22 فروری 2019
تازہ ترین

پوپ فرانسس کا دورۂ متحدہ عرب امارات پوپ فرانسس کا دورۂ متحدہ عرب امارات

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کا تین روزہ دورہ کیا۔ یہ ویٹی کن سٹی کے کسی بھی پوپ کا خلیجی ممالک کا پہلادورہ تھا۔ ابوظبی میں انہوں نے ایک بین المذاہب کانفرنس میں شرکت بھی کی، جہاں اسلامی دنیا کی مشہور درس گاہ جامعہ الازہر کے سربراہ احمدالطیب بھی شریک تھے۔ ایک سینئر تجزیہ کارکے مطابق ان کے اس دورے کا مقصد خلیجی ممالک اور عیسائی دنیا کے ساتھ ریاستی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ یورپی اور امریکی ممالک کے بڑے بڑے جرائد نے ان کے اس دورے کی نمایاں کوریج کی اور خصوصاً شیخ الازہر اور ان کے مصافحے کی تصویر کو اخبارات کا سرورق بنایا۔ فرانس کے مشہور اخبار لی فگارو نے لکھا کہ پوپ نے ایک ایسے وقت امارات کا دورہ کیا جب ابوظبی شدت پسندی کے خلاف بھرپور انداز میں کام کررہا اور اس کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے وسائل خرچ کررہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امارات میں ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ مسیحی رہتے اور ان کے یہاں آٹھ گرجا گھر ہیں، کویت اور عمان میں چارچار اور قطر وبحرین میں ایک ایک گرجا گھر ہے۔
عرب امور کے ماہرین کے مطابق پوپ کا دورہ کوئی اچانک عمل نہیں، اس سے قبل عرب امارات اور سعودی عرب گزشتہ کئی برس سے ویٹی کن سے رابطے میں تھے۔ سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے ایک دہائی قبل اسپین کے شہر میڈرڈ میں بین المذاہب ڈائیلاگ سینٹر کی بنیاد رکھی تھی اور اس حوالے سے کئی کانفرنسیں بھی ہوچکی ہیں۔ چار سال قبل پوپ فرانسس نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے اُردن، فلسطین اور اسرائیل میں موجود عیسائیوں کے مقدس مقامات کی زیارت کی۔ مارچ 2013 میں پوپ فرانسس نئے پوپ منتخب ہوئے تھے، جس کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ مشرقی وسطیٰ تھا۔ ان کے اس دورے کا بظاہر یہ مقصد تھا کہ خطے کی بگڑتی امن وامان کی صورت حال میں جہاں دیگر اقوام اور مذاہب کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، وہیں مسیحی آبادی کو بھی اس حوالے سے خطرات لاحق ہیں۔ 
مبصرین کا کہنا ہے کہ پوپ کا یہ دورہ دونوں مذاہب یعنی اسلام اور مسیحیت کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کا باعث بنے گا، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں دونوں مذاہب کے درمیان خلیج کم ہوگی۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کے حوالے سے ان کا اثررسوخ کسی حد تک اس تنازع کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ عیسائی آبادی اردن کا جزولاینفک ہے اور یہاں ان کی جان و مال کو کوئی خطرات نہیں، کیوںکہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور اس نے ہر ممکن حد تک اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے۔2017 میں پوپ نے مصر کا دورہ کیا، اس کے بعد 2018 میں انہوں نے بنگلادیش کا دورہ کیا اور اب رواں سال مارچ میں ان کا مراکش کا دورہ متوقع ہے۔
عیسائی مشرق وسطیٰ کی بڑی اقلیت ہیں، لیکن مختلف وجوہ کی بناء پر ان کی آبادی اس خطے میں روز بروز گھٹتی جارہی ہے، ان عوامل میں کم شرح پیدائش، مغربی ممالک کی طرف کثرت سے ہجرت اور قبائلی و مذہبی تنازعات وغیرہ شامل ہیں، ایک اندازے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے جو اس خطے کی کُل آبادی کا صرف 5 فیصد ہے، حالانکہ بیسویں صدی کے شروع میں ان کی آبادی مشرق وسطیٰ کی کل آبادی کا قریباً 20 فیصد تھی۔ ایک جائزے کے مطابق اگر عیسائیوں کی آبادی کی شرح اسی طرح گھٹتی رہی تو 2020 تک صرف 60 لاکھ عیسائی اس خطے میں ہوں گے۔ مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کی بڑی تعداد شام (1,800,000)، لبنان (1,800,000)، اردن (300,000)، عراق (400,000)، اسرائیل (150,000) وغیرہ میں آباد ہے۔
پوپ فرانسس جو 80 کے پیٹے میں ہیں اور قریباً ایک ارب 20 کروڑ کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا ہیں، انہوں نے خطے کے مسائل کے جلد از جلد پُرامن حل پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پُرزور التجا کی کہ اس خطے میں خونریزی کو ختم کیا جائے، ہم سب امن چاہتے ہیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے آس پاس جنگ جاری ہے، جس کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنے پڑرہے ہیں، جو روزانہ مررہے ہیں یا پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک صرف پیسوں اور اپنے مفادات کی خاطر اپنا اسلحہ یہاں بیچ رہے ہیں، وہ اس خطے میں برائی پھیلارہے ہیں، ان کا اشارہ خصوصاً شام کی طرف تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے اور جس میں اب تک کئی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ شام کی قریباً 5 فیصد آبادی عیسائی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین ان کی بات غور سے سنیں گے اور اپنے ہتھیار رکھ دیں گے، تاکہ امن و امان کو بحال کیا جاسکے۔
(تلخیص و ترجمہ: محمد احمد۔۔۔ بشکریہ: دی نیشنل)