20 نومبر 2018
تازہ ترین

چائے کا کپ ؟ چائے کا کپ ؟

مجھے یہی گمان ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد نے اس خبر کا مطالعہ کیا ہوگا یا اس خبر کے مضمون سے آگاہ ہوں گے کہ اسلام آباد میں 27 اگست کو سابق وزیراعظم نوازشریف کو کالے رنگ کی لینڈ کروزر ،موبائل جیمرز اور ایمبولینس سمیت 23 گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت میں لایا گیا۔ نوازشریف سماعت کے دوران باری باری اپنے سیاسی رفقاء کار سے ملاقات کرتے رہے۔ کمرہ عدالت میں سینیٹر سعدیہ عباسی اور بیرسٹر ظفر اللہ کی آواز گونجنے پر جج ارشد ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں کو چپ کرا دیا اور ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب سے گفتگو کرنا ہے تو اور بات ہے، آپس میں تو آپ کمرہ عدالت سے باہر جا کر بھی گفتگو کر سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس خبر کا سب سے زیادہ قابل توجہ، قابل ذکر بلکہ قابل افسوس حصہ یہ رہا کہ وطن عزیز کے سابق وزیراعظم ہی نہیں بلکہ بلاشبہ ملک کے نمایاں سیاسی قائد اور صنعتی و کاروباری شخصیت ہونے کے باوجود میاں نوازشریف کی جیل سے باہر کی چائے پینے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ سماعت میں وقفے کے دوران نوازشریف کے لئے چائے منگوائی گئی اور وہ وہاں پر موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ کمرہ عدالت سے اے ٹی سی کے سٹاف روم گئے لیکن وہاں پربیٹھنے کے لئے مناسب جگہ نہ ملنے پر وہ واپس آگئے جہاں پر میاں صاحب نے اپنے وکیل سے بات کی۔ وکیل نے انہیں کمرہ عدالت کے ڈسپلن سے متعلق بتایا۔ نوازشریف کو سینیٹر غوث محمد نیازی نے پانی پیش کیا لیکن جیل گارڈین نے پانی واپس کرا دیا اور خود پانی کی بوتل لا کر دی۔ 
میں عام طور پر میاں صاحب کی سیاست اور اسیری کی خبروں پر صرف اتنی ہی توجہ دیتا ہوں کہ ان سے تازہ ترین صورتحال کا علم ہوجائے یعنی میں ان خبروں کو 
جذبات کی بجائے زمینی حقائق کے تناظر میں ہی دیکھتا ہوں۔ میں ذاتی طور پر میاں صاحب کے طرز سیاست سے اس بنیاد پر اتفاق کرتا ہوں کہ وہ اظہار خیال کرتے ہوئے شرافت اور وضعداری کا دامن تھام کر رکھتے ہیں البتہ مجھے ان کے سیاسی نظریات سے اتفاق کرنے کی ذہنی اور فکری ہمت میسر نہیں ہے۔ وہ ایوان اقتدار سے رخصت ہوئے تو مجھے صرف اتنا ملال ہوا کہ گردش ماہ و سال کی زد میں آکر وطن عزیز کا ایک اور وزیراعظم اپنے اقتدار کی آئینی مدت مکمل نہ کر سکا۔ میاں صاحب نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی ذاتی گردان کو سیاسی شکوے کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا تو ان کی یہ کوشش بھی اکارت گئی جو میرے خدشہ کے عین مطابق تھی لہذا مجھے اس پر کوئی ملال نہ ہوا۔ اس کے برعکس میاں صاحب کی اہلیہ محترمہ، کلثوم نواز کی علالت پر میں نہایت خلوص دل سے ان کی صحت یابی اور شفاء کی دعا ضرور کرتا رہا (یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے) کیونکہ مجھے ذاتی طور پر خوب احساس اور علم ہے کہ عمر کے اس حصے میں جیون ساتھی کی موجودگی کس قدر اہم اور ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے سبب مجھے اس وقت بے پناہ حیرت ہوئی جب میاں صاحب نے اپنی علیل بلکہ عملی طور پر زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا اہلیہ کو  لندن میں اپنے دونوں صاحبزادگان کے سپرد کرکے خود پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی صاحبزادی، مریم نواز کے ہمراہ وطن پہنچے تو عدالت کے 
فیصلے پر عملدرآمد کے تحت انہیں گرفتار کرکے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا جہاں وہ تادم تحریر 
ایک قیدی کی حیثیت سے اپنے روز و شب گزار رہے ہیں۔ اپنی جیل یاترا کے ابتدائی چند دنوں میں انہوں نے یہ شکایت کی تھی کہ انہیں سونے کے لئے مناسب بستر فراہم نہیں کیا گیا، جیل کی کوٹھڑی میں ہوا کے پنکھے کی سہولت بھی نہیں ہے اور انہیں ٹی وی، ٹیلی فون اور اخبارات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ میاں صاحب کے(برطانوی شہریت کے حامل) صاحبزادگان نے یہ واویلا مچایا کہ سابق وزیراعظم کا ٹائلٹ نہایت غلیظ ہے۔ ایسی شکایات کے سامنے آنے کے بعد میاں صاحب، ان کی صاحبزادی اور داماد صاحب کو جیل حکام کی طرف سے ایسی سہولیات فراہم کر دی گئیں جن کی قانون اجازت دیتا تھا۔ 
سچی بات تو یہ ہے کہ میرے لئے یہ خبر بڑی حد تک ذہنی کوفت اور ملال کا باعث بن گئی کہ احتساب عدالت میں سماعت کے وقفے کے دوران بھی سابق وزیراعظم نواز شریف چائے کے کپ سے محروم رہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی میرے دل و دماغ میں وطن عزیز کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے احوال اسیری کی یاد تازہ ہو گئی۔ قومی تاریخ کی گواہی ہے کہ بھٹو صاحب کو 17 مئی1978ء کی صبح، کوٹ لکھپت جیل لاہور سے سینٹرل جیل راولپنڈی لایا گیا تھا جہاں پر ان کو 4 اپریل 1979ء کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ اس عرصے میں کرنل رفیع الدین نے اس وقت کی مارشل لاء انتظامیہ کی جانب سے (جیل کے) سپیشل سکیورٹی سپریٹنڈنٹ کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے اس عرصے کے اپنے مشاہدات، تجربات اور محسوسات پر مبنی ایک کتاب سپرد قلم کی جو ’’بھٹو کے آخری 323 دن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے صفحہ 125 پر کرنل موصوف نے بھٹو صاحب کی زندگی کے آخری لمحات کو بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’جب ان کو سیل سے باہر نکالا جا رہا تھا تو ان کی کمر تقریباً فرش کے ساتھ لگ رہی تھی، ان کی قمیض کا پچھلا حصہ ان وارڈروں جو ان کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے تھے، کے پائوں کے نیچے آیا اور قمیض پھٹنے کی آواز آئی۔ میں نے اس قمیض کا معائنہ تو نہیں کیا لیکن وہ بازوئوں کے نیچے تک ضرور ادھڑ گئی ہوگی یعنی ٹانکے کھل گئے ہوں گے۔ دالان میں ان کو سٹریچر پر ڈال دیا گیا۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں ان کے پیٹ کے سامنے ہتھکڑی لگا دی گئی۔ اتنی دیر میں مشقتی عبدالرحمن چائے کی پیالی لے کر سامنے آیا جو بھٹو صاحب نے ہمارے داخل ہونے سے پہلے اس سے کہی ہوگی۔ میں یہ سب دیکھ کر حیران ہورہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ جیل کی دیوار کے پار پرائم منسٹر ہائوس میں بھٹو صاحب نے جو بھی چاہا دنیا کے کسی بھی حصے سے ان کے لئے فوراً مہیا کیاگیا اور آج ان کی یہ آخری اور معمولی سی خواہش بھی پوری نہ ہو سکی کہ چائے کی ایک پیالی بھی پی سکیں‘‘۔ 
یکم اپریل 2007ء کو کرنل موصوف نے ایک نجی ٹی وی چینل پر معروف صحافی افتخار احمد کو انٹرویو دیتے ہوئے مذکورہ واقعہ کی تصدیق کی اور دوٹوک الفاظ میں کہا ’’یہ بڑا عبرتناک منظر تھا جبکہ مشقتی جس کو پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ چائے لائو اس وقت وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر چکے تھے اور کھا پی رہے تھے لیکن جب وہ چائے لایا اس وقت چونکہ وقت نہیں تھا وارڈنز ان کو اسٹریچر پر ڈال چکے تھے، ان کے نصیب میں نہیں تھا کہ وہ چائے کی پیالی پیتے اور انہیں گھاٹ کی طرف لے جایا گیا۔ میں ان کے ساتھ جا رہا تھا، اتنا نزدیک جا رہا تھا کہ دو تین فٹ کے فاصلے پر ان کے ساتھ تھا‘‘۔ اسی انٹرویو کے دوران جب کرنل موصوف سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ 29 مارچ 1979ء کو جب بھٹو صاحب کے وکیل، عبدالحفیظ پیرزادہ ان سے ملنے کے لئے جیل میں آئے اور آپ کو بتایا گیا کہ بھٹو صاحب صرف ایک تولیہ اپنے جسم کے گرد لپیٹے ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنے کپڑے خود دھوئے تھے اور وہ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ ان کے کپڑے سوکھ جائیں، تو اس سوال کے جواب میں کرنل صاحب نے کہا ’’درست ہے، بالکل ٹھیک ہے‘‘۔ 
اب یہ سطور تحریر کرتے ہوئے میرا دھیان بار بار چائے کے کپ کی طرف جا رہا ہے جو بھٹو صاحب کوجیل کے اندرنصیب نہیں ہوا اور میاں صاحب کو جیل کے باہر میسر نہیں آسکا۔