19 مارچ 2019
تازہ ترین

پٹرولیم انڈسٹری کے بڑھتے مسائل! پٹرولیم انڈسٹری کے بڑھتے مسائل!

پی ٹی آئی حکومت ابھی تک معاشی مخمصے میں ڈوبی ہوئی ہے، بیرونی دوستوں سے قرضے اور امداد لینے کے باوجود اس کی معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس ماہرین معیشت نہیں اور ابھی تک ڈنگ ٹپاؤ فارمولے پر عمل کیا جارہا ہے۔ گویا معیشت کا نظام ’’ہینگ پالیسی‘‘ کا مرہون منت ہے، جس کی بنیادیں مضبوط بنانے پر توجہ دی جارہی نہ ملک کے سرمایہ کار، کاروباری طبقے اور اداروں کو قوتِ اعتماد مہیا کی جارہی ہے۔ اس کی مثال یوں بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ حکومت ایسے اداروں پر ٹیکس بڑھاکر ان سے ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے جو پہلے ہی کافی ٹیکس دیتے ہیں۔ ان میں پٹرولیم اور موبائل انڈسٹریاں براہ راست ملوث ہیں جب کہ بینکوں کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں، جہاں کسی بھی صارف کو بیرون شہر ٹرانزیکشن یا دوسرے بینک میں معمولی سی رقم پر بھی بھاری فیس ادا کرنا پڑے گی۔
حیرت حکومت اپنے اس ایجنڈے کہ ملک میں سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقوں کی حوصلہ افزائی کرکے ملک میں مہنگائی اور قلت کو ختم کیا جائے گا مگر پٹرولیم جیسی مصنوعات پر لیویز ٹیکس کئی گنا بڑھانے پر تُل گئی ہے، جس سے آنے والے ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوگا۔ اسلام آباد چیمبرآف کامرس نے اس پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں کہ لیویز ٹیکس بڑھاکر کاروباری حلقوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت حال سے لامحالہ خسارے کو کم کرنے میں مصنوعات کے معیار پر فرق پڑسکتا ہے جب کہ مہنگائی کا عفریت بھی اٹھ کھڑا ہوگا۔ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ حکومت پٹرولیم کی مد میں ای سی سی کے اصولوں سے بھی انحراف کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیوں کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ڈالر پالیسی کا اطلاق کررہی ہے۔ یہ ایسا طرز عمل ہے جس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں خسارے کا شکار ہونے کے علاوہ گھاٹے کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اوگرا نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنے مقرر کردہ نرخوں کے برعکس مہینے کے اختتام پر ان کمپنیوں سے جو ادائیگیاں وصول کی ہیں، وہ کسی طور جائز نہیں اور ضابطہ کی خلاف ورزی بھی ہے کہ جب انہوں نے ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق آئل کی قیمتیں مقرر کردی تھیں تو اس دوران اگر ڈالر روپے پر مزید بھاری ہو بھی گیا تو اس کا اثر طے شدہ نرخوں پر نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ 
او ایم سیز ذرائع کے مطابق اوگرا کے سامنے یہ کیس رکھا جاچکا ہے کہ اگر یہی پالیسی برقرار رہی تو ان حالات میں پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں خسارے کی بنیاد پر نہیں چل سکیں گی جب کہ ان سے ناجائز طور پر وصول کردہ اربوں ڈالر پر اب کمپنیوں کو ریلیف ملنا چاہیے، لیکن ’’اوگرا‘‘ بوجوہ اس پر خاموش ہے۔
اوگرا سمیت وزارت پٹرولیم کے دیگر شعبوں میں ان دنوں ایسی ہی غیر مستحکم پالیسیاں چلائی جارہی ہیں جس سے خدشہ پیدا ہونے جارہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ملک میں پٹرولم انڈسٹری بدترین مندی کا شکار ہوجائے گی۔ جیسا کہ ایک انگریزی روزنامے کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چند ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات شدید مندی کا شکار ہوئی ہیں، جس سے حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ بجائے حکومت اپنی غیر مستحکم اور وقتی پالیسیوں کی اصلاح کرتی، اب اس نے لیویز ٹیکس بڑھا کر اپنا خسارہ پورا کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے، دوسری جانب پٹرولم انڈسٹری کو لاحق خطرات کی اس کو کوئی پروا نہیں۔
وزارت پٹرولیم نے ملک بھر میں ریفائنریز کے حوالے سے بھی ایک پالیسی جاری کی ہے، جس میں ریفائنریز کو پٹرول کی اسٹوریج بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملک میں پٹرول کی اسٹوریج بڑھانے کا معاملہ ازخود ایسی اہمیت کا حامل ہے، جس پر پچھلے ستر برسوں سے کوئی بڑا کام نہیں ہوا۔ حکومت نے اس بارے میں ریفائنریز کو کیا مراعات دی ہے، اس پر ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔ ریفائنریز کو کہا تو جاتا ہے کہ وہ اکیس دنوں تک اسٹوریج کو ممکن بنائیں لیکن عملاً ملک میں دس دن کا آئل ہی ذخیرہ ہوتا ہے جب کہ ’’اسٹرٹیجک آئل‘‘ کے بین الاقوامی نظریات کے تحت ملک میں کم از کم 45 دنوں کے لیے پٹرول اسٹوریج ہونی چاہیے۔ اس کا عندیہ وزیراعظم عمران خان نے چند دن پہلے غیر ملکی پٹرول تلاش کرنے والی کمپنیوں کو دی جانے والی رعایات و مراعات کے دوران بھی دیا تھا کہ ملک میں پٹرولیم کی خود کفالت بڑھنے سے اسٹرٹیجک آئل کا دیرینہ خواب بھی پورا ہوگا۔ 
اس وقت پوری دنیا خاص طور پر اہم اور بڑے ملکوں میں اسٹرٹیجک آئل پر ترجیحاً کام ہورہا ہے۔ خصوصاً وہ ممالک جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے یا جنہیں جنگوں کے خدشات لاحق رہتے ہیں، یا پھر جہاں توانائی بحران زیادہ پایا جاتا ہے، انہیں اسٹرٹیجک آئل سسٹم کو ڈیولپ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان ان میں سے ٹاپ ترین ہے جہاں اسٹرٹیجک آئل کے نظام کو بنانے کے لیے ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر انہیں اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام حکومت سے زیادہ اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے کرنے کا ہے، جو برسوں سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہیں، حالانکہ انہیں مستقل بنیادوں پر ملک میں پٹرولیم انڈسٹری سے متعلقہ جملہ منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔