22 فروری 2019
تازہ ترین

پوچھتے جائو پوچھتے جائو

قارئین ،آج کا کالم ای میل کے ذریعے پوچھے گئے آپ کے سوالات کے جوابات پہ مبنی ہے۔ہمارا اور ہمارے بڑوں کایہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ بچوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات ٹال جاتے ہیں۔ اسکی کئی وجوہات ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انکے پاس ان سوالوں کے جوابات ہوتے نہیں یا انکا علم انہیںنہیں ہوتا۔کچھ یہی حال ہمارا بھی ہے۔ ہمارے پاس ان سوالات کے سنجیدہ جوابات ہیں تو سہی مگر ہم اپنے قارئین کا رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے چنانچہ ہم جوابات کو لطیفوں میں لپیٹ کر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
مشرف خان، پشاور شہر
س:کیا آجکل کے دور میں سو روپے میں کوئی اچھا کھانا کھا سکتا ہے؟
ج:جی کیوں نہیں۔ آپ کسی بڑے ہوٹل میں جاکر اچھے کھانے کا آرڈر دیجئے۔ کھا نا کھانے کے بعد آپکو تین چار ہزار روپے کا بل آئے گا۔ آپ ہوٹل کے مینیجر سے کہئے کہ آپ کے پاس تو صرف سو روپے ہیں۔ ہوٹل کامالک آپ کو پولیس کے حوالے کر دے گا۔ آپ پولیس والے کو سو روپے دے کر چھوٹ جایئے گا۔اچھا کھانا بھی ملے گا اور اس طرح کے مزید کھانوں کی آزادی بھی۔
احمد سلیم گوندل، سیالکوٹ
س:کیا نیا پاکستان بننے کے بعد آپ نے کوئی نئی تبدیلی دیکھی؟
ج:جی ہاں۔ اب کھلم کھلا رشوت لینے دینے سے لوگ ڈرتے ہیں اسلئے یہ کام چھپ چھپا کر ہوتا ہے۔ پہلے پڑھے لکھے بیروزگار ہوتے تھے اب وزیر بھی بیروزگار ہو جاتے ہیں۔ پہلے بجلی چوری ہوتی تھی اسلئے بل نہیں آتے تھے، اب بلا رکاوٹ بجلی بھی آتی ہے اور بنا حساب کے بجلی کے بل بھی۔ پہلے لوگ گدھے کا گوشت کھاتے تھے اب کوئی گدھا ہی گوشت کھا سکتا ہے۔ 
پہلے سکول میں استاد ہوتا تھا اب ہاتھ میں موبائل فون اور گوگل ہوتا ہے۔
فوزیہ تبسم، راولپنڈی
س:ہمیں ملکی وسائل بڑھانے چاہئیں یا ملکی آبادی پہ کنٹرول کرنا چاہیے؟
ج:ہمارے وسائل تو بڑھنے سے رہے البتہ ہارے مسائل میںاضافہ ضرور ہوسکتا ہے اگر ہم حقیقت سے نظریں چُرا لینگے تو ۔ ہمارا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ ہم اپنا کام دوسرے پہ ڈال دیتے ہیں اور پھر اﷲ سے اُس کام میں برکت ڈالنے کی توقع رکھتے ہیں۔ جب تک کوئی ہمیںلالچ نہ دے یا ہم پہ سختی نہ کرے ہم وہ کام خود نہیں کرتے ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جھوٹ نہ بولو،جھوٹی گواہی نہ دوگھاس پہ نہ چلو پھول مت توڑو، سرے عام تھوکو نہیں، دیوار کے ساتھ کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو ۔ درحقیت ہم ہر کام دھکا سٹارٹ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جیسے جہاز کے سمندر میں نہ ڈوبنے کے باوجودجہاز کے مسافر ڈوب گئے اور وہ ایسے کہ جہاز چلتے چلتے رکا تو اسکے سارے مسافر اسے دھکا لگانے سمندر میں اتر گئے۔
جاوید ندیم پاشا، ملتان
س:کیا ساری دنیا کے ڈاکٹر واقعی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں؟ 
ج:جی ہاں یہ بھی آپ کے علم میں ہونا چاہیئے کہ وہ خدمت کی فیس بھی لیتے ہیں۔ اسکی زندہ مثال یہ ہے کہ آپ تندرست ہونے کے باوجود آزمانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ لازماً آپ میں چار پانچ بیماریاں نکال کر آپکو ہسپتال میں ایڈ مٹ ہونے کا کہے گا۔ دیکھا جائے خالی انسانیت کی خدمت سے پیٹ تو نہیںبھرا جا سکتا۔ویسے تو انگریزی کا لفظ سوری کہنے سے بندے کا غصہ ختم ہو جاتا ہے مگر اگر ڈاکٹر سوری کہے تو بندہ ختم سمجھا جاتا ہے اس لئے ڈاکٹر کی سوری سے بچئے اور وہ جو کہے جیسا کہے اس پہ عمل کیجئے۔
اصغر علی، ساہیوال
س:انسان کو شادی کب کرنی چاہیے؟
ج؛جب اور کوئی کام کرنے کو نہ ہو۔ یا وہ مارسہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ یاد رہے کہ شادی کے خراب نتائج ہمیشہ شادی شدہ ہی بتا سکتا ہے۔ اگر انسان شادی نہ کرے تو اسکو لوگ طعنے مار مار کے جینے نہیں دیتے اور گر وہ شادی کر جائے تو بیوی طعنے مار مار کے ادھ موا بنا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد ہی بندہ جھوٹ بولنا سیکھتا ہے۔ وہ کسی دوسری عورت کی تعریف کرے تو بھی خیر نہیں اور اگر اسکو بُرا کہے تو جھوٹ لہذا اسکے جھوٹ بولنے میں ہی بچت ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ کے سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے دیکھ کر کسی نے وجہ پوچھی تو وہ بولے، بیوی کی پکائی ہوئی سخت روٹی کھالی تھی۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ آ پکو کھانے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔ وہ بولے میں نے ا یسا ہی تو کیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ شادی ایک ایسا زخم ہے جس پہ زخم لگنے سے پہلے ہی ہلدی لگائی جاتی ہے۔
بسم اﷲ خان، نوشہرہ
س: ڈر کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ کو 
کبھی کسی سے ڈر لگا؟
ج:ڈر ہمیشہ اُسے لگتا ہے جس نے کوئی غلطی کی ہو، اور وہ اُس غلطی کی سزا ملنے کا منتظر ہو۔ ہم بچپن میں حساب کے ٹیچر سے ڈرتے تھے ، اسلئے نہیں کہ وہ ڈرأونا تھا بلکہ اس لئے کہ ہمیں حساب نہیں آتا تھا۔ ایک دن ہم اُس ٹیچرکے گھر گئے تو وہ برتن دھو رہے تھے ۔ اُس دن کے بعد ہمیں اُس سے ڈر نہ رہا ۔ یہ اور بات ہے کہ ہمیں حساب بھی کبھی نہ آیا۔ کچھ لوگوں سے خامخواہ ڈر ایا جاتا ہے حالانکہ ان سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ ایک جرمن ہٹلر کے بارے میں سیاحوں کو بتا رہا تھا کہ جرمن کسان اپنے کھیتوں میں جانوروں اور پرندوں کو ڈرانے کے لئے کھیتوں میں پُتلا لگانے کی بجائے ہٹلر کی تصویر لگا دیتے تھے جس سے نہ صرف جانور ڈر کر کھیت کا رخ نہیں کرتے تھے بلکہ کئی بار تو وہ پرندے جو پچھلے سال گندم کے دانے اُٹھا کر لے گئے تھے وہ بھی دانے واپس چھوڑ جاتے تھے۔
صندل نسیم، لاہور
س:آپ کے خیال میں کیا وزیر اعظم عمران خان کچھ کر پائیں گے؟
ج:عمران خان کا ماضی تو یہی بتاتا ہے کہ انہیں بہت کچھ کیا اور آئندہ بھی بہت کچھ کر پائیں گے اگر انہیں کچھ کرنے دیا گیا تو۔ ورنہ ہمارا حال وہ ہونے والا ہے جس کا نقشہ میں نے، علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ اپنی ایک نظم میں کھینچا ہے کہ
چین و عرب ہمارا ،ایران بھی ہمارا
 نہ ہو سکے کسی کے، سارا جہاں ہمارا 
قرضوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
دھوکہ دہی کرپشن، قومی نشاں ہمارا