18 نومبر 2018
تازہ ترین

پٹرول اور ڈیزل پٹرول اور ڈیزل

وزیر پٹرولیم جناب غلام سرور خان کا یہ بیان کہ وہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں ایک سطح پر لانے کی کوشش کریں گے، ڈیزل استعمال کرنے والے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور اداروں کے لیے تو خوش آئند ہو سکتا ہے، لیکن پاکستانی عوام کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ آپ اگر پٹرولیم پر کوئی سبسڈی نہیں دے رہے تو کم از کم انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق ہم سے قیمت وصول کریں، جس سے عوام کو ریلیف ملے۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے گزشتہ دنوں کچھ کارروائی ہوئی تھی جس میں سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر بے تحاشا ٹیکسوں کے اطلاق پر پٹرولیم کی وزارت اور دیگر متعلقہ اداروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے ساتھ حکومت قیمتیں کم نہیں کرتی۔ حکومت عدالت عظمیٰ کے روبرو ایک چارٹ بنا کر پیش کرے کہ پٹرولیم مصنوعات پر وہ کتنے قسم کے ٹیکس لاگو کرتی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد کیے جانے والے متعدد ٹیکسوں کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ فاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان مصنوعات پر پچیس فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کے نرخ کم ہوں تب بھی عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے ان پر مختلف قسم کے ٹیکس لگا کر اسے مہنگا رکھا جاتا ہے۔ یہ قانون کے ساتھ مذاق ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نصف ہو کر سو ڈالر سے پچاس ڈالر تک آ جائیں، پھر بھی ہماری حکومت یہاں پر نرخوں میں کوئی کمی نہیں کرتی۔
 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں کئی حقائق ایسے ہیں جنہیں عام شہری تو کیا اکثر ماہرین معاشیات بھی پوری طرح نہیں جانتے۔ سب سے پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو آج تک کوئی معمولی سہولت نہ دینے والی حکومتیں اپنے بے پناہ اور فضول اخراجات پورے کرنے کے لیے سب سے زیادہ لوٹ مار اسی شعبے میں کرتی ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کے ذریعے سرکاری خزانے میں بے تحاشا رقم جمع کر کے اس سے وڈیروں، سفیروں، مشیروں، نوکر شاہی سمیت مختلف شخصیات اور اداروں کے شاہانہ اخراجات پورے کرتی ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی اصل لاگت یا قیمت پر معمولی ٹیکس لگانے کے بجائے بے تحاشا ٹیکس لگا کر ان کے نرخوں کو تقریباً دگنا زیادہ رقم پر فروخت کرتی ہے۔ حکومت کی اجارہ داری کے باعث صارفین کے پاس تیل خریدنے کا کوئی دوسرا متبادل ذریعہ بھی نہیں ہوتا۔ کئی بار لوگوں نے یہ تماشا بھی دیکھا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس کی مناسبت سے یہاں کمی کر کے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے قیمتوں میں معمولی رد و بدل کر کے شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔ فریب کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک طرف عالمی منڈی میں نرخوں میں کمی کے بعد مقامی طور پر قیمتوں میں کمی کا اعلان کرنے کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ تاہم پٹرولیم مصنوعات پر لیویز اور بعض دیگر ٹیکسوں (مثلاً جنرل سیلز ٹیکس) میں اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ حکومت کا کاروبار چلتا رہے۔
گزشتہ قومی اسمبلی میں پٹرولیم کی وزارت نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت تمام پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مثلاً ریفائنری سے چلتے وقت پٹرول کے نرخ پچاس روپے ہوں تو صارفین سے چوراسی، پچاسی روپے وصول کیے جاتے ہیں، کیونکہ اس میں حکومت 35,34روپے کا سرچارج شامل کر لیتی ہے۔ یہی حال ڈیزل اور دیگر اشیاء کا ہے، جس پر حکومت 40 روپے فی لیٹر سے زائد ٹیکس عائد کر کے عوام کو لوٹتی ہے۔ حکومت کی صرف اس ایک شعبے سے آمدنی کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کتنی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل آٹھ لاکھ ٹن ماہانہ، پٹرول سات لاکھ ٹن ماہانہ، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل دس ہزار ٹن ماہانہ۔ اس میں سے حکومتی ارکان، اعلیٰ حکام، افسران، نوکر شاہی ، وڈیروں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور بااثر و با رسوخ افراد کے خاندانوں پر خرچ ہونے والی پٹرولیم مصنوعات کو نکال دیا جائے تو عام شہریوں کے لیے شاید اس کی نصف مقدار ہی رہ جائے۔ اس صورت میں سرکاری خزانے کی بڑی رقم بچائی جا سکتی ہے اور طلب و رسد کے معاشی قانون کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں زبردست کمی کر کے ان کی قیمتوں کو بھی مناسب حد میں رکھا جا سکتا ہے۔
 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے فاضل جسٹس اعجاز الاحسن کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کم ہیں، جبکہ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور یہ کہ عالمی منڈی اور پاکستان میں ان کی قیمتیں کیا ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ پاکستان کی نسبت بھارت میں پٹرول مہنگا ہے تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بھارت سے موازنہ کیوں کرتے ہیں؟ ان کی آئی ٹی انڈسٹری کو بھی دیکھ لیں۔ بھارت یا کسی بھی دوسرے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم و بیش ہوں تو ان کا پاکستان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی کرنسی پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی بے شمار مصنوعات کم نرخوں کی وجہ سے دنیا بھر میں فروخت ہوتی ہیں، جن سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں درآمدات زیادہ اور برآمدات بہت کم ہونے کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بھی آئے دن کم ہوتے رہتے ہیں، جنہیں بیرونی قرضوں سے مصنوعی سہارا دے کر زیادہ دکھانے کا فریب دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی کرنسی کا حال یہ ہے کہ پچاس کے عشرے میں ڈالر پانچ روپے کا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں ساٹھ روپے کا تھا، جو آج ایک سو بیس روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
کسی ملک کی معیشت مستحکم یا کمزور ہونے کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی کرنسی عالمی مارکیٹ میں کتنی توانا ہے۔ ان سب نکات کو پیش نظر رکھ کر اگر وطن عزیز میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو حکومتوں کی جانب سے اپنی عیاشی اور غیر ضروری اخراجات کے لیے ان مصنوعات پر وصول کیے جانے والے ٹیکس سراسر غیر منصفانہ اور ناجائز ثابت ہوں گے۔ صرف وزیراعظم عمران خان کی خواہشات پر ان کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، اس کے لیے لازم ہے کہ متعلقہ وزارتوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے اور اس حوالے سے قائم ٹاسک فورس ماہانہ رپورٹ بھی پیش کیا کریں کیونکہ چیک اینڈ بیلنس کے کڑے نظام کے بغیر صرف جگ ہنسائی ہی حاصل ہو گی اور پٹواری مافیا عوام میں بے یقینی اور گمراہی پھیلاتا رہے گا۔