15 نومبر 2018

پولیس کو معتبر ہونا ہوگا پولیس کو معتبر ہونا ہوگا

لوٹ لیتے ہوں مکانوں کو سپاہی جس کے
ایسے حاکم کی اطاعت نہیں کرتا کوئی
ظلم جب حد سے بڑھ جائیں تو سر اٹھتے ہیں
بے سبب یونہی بغاوت نہیں کرتا کوئی
کیا یہ ملک پولیس اسٹیٹ ہے؟ جی… ہاں… یہ ملک پولیس اسٹیٹ ہی ہے۔ یہاں شرفاء اور عام آدمی کی عزت ایک دھکے پاس کانسٹیبل کے سامنے ہر وقت ڈھیر ہے۔ معاشرے کے مسترد لوگ ہم نے استاد اور سپاہی بنائے ہیں۔ آج اس فصل کو راؤ انوار، عابد باکسر اور رضوان گوندل کی شکل میں کاٹ بھی رہے ہیں۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا ہوتی ہے۔ سلطان اعظم تیموری اب سینئر پولیس آفیسر ہیں۔ مجھے ایک روز کہنے لگے کہ اگر میں عام کپڑوں میں ہوں تو تھانے جانے سے گریز کرتا ہوں۔
جی ہاں… یہ ہے پولیس کی معتبریت، کردار اور خوف، اسی پر ہمارا سسٹم چل رہا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے۔ احسن راجہ صاحب، ملک آصف حیات، جاوید اکبر ریاض سے انتہائی معذرت کے ساتھ، میں لکھنا تو کچھ اور چاہتا تھا۔ احسن راجہ صاحب جو ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں مگر میں انہیں منصف کے طور پر بھی جانتا ہوں۔ کیا خوبصورت ’’گرمُکھی‘‘ لہجے میں لکھتے ہیں۔ ان کا پنجابی ناول ’’اڈیک‘‘ ہمیشہ زندہ رہنے والی تحریر ہے۔ گزشتہ کالم پر انہوں نے ’’انتہائی اعلیٰ‘‘ تبصرہ بھیجا کہ ’’تم نے میرا دن خوبصورت کر دیا ہے‘‘۔ ان کے یہ الفاظ میرے لیے بڑے اعزاز کا درجہ رکھتے ہیں۔ احسن راجہ صاحب کے والد پولیس کپتان تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ایک عرصہ انگریز کے دور اور پاکستان بننے کے بعد پولیس کی نوکری کی مگر 36 سال کے کیریئر میں میری چھڑی کسی مسلمان کی پشت پر نہیں پڑی‘‘۔ ملک آصف حیات پولیس کے کمال آفیسر تھے، دو بار آئی جی بھی رہے۔ پرویز مشرف نے آئی جی سندھ لگایا تو طوفان برپا ہو گیا۔ الطاف حسین کا حلق خشک ہو گیا، پوری متحدہ قومی موومنٹ پریشان ہو گئی۔ جنرل مشرف نے آصف حیات سے پوچھا کہ تم سے متحدہ والے اتنے ڈرتے کیوں ہیں؟ ملک آصف حیات نے ایک طویل فہرست دی، کہا کہ جاتے ہی سب کا ٹرانسفر کر دوں گا، بھتا لیتا ہوں نہ لینے دوں گا۔ وقت کا آمر ہنس پڑا۔ ملک آصف حیات نے کہا کہ بہتر ہے آپ مجھے سندھ نہ بھجوائیں، آپ کیلئے مشکلات ہوں گی اور پھر چند ہفتوں کے بعد 12 مئی والا واقعہ ہو گیا۔ پولیس والوں کے پاس بندوقوں میں گولیاں نہیں تھیں۔ آج وسیم اختر معصوم شکل بنائے ہوئے ہیں، کبھی وہ وقت تھا کہ ان کی اجازت کے بغیر سانس لینا بھی محال تھا، ٹی وی پر لائیو مناظر چل رہے تھے۔ ملک آصف حیات نے مسکرا کر کہا کہ اگر وہ ہوتے تو انہوں نے یہ نہیں ہونے دینا تھا۔
جاوید اکبر ریاض، عظیم محمود سلیم محمود کے داماد ہیں، نیک نام افسر ہیں۔ کسی معزز آدمی کو رسوا نہیں کرتے۔ جیسے مجاہد اکبر ہیں، سچے آدمی اللہ کا خوف بھی رکھتے ہیں۔ اور بھی بہت سے لوگ ہیں سید فرید شاہ جیسے، سعد بھروانہ جیسے مگر یہ لوگ تو انگلیوں پر ہیں۔آج ملک کے بائیس کروڑ لوگ ’’پولیس گردی‘‘ کا شکار ہیں۔ آپ سے پولیس کانسٹیبل نہیں سنبھالا جاتا، ڈی پی او تو بہت بڑی بلا ہوتا ہے۔ پولیس گاڑیوں کی تلاشی مجسٹریٹ کی موجودگی کے بغیر کیسے لے سکتی ہے۔ یہ سفارتکار اپنے آپ کو ایسی صورتحال میں گاڑی میں کیوں لاک کر دیتے ہیں۔ دہشت گردی کی لہر کا یہ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پورے میڈیا پر طوفان برپا ہے۔ داغدار کیریئر رکھنے والے رضوان گوندل کو ہیرو بنا دیا گیا ہے، موصوف خود کو ’’چلبل پانڈے‘‘ سمجھتا ہے۔ یہاں اسلام آبادسرینا ہوٹل میں کیا ہوا تھا، کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں ہے۔ یہ شخص جہاں جاتا ہے وہاں پر ’’دبنگ فلم‘‘ کیوں شروع ہو جاتی ہے۔
اصل واقعہ تو 5 اگست کا ہے، جب خاتون اول کے بچے گاڑی سے اتر کر عقیدتاً بابا فریدؒ کے دربار کی طرف پیدل جا رہے تھے۔ آپ کچھ بھی کہیں، یہ عقیدت کا معاملہ ہے۔ یہ آج سے تو نہیں، دہائیوں سے مانیکاز یہ کرتے آ رہے ہیں۔ مانیکاز کی فیملی اس علاقے کی معزز فیملی ہے، ان کی گاڑیوں کے نمبرز تک پولیس کو پتا ہیں۔ اگر آپ فیملی والے ہیں تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے، پولیس نے خاتون اول کے بیٹے اور بیٹی کو ’’جوڑا‘‘ سمجھ کر مبینہ طور پر کتنی بدتمیزی کی۔ یہ بات بھی آئی جی سے لے کر دوسرے لوگوں کے نوٹس میں تھی۔ پھر دوبارہ واقعہ ہوا،  23 اگست کو، زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر معتبر ذریعے کا کہنا ہے کہ اس روڈ پر پولیس کا نہیں، رات کو رضاکاروں کا ناکہ ہوتا ہے۔ مانیکاز کی گاڑی کا ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے زبردستی 
پیچھا کیا، ان سے بدتمیزی کی گئی۔ انتہائی اعلیٰ سطح کی مداخلت کے بعد پولیس اہلکار واپس گئے۔ ان کی ایک ہی گردان تھی کہ ڈی پی او کا حکم ہے۔ اصل واقعہ ایک اور بھی ہے۔ ایک ایم پی اے کے والد کو جن کا نام احمد علی آرائیں بتایا جاتا ہے، ڈی پی او کے حکم پر اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا گیا، تھرڈ ڈگری کی بھی اطلاعات ہیں۔ وہ علاقے میں اپنی عزت کیلئے خاموش رہے مگر انہوں نے ڈی پی او کو کہا کہ وہ اسے یاد رکھیں گے۔ جب مذکورہ دو واقعات ہوئے تو اس پارٹی نے اپنا سکور برابر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ڈی پی او نے بہت زیادتی کی ہوئی تھی۔ پہلے میڈیا کو ’’رام‘‘ کیا گیا اس کے بعد اپنے مضبوط رابطے اور ’’ضابطے‘‘ استعمال کیے گئے۔ ’’مڈل مین‘‘ اپنے کمیشن کی خاطر سب کچھ کرا گئے۔ شنید ہے کہ ’’بھاری فنڈز‘‘ استعمال ہوئے۔ ڈی پی او رضوان گوندل کو پتا چل چکا تھا کہ جن لوگوں کو ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، اس کا نام سرفہرست ہے۔ اس نے ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ کر کے اپنے آپ کو مظلوم بنانے کی کوشش کی۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اپنے پی ایس پی واٹس ایپ گروپ میں پھیلا دیا کہ اس واقعہ کی بنا پر اسے ٹرانسفر کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری پارٹی نے کمزور بزدار کو شکار کیا۔ ’’کلیم امام‘‘ کے پاس پہلے ہی اس واقعہ کی تفصیلات تھیں۔ ڈی 
پی او اٹھارہ روز میں دوسری بار مانیکاز کو ٹارگٹ کر چکا تھا، ظلم اور زیادتی کا شکار ہونے والی پارٹی موقع کی تلاش میں تھی۔ وزیراعلیٰ نے بظاہر ’’بنی گالہ‘‘ کو خوش کرنے کیلئے یہ کام کیا مگر اصل میں یہ کام کرانے والے بھی اور تھے اور بنیادی قضیہ بھی دوسرا تھا۔
اصل سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اس ملک میں کیوں ہو رہا ہے۔ بیورو کریسی میں بیٹھے ریاست کے بجائے ذاتوں کے وفادار کبھی نظام کو سیدھا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ لوگ بھرتی ہی انہی مقاصد کیلئے کیے جاتے ہیں۔ جب چاہو کوئی بھی واقعہ رونما کر کے سسٹم کو مزید کمزور کر دو۔ مجھے سمجھ نہیں آتا ایف پی ایس سی کیا کر رہا ہے؟۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان کے پاس کیا کوئی نفسیاتی ماہر نہیں ہے۔ یہاں پیسے اور سفارش کی بنیاد پر کوئی بھی شخص کسی بھی گروپ میں چلا جائے۔ یہ اکیڈمیاں کیا سکھا رہی ہیں۔ مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس ، سینئر مینجمنٹ کورس اور نیشنل مینجمنٹ کورس کیا سب فراڈ ہیں۔ یہ لوگ کیسے یہ سب کچھ پاس کر جاتے ہیں۔ کون لوگ ہیں جو انہیں پاس بھی کر دیتے ہیں، ان کی ترقیاں اتنی جلد کیسے ہو جاتی ہیں۔ کیا اس ملک میں عزت دار اور عام آدمی ہونا جرم ہو گیا ہے، طاقت ہی سب کچھ ٹھہر گئی ہے۔ یہ جیسے چاہیں اختیارات استعمال کریں۔ کیا بیورو کریسی اور پولیس سروس مادر پدر آزاد ہے، آپ سیاسی مخالفت میں خاندانوں کو رسوا کر دیں گے؟ نہیں جناب، یہ جنگل نہیں ہے۔ یہ جنگل سے بھی بدتر ہے۔ ہمیں تو صرف سیاسی سکور سیٹل کرنا ہے، سچائی اور حقائق جائیں بھاڑ میں۔
چند سکوں پہ جو بک جاتے ہوں بازاروں میں
ایسے خداؤں کی عبادت نہیں کرتا کوئی