26 ستمبر 2018
تازہ ترین

پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کا اتحاد ضروری ہے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کا اتحاد ضروری ہے

پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی اور صوبائی کابینہ میں اپنی پارٹی کے اراکین اور اپنے اتحادیوں کو شامل کرلیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے بعد پی ٹی آئی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ بلوچستان حکومت میں بھی حکمراں جماعت کا عمل دخل ہے اور چاروں صوبوں میں اپنے گورنرز بھی تعینات کردیے ہیں، اب پورے ملک میں پی ٹی آئی ہی نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن جو وزیراعظم کے الیکشن سے پہلے دکھائی دے رہی تھی، وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر منتشر ہوئی اور صدارتی الیکشن میں بکھری نظر آئی، اب پھر متحد ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اپوزیشن کا متحد ہونا بہت ضروری ہے، تاکہ حکومت اپنی من مانیاں نہ کرسکے، صدارتی الیکشن میں اپوزیشن مشترکہ امیدوار لاکر بھی جیت نہیں سکتی تھی لیکن مشترکہ امیدوار مقابلے کے لیے لازمی تھا۔ صدارتی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی 353ووٹ لے کر پاکستان کے 13ویں صدر بن گئے، (ن) لیگ اور اپوزیشن کے متفقہ امیدوار مولانا فضل الرحمٰن کو 185ووٹ اوراپوزیشن جماعتوں سے علیحدہ صدارتی امیدوار لانے والی پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن نے 124ووٹ حاصل کیے جبکہ 18ووٹ مسترد ہوئے  مسترد ہونے والے ووٹ لیگی اراکین کے تھے جنہوں نے بطور احتجاج ایسا کیا۔
(ن) لیگی قیادت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ اس کے ارکان نے ایسا کیوں کیا، اگر (ن) لیگی قیادت مشاورت کرکے کسی سینئر مسلم لیگی رہنما کو صدارتی امیدوار نامزد کرتی تو شاید پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق ہوجاتا، کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن تو سب طرف کھیلنے کے عادی ہیں، پھر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پیپلز پارٹی کو 
نوازشریف سے معافی مانگنے کا شوشہ چھوڑ کر پوری اپوزیشن کے متحد ہونے میں آگ لگادی، حالانکہ (ن) لیگ کی طرف سے عبدالقادر بلوچ کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جارہا تھا، لیکن مولانا صاحب نے ’’آگ لینے آئے اور خود ہی گھر والے بن بیٹھے‘‘ کا کام کردیا، ابھی تو مولانا صاحب کی طرف سے یوم آزادی نہ منانے کا غصہ لیگی اراکین اور عوام کے دلوں میں موجود تھا، اوپر سے صدارتی الیکشن کے لیے مولانا نے نوازشریف کو سبز باغ دکھاکر اپنا ہی نام تجویز کروالیا، فضل الرحمٰن قریباً 2ماہ سے نوازشریف کی خیریت دریافت کرنے جیل تک نہیں گئے اور فاٹا کے ایشو پر (ن) لیگ کی سابق حکومت کو علیحدگی کی دھمکی دے دی تھی، وہ کیسے اور کیونکر (ن) لیگ کے صدارتی امیدوار بن گئے۔
اگر (ن) لیگ اپوزیشن کو متحد رکھنے کی بات کرتی ہے تو پیپلز پارٹی تو پہلے ہی اپوزیشن سے الگ ہوچکی اور اپنا امیدوار نامزد کرچکی تھی، اپوزیشن تو متحد تھی ہی نہیں، اپوزیشن کے اکٹھے نہ ہونے سے موجودہ حکومت نے اپنے اقتدار کی ابتدا میں ہی گیس کے نرخ 46فیصد بڑھاکرعوام پر مہنگائی بم گرادیا ہے، اب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ دیکھتے ہیں صدارتی انتخاب کے بعد (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے بلاول بھٹو سے مل کر چلنے کی کوشش کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ پرانی باتوں کو بھلاکر مستقبل میں اکٹھے چلیں گے۔ یہ فیصلہ خوش آئند ہے، اگر (ن) لیگ کی اِن اور آئوٹ قیادت صدارتی الیکشن کے موقع پر ایسا فیصلہ کرتی تو ’’دونوں کو ریلیف‘‘ ملنے کی امید تھی۔ اب شہباز شریف کو ایسی پالیسی اپنانی ہوگی جس سے پارٹی اور ناراض اراکین سب کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ 
پیپلز پارٹی کا چوہدری اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار برقرار رکھنا دانش مندانہ فیصلہ تھا، گو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین زرداری کو اعتزاز احسن کے حوالے سے مخالفین کی جلی کٹی بھی سننا پڑیں، انہوں نے جذبات یا کسی کے ورغلانے یا گمراہ نہ ہوکر ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے۔ ویسے اندرونی اور بیرونی مخالفین کے بہکاوے میں آکر نوازشریف اڈیالہ جیل میں یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ میں تو خود اپنی تقریروں میں کہا کرتا تھا کہ جب نوازشریف تم قدم بڑھائو گے یہ ساتھ نہیں ہوں گے، پھر خود ہی ان کے بہکاوے میں آگیا، گو اس وقت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو منفی باتوں اور طعنوں کا سامنا ہے، 
لیکن وہ مثبت سوچ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ شہباز شریف اور زرداری سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں وزیراعظم عمران خان کو 3 ماہ دینے کے لیے تیار ہیں، یہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے خوش آئند امر ہے کہ وہ اپنے 100دنوں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں کیا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 
اس دوران اپوزیشن کو بھی اپنے اندرونی اور بیرونی سازشیوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، جو انہیں تقسیم کرنے اور اداروں سے لڑانے کا ایجنڈا لیے ہوئے ہیں۔ موجودہ ملکی صورت حال میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادتوں کا یہ کڑا امتحان ہے کہ اپنے رہنمائوں اور کارکنوں کو بچانے میں کامیاب ہونے سمیت حکومت کے اچھے اور غلط کاموں پر نظر رکھتے ہوئے عوام کو آگاہ کرنے کے ساتھ انتخابات کی بھی تیاری کرنا ہوگی، کیونکہ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی 100دنوں کے بعد واضح ہوجائے گی، لیکن اپوزیشن کو ’’آٹا گننی ایں سر ہلدا اے‘‘ والی پالیسی کو وقتی طور پر چھوڑنا ہوگا، تاکہ عمران خان کے پاس کوئی جواز نہ رہے کہ ہمیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، کیونکہ انہوں نے (ن) لیگ کی حکومت میں روڑے اٹکائے تھے، جس متحدہ مجلس عمل نے ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ پر ووٹ حاصل کیے، اس کے صدر کی طرف سے 14اگست کو یوم آزادی نہ منانے کے فیصلے نے قوم کو کیا پیغام دیا ہے، حالانکہ عوام آگاہ ہیں کہ متحدہ مجلس عمل میں 2جماعتیں ایسی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی تو بھلا وہ کیسے پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ کے حق میں ہوسکتی ہیں، بہرحال ان کا یہ نعرہ صرف عوام کو بہکانے کے لیے ہے۔