پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر شہید کی برسی منانے کے نام پر جناب آصف زرداری نے جو رونق میلہ لگایا تھا، اسے کچھ زیادہ انٹر ٹین نہیں کر سکے جس کی وجہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ آج کل موصوف کے ستارے الٹی چال چل رہے ہیں۔ گو کہ آپ کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس طرح کے ’’جمہوریت کُش‘‘ حملے آپ پر وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔ آپ اپنی ذہانت اور جوڑ توڑ سے اس صورت حال سے بڑے احسن طریق سے عہدہ برآ بھی ہوتے آئے ہیں، لیکن اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی لفڑا پڑ گیا ہے اور واقعی لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ گو کہ آپ نے یکے بعد دیگرے کئی داؤ کھیلے ہیں، لیکن معاملات آپ کے ہاتھوں سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ گو کہ آپ نے تازہ جلسے میں ’’جاہلوں‘‘ کو پیغام دیا ہے اور اس کا کچھ رسپونس بھی ملا ہے۔ آپ اور آپ کے جانشین کے ساتھ ساتھ آپ کے مرید خاص مراد علی شاہ کی مراد بھی بر آئی ہے اور نام کنٹرول لسٹ سے نکل گئے ہیں، البتہ کیس نیب کو ریفر ہو گیا ہے۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
اس جلسہ میں جناب زرداری نے اپنا بھرپور داؤ جسے اہل خبر سندھ کارڈ کہتے ہیں، کھیلا ہے۔ آپ کے صاحبزادے نے تو والد گرامی سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر خود کو ’’باغی‘‘ قرار دے دیا ہے۔ جن کو یہ دھمکی آمیز پیغامات دیے جا رہے ہیں۔ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں یہ تو ہوتا رہے گا، لیکن دروغ بر گردن راوی فی الحال تو یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ جناب زرداری کی ’’جاہلوں‘‘ کو دی گئی دھمکی نے کام دکھا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو اپنے کینٹھ میں رہنے کا مشورہ دیا ہے اور نیب کو بھی سخت پیغام دیا ہے۔زرداری صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو للکار کر میاں نواز شریف کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اس حمام میں اکیلے ہی نہیں، زرداری صاحب بھی یہاں غسل فرما رہے ہیں۔ گزشتہ تیس سال سے برسر اقتدار دونوں جماعتیں ایک ہی ’’نعرہ‘‘ اپنائے ہوئے ہیں اور اس کو وہ میثاق جمہوریت کی روح بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جب ان کی جیب پر ہاتھ پڑے ان کی گردنوں کے گرد شکنجہ تنگ ہونے لگے تو جمہوریت کا شور شروع کر دو۔ اب تو دونوں کو اس نعرے کی لت لگ گئی ہے۔ خدا جانے کس منحوس گھڑی میں ان کے ہاتھوں موجودہ نیب چیئرمین کا انتخاب عمل میں آیا۔ دونوں کی طرف سے جس شدت کے حملے نیب پر ہو رہے ہیں، اصولی طور پر اس کے بعد نیب کو ’’عقل‘‘ آ جانی چاہیے تھی لیکن وہ تو اور زور پکڑ رہے ہیں اور آئے روز ان کی طرف کوئی نہ کوئی بُری خبر سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے۔ ایسے ایسے معززین کی پگڑیاں اچھل رہی ہیں کہ الامان الحفیظ۔
مجھے یہ تو یقین نہیں کہ جس طرح کی سنسنی خیز خبریں اور انکشافات ہم اس حوالے سے سن اور پڑھ رہے ہیں، اس سے ’’چس‘‘ ضرور آتی ہے۔ اخبار پڑھتے ہوئے بلڈ پریشر بھی اپنے رنگ بدلتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے ہونے والے مباحث بھی مزا کرتے ہیں، لیکن دل و دماغ دونوں نہیں مانتے کہ جن عظیم شخصیات کے اسمائے گرامی ہم اس سلسلے میں سن رہے ہیں، ان کو کبھی جیل کی ہوا بھی کھانا پڑے گی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس مرتبہ ان واقعات کو خاصی ہائپ دی جا رہی ہے۔ شاید ’’کاریگروں‘‘ نے اس مرتبہ کھیل میں کوئی نیا اور ڈرامائی عنصر پیدا کر کے اپنی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کی ہے، آخر یہ میڈیا کا زمانہ ہے اور اس میں آگے نکلنے کی دوڑ بھی چل رہی ہے۔ پھر وہ کیوں پیچھے رہیں؟ بظاہر تو یہ پالیسی بڑی کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ ہم ایسے خوش فہم عوام کو ان کی پسندیدہ خبریں دے کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھو، لیکن ایک پُراسرار اور خاموش سی آواز کانوں میں یہ بھی کہتی ہے کہ اس مرتبہ شاید انصاف ہوتا دکھائی دے جائے۔ ہم دل جلوں کا ’’کاریگروں‘‘ کو مشورہ ہے کہ اس مرتبہ یہ سنگین مذاق شاید ان کی جان کا روگ نہ بن جائے۔۔۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں!