21 نومبر 2018
تازہ ترین

پرتشدد احتجاج سے نجات کی ضرورت پرتشدد احتجاج سے نجات کی ضرورت

یوں تو مملکت خداداد پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کوئی نئی چیز نہیں لیکن ایک ہفتہ قبل سپریم کورٹ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر ایک مخصوص مذہبی طبقے کی جانب سے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت بغاوت پر اکسانے کا جس طرح کا شدید ردعمل سامنے آیا، اس کی نظیر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔یہ ردعمل اتنا اشتعال انگیز تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ملک کے منتخب وزیراعظم کو مختصر خطاب کے ذریعے حکومتی و ریاستی سطح پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ ویسے تو ہمارے ہاں سیاسی وسماجی رہنماؤں سمیت مختلف مکاتیب فکر کے افراد کے خلاف کفر واقتال کے فتوے جاری ہونا کوئی نہیں بات نہیں، لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا ہو کہ ریاست کے دو طاقتور اور اہم اداروں کے سربراہوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر مبنی فتوے جاری ہوئے۔
پاکستان میں پُرتشدد احتجاج اور مظاہرے بھی کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ احتجاج اس حوالے سے منفرد رہا کہ اس میں سرکاری املاک کی نسبت عوام کے مال واسباب کو بے رحمی کے ساتھ نقصان پہنچایا گیا۔ ایک طرف سڑکوں پر موجود سیکڑوں موٹر سائیکل، رکشے اور قیمتی گاڑیوں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا گیا تو دوسری طرف ٹھیلوں پر چیزیں بیچنے والے غریبوں کا مال و متاع بے دردی سے لوٹ لیا گیا۔ حالیہ پُر تشدد احتجاج کے حوالے سے حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ حکومت اور ریاست کی جانب سے کسی نرمی یا لچک کے مظاہرے کے بجائے دو ٹوک اور سخت موقف اختیار کیا گیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر حکومت اور تحریک لبیک کے مابین ہونے والے معاہدے کے نکات سے ایسا تاثر قائم ہوا کہ حکومت نے شدت پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ تاہم معاہدے کے ایک روز بعد وفاقی وزیر اطلاعات کی وضاحت اور حکومتی اقدامات نے ایسے تاثر کی یکسر نفی کر دی۔ حکومت نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے سیکڑوں کی تعداد میں شرپسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات چیف جسٹس کا احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد کے خلاف نوٹس لینا ہے۔ سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے عمل سے متاثرہ افراد کی مشکلات کے ازالے کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
انتہا پسندی کے خاتمے پر بات کرنے سے پہلے انتہا پسندی کی تعریف، اس کے اسباب و عوامل اور اثرات پر بات کر لی جائے تو پاکستان میں انتہا پسندی کی گمبھیر ہوتی صورتحال کو زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اپنے مذہبی اور سیاسی نظریات کی پاگل پن کی حد تک پرستش جنونیت یا انتہا پسندی کہلاتی ہے۔ جنونیت کی بنیادی وجوہات میں تعلیمی و معاشی پسماندگی اور معاشرے میں سائنسی طرزِ فکر کا نہ ہونا ہے۔ ایک مذہبی یا سیاسی انتہا پسند اپنے خیالات و نظریات کو نا صرف حرف آخر سمجھتا ہے بلکہ اسے دوسروں پر زبردستی ٹھونسنے کیلئے قوت، طاقت اور تشدد تک کے استعمال کو جائز سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی جنونیت کی وجہ سے ایک طرف ملک میں کشمکش اور نفرت میں اضافہ کر کے مذہبی یا سیاسی بالادستی کے فروغ کی کوششیں کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کی جنونیت کے باعث ملک میں فکر اور اظہار رائے کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ مذہبی و سیاسی انتہا پسندی کی انتہائی صورت ملک میں لمبے عرصے کے لیے خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت، مذہبی بنیاد پرستی اور شدت پسندی جیسے خطرات اور برائیوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی نہ کسی حد تک مذہبی و سیاسی انتہا پسند تقریباً ہر معاشرے اور ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن ریاستی و حکومتی سطح پر اختیار کی جانے والی کچھ عاقبت نااندیش پالیسیوں اور قانون اور انصاف کے دوہرے معیارات سے کچھ ممالک میں ایسے انتہا پسندوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں پنپنے والی مذہبی انتہا پسندی کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے۔
یوں تو پاکستان میں شروع سے ہی سرکاری سرپرستی میں مذہبی بنیاد پرستی کی ترویج کی بالواسطہ یا بلاواسطہ کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن ضیاء دور میں ہونے والے اسلامائزیشن کے سطحی عمل نے ملک اور معاشرے کے مقاصد اور معیارات ہی تبدیل کر کے رکھ دیے۔ ضیاء دور سے پہلے کا پاکستان کافی حد تک روادار اور ترقی پسند تھا، لیکن امریکی سامراج کے عزائم کی تکمیل کیلئے لڑی جانے والی پراکسی وار نے پاکستان میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کی جڑیں مضبوط کر دیں۔ رہی سہی کسر نائن الیون کے بعد اس وقت پوری ہو گئی جب ایک اور فوجی جرنیل نے امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی دلدل میں دھنسا دیا۔ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں اگرچہ ملک میں انتہا پسندی و دہشت گردی کی مجموعی صورتحال قدرے بہتر ہوئی لیکن اڑھائی سال پہلے ممتاز قادری کی پھانسی اورگزشتہ برس کے اوائل میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز پیجز اور ویب سائٹس چلانے کے مبینہ الزامات میں سوشل میڈیا بلاگرز کی جبری گمشدگی و واپسی نے ملک میں توہین مذہب اور رسالت کی ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
 مردان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کی مبینہ توہین کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں المناک موت بھی سوشل میڈیا پر چلنے والی اسی بحث کا نتیجہ تھی۔ گزشتہ سال اگست میں چینوٹ میں مبینہ گستاخی کے الزام میں تبلیغی جماعت کے دو افراد کے قتل کے افسوسناک واقعے کی کڑیاں تحریک لبیک سے ملی تھیں۔ گزشتہ سال نومبر میں ختم نبوت کے قانون میں مبینہ ترمیم کو جواز بنا کر تحریک لبیک کی جانب سے پُرتشدد مظاہرے اور دھرنے دیے گئے جسے بعد ازاں فوجی قیادت کی مداخلت سے ختم کیا گیا۔ رواں برس کے اوائل میں ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کے ہی معاملے پر یکے بعد دیگرے سابقہ وفاقی وزیر احسن اقبال اور سابقہ وزیراعظم نوازشریف پربالترتیب گولیاں اور جوتے چلائے گئے۔
توہین سمیت کسی بھی معاملے میں کسی بھی شخص کو خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بننے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ دیگر معاملات کی طرح توہین کے معاملات کا بھی عدالت میں باقاعدہ ٹرائل کے بعد فیصلہ ہونا چاہیے۔ انتہا پسندوں کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عدالت عظمیٰ کا ممتاز قادری کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنا اور الزامات ثابت نہ ہونے پر آسیہ بی بی کی سزا ختم کرنا انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کرنے والے بڑے اقدامات ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور میں دھرنا دینے والوں کو ہزار ہزار روپے دینے کے بجائے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا تو حالیہ واقعے کی آڑ میں بغاوت پر مبنی بیانات اور اشتعال انگیز فتوے سننے کو نہ ملتے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون اور انصاف کی حکمرانی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ریاستی و حکومتی سطح پر شدت پسندی و جنونیت کے بجائے رواداری اور سائنسی طرز فکر کی حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہو گی۔