14 نومبر 2018
تازہ ترین

چندہ مہم، ڈیم اور پانی کی گاڑی چندہ مہم، ڈیم اور پانی کی گاڑی

وزیر اعظم عمران خان نے 7 ستمبر 2018ء کو اپنے خطاب میں نا صرف وزیر اعظم ڈیم فنڈ کو چیف جسٹس پاکستان کے ڈیم فنڈ میں ضم کرنے کا اعلان کیا بلکہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں سے اس مقصد کے لیے 1000 ڈالر چندہ دینے کی اپیل بھی کر ڈالی تاکہ ان کے مطابق اعلان کردہ ڈیموں کی تعمیر طے شدہ مدت اور تخمینے کے مطابق ممکن ہو سکے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار 17 جنوری 2019ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ چندہ مہم کے لیے کس حد تک سرگرم رہیں گے مگر قبل ازیں یہی دیکھا گیا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والوں کی اپیلیں ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے کی طرح مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔ نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اس سلسلے میں جناب ثاقب نثار کی طرح سرگرم نظر آئیں گے یا نہیں، اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لہٰذا اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ جناب آصف سعید کھوسہ انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے سابقین جسٹس(ر) تصدق حسین جیلانی، جسٹس(ر) ناصر الملک، جسٹس(ر) جواد ایس خواجہ اور جسٹس(ر) انور ظہیر جمالی کی طرح صرف عدالتی امور تک محدود رہیں گے یا پھر جسٹس(ر) افتخار محمد چوہدری اور موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی طرح اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیں گے۔ جناب آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس بننے کے بعد جو بھی طرز عمل اپنائیں، یہ امید اپنی جگہ قائم رہے گی کہ ڈیموں کی تعمیر کی لیے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی عوام میں پیدا کردہ حساسیت ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی برقرار رہے گی کیونکہ عمران خان نے بحیثیت وزیر اعظم ڈیموں کی تعمیر کے لیے شروع کی گئی چندہ مہم کو اپنا لیا ہے۔
اس بات میں دو رائے نہیںہے کہ ڈیم سازی کے معاملے میں ہم نے انتہائی تاخیر کر دی ہے۔ اسے جوڈیشل ایکٹوازم کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ڈیم سازی کے معاملے میں دلچسپی لے کر چیف جسٹس نے بُری طرح نظر انداز کیے گئے انسانی اہمیت کے مسئلے کو اس طرح اجاگر کیا ہے کہ اب اس سے درگزر کرنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہو گا۔ اس قابل ستائش پہلو کے ساتھ اس مسئلے کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے اہم مسئلے کا مکمل انحصار چندہ مہم پر کر لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ڈیم سازی کے لیے عوام کو جذباتی طور پر متحرک کر کے چندہ مہم میں حصہ لینے کے لیے کہا تو عوام کی اکثریت نے نا صرف اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈالا بلکہ ان میں یہ شعور بھی پیدا ہوا کہ نئے ڈیموں کی تعمیر پانی کی کمی کو پورا کرنے اور ملکی معیشت کو بہتری کو طرف گامزن کرنے کے لیے کیوں ضروری ہے۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے تو جس طرح مناسب سمجھا اپنا کام کیا مگر اس سلسلے میں حکومت کا طرز عمل نا صرف چیف جسٹس سے مختلف بلکہ بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔
عمران خان نے ڈیموں کی تعمیر کے متعلق جس طرح سے چندہ مہم کی اپیل کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لیے ان کی حکومت کے پیش نظر چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ کوئی متبادل لائحہ عمل نہیں ہے۔ ڈیم سازی کے لیے جہاں چندہ مہم پر انحصار کرنے کے لیے عمران خان کو ہدف تنقید بنایا گیا وہاں ان کے حامیوں نے ان کے دفاع میں کہا ہے کہ وہ ثابت قدمی سے جہاں پہلے کئی ناممکن قرار دی گئی باتوں کو ممکن بنا چکے ہیں، اسی طرح وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مالی تعاون سے ڈیم بھی بنا کر دکھا دیں گے۔ گو وزیر اعظم کے ناقد ان کی صفائی میں پیش کیے گئے موقف کو مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں مگر عمران پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ ان پر اس طرح کی تنقید نہیں کی جا رہی، جس طرح کی تنقید وہ اپنے مخالف حکمرانوں پر کرتے رہے۔ یاد رہے کہ جب 2010ء کے سیلاب نے خیبر پختونخوا سے سندھ کے شہروں ٹھٹھہ اور بدین تک تباہی کی ایسی بد ترین مثالیں قائم تھیں کہ بین الاقوامی طور پر اسے ہیٹی کے زلزلے اور فار ایسٹ کی سونامی سے بھی بڑی آفت قرار دیا گیا تھا، اس وقت عمران خان ایک ٹی وی چینل کے تعاون سے اس دور کے حکمرانوں کو بد عنوان قرار دیتے ہوئے اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ حکومت کو سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر کسی قسم کے عطیات نہ دیے جائیں بلکہ اس ادارے کو دیں جو ان کی سربراہی میں ایک نشریاتی ادارے کے بانی کے نام پر بنایا گیا ہے۔ اس پراپیگنڈے کے بعد عمران خان نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر لوگوں نے اپنے عطیات دینے کے لیے حکومت کی نسبت ٹی وی چینل کے ادارے پر زیادہ اعتماد کیا۔ مگر واضح رہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے جو کام اس وقت کی حکومت نے کیا اس کا عشر عشیر بھی نہ تو عمران اور ٹی وی چینل کا بنایا ہوا ادارہ اور نہ ہی کوئی دوسری تنظیم کر سکی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گو پراپیگنڈے کی وجہ سے حکومت کو عام لوگوں کی طرف سے مناسب چندہ یا عطیات نہیں مل سکے تھے مگر اس وقت کے حکمرانوں نے فرینڈز آف ڈیمو کریٹک پاکستان فورم میں شامل کی گئی بیرونی حکومتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اقوام متحدہ کو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اس حد تک مائل کر لیا تھا کہ انہوں نے سونامی سے بھی بڑی قرار دی گئی آفت کے متاثرین کی بحالی کے لیے جس حد تک ممکن تھا، تعاون کیا۔ یہ تفصیل یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ کوئی جس حد تک ممکن ہے چندہ کیوں نہ اکٹھا کر لے مگر بڑے بڑے مسائل کا حل اور عالمی اہمیت کے حامل منصوبوں کی تکمیل محض کسی چندہ مہم سے نہیں بلکہ عالمی برادری کے تعاون سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
ہمیں میگا ڈیموں کی ضرورت پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ہے۔ یہاں پانی کے نام پر کئی قسم کے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ وقار نامی ایک نام نہاد انجینئر نے پانی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کار چلانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت وقار کے دعوے کو غلط قرار دینے والوں پر اس کے حمایتی اس طرح ٹوٹ پڑتے تھے جس طرح آج کئی لوگ اپنے ممدوح کے متعلق کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وقار کے دعوے پر ماہرین کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اس کا دعویٰ فزکس کے تھرموڈائنامکس کے بنیادی قوانین کے منافی ہے۔ بعد میں وقار اور اس کے غیر سائنسی دعووں کا جو حال ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ فزکس کی طرح علم معاشیات کے بھی کچھ اصول ہیں جن کے مطابق اربوں کھربوں مالیت کے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے کسی طرح بھی چندہ مہمات پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا گزارش ہے کہ ڈیم سازی کے اہم کام کو پانی سے چلنے والی کار بنانے سے گریز کیا جائے۔