پیار کی مشروط بازی پیار کی مشروط بازی

سیاست کا چلن بھی عجب ہے، کہتی ہے اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی، جیتوں تو تجھے پاؤں، ہاروں تو پیا تیری۔ اس کی ساری محبت صرف اقتدار کے لیے ہے۔ عوام، وعدے اور نظریات ٹائم پاس کے لیے ہیں۔ جب اقتدار نصیب نہیں ہوتا تو میں ناں مانوں کی رٹ لگا دیتے ہیں۔۔۔ اور سادہ لوح عوام سیاست دانوں کے فریب میں آ کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ جس سے نقصان صرف اور صرف ملک اور قوم کا ہوتا ہے، اس کھیل میں اقتدار کی خاطر پیار کی بازی کھیلنے والے سیاست دانوں کا کچھ نہیں جاتا، انہیں جیل بھی ہو جائے تو نئی سیاسی زندگی مل جاتی ہے۔
اسی آرزو کی ناکامی کے سبب انتخابی نتائج کے بعد ہنگامہ برپا ہوا۔ مسندِ اقتدار کے حصول میں مایوس سیاسی جماعتیں یک دم متحد ہو گئیں، یہ اتحاد لڑائی کے بعد یاد آنے والا مُکا ہے۔ ورنہ یہ سارے سیانے 25 جولائی سے پہلے انتخابی اتحاد کرتے تو شاید مُکے سے بچ جاتے۔ آج سراپا احتجاج بننے والوں کو اس وقت ہوش کے ناخن لینا چاہئیں تھے جب عام انتخابات کا اعلان ہوا۔۔۔ اور سیاسی میلے میں ایک جماعت کا سٹال کھچا کھچ بھرنا شروع ہوا۔ لیکن ہوا کیا، الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی اور قوم پرست جماعتیں الگ الگ چیخ رہی تھیں کہ الیکشن نہیں سلیکشن ہونے جا رہی ہیں۔ اُس وقت ہونا یہ چاہیے تھا کہ باہمی گلے شکوے پس پشت ڈال دیتے اور جنہیں انتخابات کے متعلق خدشات تھے وہ اپنی بقا کے لیے وسیع تر انتخابی اتحاد کر لیتے۔ آج جس اتحاد پر مجبور ہو رہے ہیں یہ بےوقت کی راگنی ہے۔ سانپ گزر گیا اب لکیر پٹتے رہو۔ سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل انتخابی اتحاد کیوں نہ کر سکیں، یہ بھید کھلا تو مستقبل میں بھی اپوزیشن اتحاد کے امکانات دکھائی نہیں دیں گے۔
نظریات میں شدید تضادات کے باوجود اپوزیشن کے پلڑے میں ایک ساتھ بیٹھنے والے زیادہ دور تک ہمسفر نہیں رہیں گے، جلد راہیں جدا اور منزل اپنی اپنی ہو گی۔ قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے موقع پر اپوزیشن اتحاد کے دعویداروں میں پہلی دراڑ 
سامنے آئی۔ پی ٹی آئی کو سپیکر اسد قیصر کے انتخاب میں دو ووٹ اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے انتخاب میں 8ووٹ اپنی گنتی سے زیادہ ملے۔ پی ٹی آئی کی گنتی میں اُن کے ووٹ 174تھے لیکن اسد قیصر کو 176اور قاسم سوری کو 182ووٹ ملے۔ اضافی ووٹ اُنہوں نے دیے جو متحدہ اپوزیشن میں شامل تھے۔ پھر متحدہ اپوزیشن میں بڑا شگاف بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے پڑا، جب وہ پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور ایوان میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے آئے۔ صحافی نے پوچھا، کیا آپ اپوزیشن لیڈر کے لیے شہباز شریف کو ووٹ دیں گے؟ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے جواب دیا ہم ن لیگ کو اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنے کا کہیں گے۔ یہ الفاظ بڑا دھماکہ تھے، جنہیں میڈیا چیخ چیخ کر دوہرانے لگا۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے امیدواروں کو اپنے ووٹوں سے زیادہ ووٹ ملنے اور بلاول بھٹو زرداری کے ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو بدلنے کے بیان نے متحدہ اپوزیشن کے غیر یقینی مستقبل پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ یوں اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے مختلف نظریات اور مفادات نے آدھا انتخابی بکرا حلال آدھا حرام تسلیم کر لیا۔ اب حکومت بھی چلنے دیں اور تعمیری اپوزیشن کا بھرپور کردار بھی ادا کرتے رہیں، یہی مثبت رویہ اپوزیشن جماعتوں کےبہتر مستقبل کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
الیکشن 2018ء میں ناکامی سے دوچار سیاسی جماعتیں جو واویلا مچا رہی ہیں، اس کا خطرہ 2014ء میں بھانپ لینے کے بعد حکمت عملی طے کرنی چاہیے تھی، جب اسلام آباد میں دھرنوں کے موسم نے مستقبل کی سیاسی رُت آشکار کر دی تھی۔ برسات سے قبل چھتری اور سردیوں سے پہلے کمبل نہ خریدنے والے بارش اور سردی میں موسم کی سختی کا شکوہ کرتے اچھے نہیں لگتے، بلکہ انہیں اپنی خامی اور کوتاہی پر کف افسوس ملنا چاہیے۔ اسلام آباد دھرنوں کے دوران پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ ایوان میں کھڑی ہوئی۔ اُس وقت اکثریتی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ وہ نوازشریف کو نہیں بلکہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچا رہے ہیں۔ جب خطرہ ٹل گیا تو نوازشریف پھر اپنی کچن کیبنٹ والی عادات پر آ گئے۔ وہ چاہتے تو ایوان کے اندر اپوزیشن کی ملنے والی بھرپور حمایت، سب کو ساتھ لے کر چلو کی حکمت عملی میں بدل سکتے تھے، لیکن حسب توقع ایسا نہ ہوا اور نوازشریف نے رات گئی بات گئی کا مظاہرہ کر کے غلطی کی۔ اسی طرح نواز شریف چاہتے تو پاناما سکینڈل کھلنے کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے اس کی سماعت کے انکار سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ نوازشریف اپنی مرضی کا انکوائری کمیشن بنانے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپوزیشن کی طرف سے ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کی تجویز کو فوری اور غیر مشروط تسلیم کر کے معاملے کو ایوان میں ہی نمٹا سکتے تھے۔ اس وقت تحریکِ انصاف بھی ایسا ہی کچھ چاہتی تھی کہ پاناما لیکس کا معاملہ پارلیمنٹ کے اندر نمٹا لیا جائے مگر نواز شریف صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے میں ناکام رہے۔ اسلام آباد دھرنوں کے دوران ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان سمٹنے والے فاصلے وقت گزرنے کے ساتھ پھر بڑھتے گئے حتیٰ کہ نااہلی کے بعد نوازشریف ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا بیانیہ لے کر نکلے تو اجتماعات میں عمران خان اور آصف علی 
زرداری کو بھائی قرار دیتے رہے، پھر 25جولائی کو انتخابی نتائج کے بعد خود ن لیگ نے پیپلز پارٹی کی طرف دوڑ لگائی، تب تک چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔ ویسے بھی پہلے گالی پھر دعا دینے والی چالاکی بار بار نہیں چلتی۔
پیپلز پارٹی نے بھی اسلام آباد دھرنوں کے بعد ن لیگی قیادت کے بدلے ہوئے رویہ کو نظرانداز نہ کیا، آصف علی زرداری نے ایک موقع پر کہا ’’اب دھوکہ میں آئیں گے نہ آئندہ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بننے دیں گے‘‘۔ اس دلچسپ داستان کا ایک باب بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کا ہے، جب بلوچستان میں گزشتہ دسمبر میں ن لیگ کے ثنااللہ زہری کی مخلوط حکومت اقتدار کھو بیٹھی تو پیپلزپارٹی بھی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دینے والوں کی صف میں کھڑی تھی۔
جوں جوں وقت گزرے گا، متحدہ اپوزیشن منتشر اور کمزور ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی مفاہمت کی پالیسی پر گامزن رہے گی اور صرف آصف علی زرداری کیخلاف کیسز پر ردعمل دے گی۔ ن لیگ نوازشریف کے بیانیہ پر ڈٹی رہی تو اس کی آواز میں کوئی دوسری جماعت آواز نہیں ملائے گی۔ پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت کو زیادہ مشکلات پیش آنے کا امکان نہیں، تاہم پنجاب اور سندھ کے ایوانوں میں تو تکار ختم نہیں ہو گی۔ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی میں جوڑ پڑا رہے گا۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن میں خوب معرکے پیش آئیں گے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ حمزہ شہباز سے ماضی میں مایوس ن لیگی ارکان اسمبلی خوش نہیں، پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب میں 16ووٹ زائد ملنے کی یہی وجہ ہے، بطور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اپنے ارکان کا اعتماد حاصل کر پائیں گے یا نہیں، اس بات کا فیصلہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے استحکام اور بقا میں اہم ہو گا۔ متحدہ اپوزیشن اتحاد عملی طور پر بےجان ہو چکا ہے، وزیراعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے غیر جانبدار ہو جانے سے عمران خان کو واک اوور ملا، یہ پانچ سالہ واک اوور میں بدل سکتا ہے۔