14 نومبر 2018
تازہ ترین

 پیپلز پارٹی : مسلمان یا شدھی پیپلز پارٹی : مسلمان یا شدھی

گزشتہ ماہ ہونے والے قومی انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی انتخابی سیاسی جماعت بن کر اقتدار کے سنگھاسن پر فروکش ہوئی، تو پاکستان مسلم لیگ نواز شکست سے دوچار ہو کر حزب اختلاف کی نشستوں پر براجمان ہوئی۔ اس سارے منظر نامے میں پاکستان پیپلز پارٹی بلی چوہے کا کھیل مسلسل کھیلے جا رہی ہے ، اب تک یہ پتا نہیں چل پا رہا کہ یہ اپوزیشن کے اتحاد کے ساتھ پورے دل و جان سے ہے یا پھر درون خانہ تحریک انصاف کی حکومت کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اس وقت جو کردار ہے اسے دیکھ کر ملکانہ راجپوتوں کا قبیلہ یاد آتا ہے ۔ تقیسم ہند سے پہلے سوامی شردھا نند نے ہندوستان میں شدھی کی تحریک شروع کی کہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں جن کے باپ دادا ہندو تھے انہیں شدھ کر کے دوبارہ ہندومت میں شامل کیا جائے۔ اس مہم کا آغاز اس نے بیس یا تیس ہزار راجپوتوں کے ایک قبیلے سے کیا جو بیشتر ضلع آگرہ کے دیہات میں آباد تھے۔یہ مردم شماری میں مسلمان آبادی میں شمار ہوتے تھے لیکن ہندووانہ رسم و رواج ان میں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ یہ قبیلہ ملکانہ راجپوت کہلا تا تھا۔ 
سوامی شردھا نند نے جب ملکانہ راجپوتوں کو شدھ کر کے ہندو بنانے کی مہم کا آغاز کیا تو مسلمانوں میں اس پر شور مچااور جوابی کاروائی کے لیے مسلمانوں کی تبلیغی جماعتیں میدان عمل میں آگئیں،یہ جماعتیں مسلمانوں سے چندہ اکٹھا کر کے انہیں ملکانہ راجپوتوں کا بھجواتی تاکہ ان کی مالی اعانت کی جا سکے۔ ضلع جہلم کی ایک تبلیغی جماعت نے بھی چند ہ اکٹھا کیااور راجہ غضنفر علی خان جو بعد میں تحریک پاکستان کے اہم رہنما اور قائد اعظم کے معتمد خاص بنے کو ملکانہ راجپوتوں کے علاقے میں بھیجا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لیں۔ راجہ صاحب نے ملکانہ راجپوتوں کے دیہات میں جا کر عجیب کیفیت دیکھی۔ مسلمان مبلغ ان کے ایمان کو اور ہندو پرچارک ان کے دھرم کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے، جب کہ ملکانہ راجپوت ان دونوں کو بیوقوف بنا کر ان سے روپیہ بٹورنے میں مصروف تھے۔ کوئی مسلمان مبلغ ان کے پاس پہنچتا تو گائوں کا مکھیا اسے الگ جا کر کہتا کہ ہم سب دل سے مسلمان ہیں اور اپنے دین کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ فلاں ہندو ساہوکار کے قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ ہم پر دبائو ڈال رہا ہے اگر اس کے قرض کی ادائیگی کا کچھ بندوبست ہو جائے تو ہمیں کون اسلام سے منحرف کر سکتا ہے۔ جب شدھی کے پرچارک اس گائوں آتا تو اس کی آئو بھگت دوسرا مکھیا کرتا اور مسلمان زمیندار کے دبائو کا رونا رونے لگ جاتے جس کی لگان کا بوجھ انہیں ہندو مذہب کو کھلے عام اپنانے سے روکتا ہے۔ 
پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس وقت ملکانہ راجپوتوں کی طرح دوہری پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ ایک طرف یہ اپوزیشن کے اتحاد کی طرف بڑھتی ہے تو دوسری جانب یہ اس اتحاد میں رخنہ ڈال دیتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس وقت کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسوں میں بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ آصف علی زرداری لاکھ شاطر اور زیرک سیاستدان سہی لیکن ان کیسوں نے ان کے سارے کس بل نکالے دیے ہیں۔ منی لانڈرنگ کیسوں میں ان کے قریبی مصاحبین کی گرفتاری اور ان کی شوگر مل پر چھاپو ں نے ان کے ہاتھ پائوں باندھ کر رکھ دیے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان کیا اور بڑے جو ش و خروش سے تحریک انصاف کی قیادت میں بننے والے حکومتی اتحاد کے خلاف متفقہ امیدواروں کو اتارنے کا اعلان کیا۔ اسپیکر کے انتخاب کے لیے اس نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے ووٹ حاصل کیے لیکن وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں اس نے پاکستان مسلم لیگ نواز کو ہری جھنڈی دکھا کر اپنی دوغلی پالیسی کا کھلے عام اعلان کیا۔ اسے عام فہم زبان میں دھوکا دینے کہتے ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس پر تاویلوں او ر دلائل کے انبار جما کر اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ صدارتی انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی نے یہی رویہ اپنایا۔ یہ ایک طرف تو اپوزیشن کے اتحاد کا حصہ ہے لیکن یک طرفہ پر اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کر کے اس نے تمام حزب اختلاف کی جماعتوں سے مدد و حمایت چاہی جس کے بعد اپوزیشن کی تمام جماعتیں کے اتفاق رائے سے ایک صدارتی امیدوار کا سامنے آنا کچھ زیادہ اہم نہیں رہا۔ اصل موضوع پاکستان پیپلز پارٹی کا رویہ اور طرز سیاست ہو گی جو وہ آنے والے دنوں میں اپناتی ہے۔
 گزشتہ انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت تھی تو اس کی فرینڈلی اپوزیشن نے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور عمران خان کی تحریک انصاف نے اس کے پیدا کردہ خلا کر پر کر کے اپنے آپ حقیقی اپوزیشن جماعت ثابت کیا۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمان میں عددی اعتبار سے تیسری سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے لیکن تاحال لگتا نہیں ہے کہ وہ جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کر پائے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں پیپلز پارٹی خراب حکومتی کارکردگی کے باوجوہ جب بھی اپوزیشن میں آئی تو انہوں نے ایک توانا اور جاندار حزب اختلاف کا کردار ادا کر کے اپنے کارکنان کو متحرک رکھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک متحرک اور توانا سیاسی جماعت کے طور پر قائم رکھنے میں قطعی طور پر ناکام رہے ہیں۔ زرداری صاحب منی لانڈرنگ اور کرپشن کیسوں کی وجہ سے حد درجہ خائف ہو کر اس ریڈ لائن کو کراس کرنے سے 
گریزاں رہتے ہیں جو مقتدر قوتوں نے ان کے  لیے کھینچ رکھی ہے۔زرداری صاحب کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی جب بھی اپوزیشن میں کوئی کردار اداکرنے کے لیے پر تولتی ہے تو احتساب کی تلوار سے خوفزدہ ہو کر دبک کر بیٹھ جاتی ہے یا اس سارے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنے پر کمر بستہ ہوجاتی ہے جو تحریک انصاف کی حکومت کو پارلیمان میں ٹف ٹائم دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب حددرجہ کمپرومائزز سے اس پر چاند ماری شروع ہو جاتی ہے تو پھر و ہ اپنے آپ کو موثر اپوزیشن جماعت ثابت کرنے کے لیے انگڑائی بھرتی ہی ہے کہ قیادت کے سر پر لٹکتے کیسوں کا خوف اس کے غبارے میں سے ہوا نکال دیتا ہے۔ اگلے پانچ برس پاکستان کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کا یہی کردار دیکھتے رہیں گے تاوقتیکہ کوئی معجزہ برپا ہو جائے اور نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خوف کی زنجیروں کو توڑ کر ایک حقیقی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر پائیں۔
بقیہ: قلم کہانی