیشن ٹریس کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا محفوظ رہنا خطرناک بن چکا ہے۔ میں نے انتظامات کرنے کے لیے وقت مانگا۔ پھر منتظر رہا لیکن آسیہ کے فون بند تھے، رابطے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ چونکہ جرأت مند اور نڈر خاتون تھی، اس لیے میں یہی سمجھا کہ کوئی راستہ نکال لیا ہوگا۔ پھر علم ہوا کہ وہ ملتان اور پھرڈیرہ غازی خان میں خوشی خان کے گھر چلی گئی تھی۔ (اتفاق کہ خوشی خان وہی شخص ہے جس کے بھائی کے ماورائے عدالت اغوا و قتل پر میں نے کالم لکھا تھا)۔ عیدالفطر کے دوسرے دن گھر واپسی پر آسیہ کو بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ میں بھی آسیہ کی جانب سے دوبارہ رابطہ نہ کرنے کی وجہ سے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف تھا۔
عیدالاضحی پر فیس بک استعمال کرتے وقت جب آسیہ کا صفحہ سامنے آیا تو دل دہل گیا کہ آسیہ کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا جاچکا تھا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا، لیکن مختلف ذرائع سے تصدیق ہوئی کہ واقعی اب آسیہ اکبر اس دنیا میں نہیں رہی۔ مجھے یہ بتایا (باقی صفحہ 13 پر)
گیا کہ ’’غیرت‘‘ کے نام پر ملی بھگت کرکے آسیہ اکبر کو قتل کیا گیا ہے۔ سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی ہدایت کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ذرائع بتارہے ہیں کہ اب آسیہ کے والدین اور قاتلوں نے ’’صلح‘‘ کرلی ہے اور اپنی عبوری ضمانت بھی کرا رکھی ہے۔ لیکن مقتولہ کا بھائی بلال جو مقدمے کا مدعی بھی ہے وہ صلح کرنے پر راضی نہیں۔ دیت کا سہارا لے کر معاملے کو ’’غیرت‘‘ کے نام پر دبایا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 80لاکھ روپے کی دیت پر فیصلہ کیا جارہا ہے۔ دور افتادہ علاقے کی رہائشی خواتین کے حقوق کی علمبردار آسیہ اکبرکے بہیمانہ قتل کی پیش رفت پر سب خاموش ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہوا تھا۔ آسیہ صرف ایک عورت نہیں تھی بلکہ وہ کمزور خواتین کی مدد کے لیے ایسی سیسہ پلائی دیوار تھی جسے گرانا آسان نہ تھا۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ آسیہ کے بعض قریبی جاننے والے شکوک کا اظہار کرتے ہیں کہ آسیہ کا قتل ہونا رشتہ داروں کی منصوبہ بندی و ملی بھگت تھی۔ حقیقت کیا تھی؟ اس کو کون تلاش کرے گا۔ کون قاتلوں کو سزا دے گا۔ اس سوال کا جواب ابھی تک کوئی نہیں دے سکا یا دینا نہیں چاہتا۔
ڈھائی مہینے سے زیادہ ہو گئے، آسیہ کے قتل اور اقصیٰ بی بی کی گمشدگی کو، یہ معاملہ انصاف کا متقاضی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اقصیٰ اپنے قتل کیے جانے کے ڈر کی وجہ سے روپوش ہے۔ اقصیٰ بی بی انتہائی تکلیف اور پریشانی، ڈر و خوف کی زندگی جی رہی ہے۔ اپنی بہن کے قتل کے بعد اُسے یقین ہے کہ اُس کو بھی قتل کردیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ اقصیٰ خلع لے چکی ہے۔ ظلم کی اس عجب داستان پر آسیہ کے مدعی بھائی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ ازخود نوٹس لے کر حقوق نسواں کے استعارے کے سفاک قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد کریں، دیت کے نام پر قیمتی جانوں کے سودے  ظالموں کے لیے معمولی بات ہے۔ لاپتا اقصیٰ بی بی کو بازیاب کرانے میں مدد کریں، اسے تحفظ دے کر ایک قیمتی جان بچانے میں مدد کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب تو خود مقتولہ کے علاقے کے ہیں، کیا وہ آسیہ اکبر دخترمیاں اکبر خان بودلس کے قاتلوں کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے یا پھر غیرت کے نام پر یہ کھلواڑ چلتا رہے گا۔ آسیہ اکبر خواتین کے جائز حقوق کے لیے انتہائی جذباتی، مخلص، غریب پرور اور متحرک رہا کرتی تھی۔ کیا کسی کے غریب خاندان یا فرد، مرد و عورت کے لیے اٹھنے والی ہر آواز اور زمینوں و جائیداد پر قبضے کے لیے کسی کو اسی طرح ’’غیرت‘‘ کے نام قتل کیا جاتا رہے گا؟ آسیہ اکبر کے بھائی بلال نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اُسے انصاف فراہم کیا جائے۔ یہ ایک  مظلوم بھائی کی اپنی مقتولہ بہن آسیہ اور لاپتا بہن اقصیٰ کے لیے دردمندانہ اپیل ہے۔
بقیہ: پیامبر