17 نومبر 2018
تازہ ترین

پاک نیوی وطن کی حفاظت کے لیے پُر عزم پاک نیوی وطن کی حفاظت کے لیے پُر عزم

چند دن پہلے لاہور میں پاکستان نیوی کے ڈی جی پی آر ارشد جاوید کی جانب سے لاہور کے سینئر صحافیوں کی رئیر ایڈمرل نوید احمد رضوی کمانڈر سنٹرل پنجاب پاک نیوی سے ظہرانے پر ملاقات کا اہتمام کیا گیا، جس میں روزنامہ ’’جہان پاکستان‘‘ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر اشرف سہیل، لاہور کے نامور کالم نگاروں، اینکرز، تجزیہ کاروں سمیت سینئر صحافیوں نے شرکت کی ۔اس ملاقات کا مقصد پاکستان نیوی کی ملک کے لیے خدمات اور اس فورس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو تھی۔ اس ملاقات میں پاکستان نیوی کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ دوران گفتگو لاہور کے تمام صحافیوں کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب رئیر ایڈمرل نوید احمد رضوی نے باتوں ہی باتوں میں اس بات کا انکشاف کیا کہ ان کا تعلق بھی کسی نہ کسی حوالے سے اہل صحافت اور ادبی قبیلے سے ہے۔ ان کے والد پاکستان کے معروف ادیب اور صحافی عالی رضوی ہیں۔ جناب عالی رضوی کی صحافتی خدمات سے کون واقف نہیں ہے، انہیں آج بھی بہت اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ ستارہ امتیاز رئیر ایڈمرل نوید احمد رضوی اولڈ انتھونین اور مجلسی آدمی ہیں اور دوستوں کی مجلس آباد کرنا اور انہیں ایک جگہ اکٹھا کرنا انہیں خوب آتا ہے جس کی ایک مثا ل لاہور کے صحافیوں کا اکٹھ بھی تھا۔ 
 رئیر ایڈمرل نوید احمد رضوی نے پاکستان نیوی کی کارکردگی اور طریقہ کار کے حوالے سے اپنے مختصر خطاب میں بتایا کہ پاکستان نیوی کس طرح وطن عزیز کی حفاطت کے لیے فضاؤں، سمندروں ،دریاؤں اور زمینی سطح پر دن رات مصروف عمل ہے انہوں نے کہا کہ ہم میدان حرب و ضرب کے سپاہی ہیں تو آپ قلم و قرطاس کے مجاہد ہیں۔ آپ کے قلم سے لکھے اور بولے گئے لفظوں سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس ملک کا ہر شہری اس ملک کی حفاظت کے لیے اپنی اپنی جگہ پر ایک سپاہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایک طرف بحیرہ عرب میں بیرونی قوتیں تقریباً مستقل طور پر موجود ہیں جبکہ دوسری جانب متلون مزاج پڑوسی اپنی حاکمانہ اور جابرانہ سوچ کے تحت اپنے بحری اسلحہ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے جبکہ اندرونی طور پر ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ یہ وہ چند قابل ذکر حوال ہیں جو ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ ہم سیاسی اور عسکری دونوں سطحوں پر نا صرف ہر دم چوکس رہیں بلکہ اپنی انفرادی افادیت کو برقرار رکھیں۔ پاکستان نیوی اپنی مختلف کاوشوں اور علاقائی و بین الاقوامی بحری افواج کے ساتھ مل کر متنوع سرگرمیوں کی بدولت مشترکہ علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے قیام کے سلسلے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان نیوی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بھرپور لگن اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے وطن کی سرحدوں کے دفاع اور ملک کے میری ٹائم اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پُر عزم ہے۔
 پاکستان نیوی کے کارنامے سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں لیکن ایک ایسا کارنامہ جس پر دنیا آج تک انگشت بدنداں ہے وہ ہے دوارکا آپریشن کہ کس طرح کم وسائل اور محدود نفری کے باوجود آپریشن دوار کا میں کامیابی پر پاک بحریہ کی اعلیٰ صلاحیتوں اور بے مثال کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں بری اور فضائی افواج نے دفاع وطن کا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا لیکن آٹھ ستمبر کا دن پاک بحریہ کے نام رہا،آپریشن دوارکا میں پاکستان نیوی نے دشمن کے دلوں پر جو لرزہ طاری کیا،اسی کی یاد میں آٹھ ستمبر کو پاک بحریہ کا دن منایا جاتا ہے۔طیارہ بردار جہاز نہ ہونے کے باوجود پاک بحریہ نے بھی اس جنگ میں بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی تاریخ رقم کی،پاکستان کی واحد آبدوزغازی نے اپنے نام کی لاج رکھی اور غازی رہ کر وہ کارنامہ انجام دیا کہ دنیا اس پر حیران ہوئی،غازی آبدوز نے تن تنہا بھارتی بیڑے کو پیش قدمی سے روکے رکھا۔معرکہ دوارکا میں پا ک بحریہ کے جہازوں نے کموڈور ایس ایم انور کی زیر قیادت دشمن کے چھکے چھڑا دیے، سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی شب کیے گئے حملوں سے دشمن کے اوسان خطا ہو گئے، یہی وجہ ہے بھارت آج تک انیس سوپینسٹھ کی جنگ کے بعد بحری محاذ پر کسی کارروائی کی جرأت نہ کرسکا۔ 
پاک نیوی کی خدمات سمندر تک محدود نہیں بلکہ ملک میں جب بھی مشکل صورتحال پیدا ہوئی بحریہ کے جوانوں نے اپنی خدمات پیش کیں، 2010 کے سیلاب میں پاک بحریہ نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاک بحریہ نے( آپریشن مدد )کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا۔سیلاب زدگان کیلئے 43 ہزار8 سو 50 کلو گرام خوراک اور امدادی سامان پہنچایا، 5 ہزار 7 سو کلو کے تیار کھانے اور 5 ہزار کلو گرام کی خوراک سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سکھر میں ہنگامی بنیادوں پر پہنچائی۔ پاک بحریہ نے بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ 26 دسمبر 2004 کو آنے والے سمندری طوفان نے سری لنکا، بنگلا دیش اور مالدیپ سمیت متعدد ممالک میں تباہی مچا دی۔ پاکستان نے ان ممالک میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے دو جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق، پی این اس نصر اور ایک لاجسٹک پورٹ جہاز بھیجا۔ یہ جہاز تین ہیلی کاپٹروں، ملٹری و سول ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے لیس تھے۔ پاک بحریہ نے مالدیپ کی حکومت کی مدد کرتے ہوئے جزائر میں پھنسے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے انخلا کو یقینی بنایا۔ دوسری جانب پاک بحریہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ پاک بحریہ کے زمینی لڑاکا دستوں نے پاک آرمی کے ہمراہ مغربی سرحدوں پر ہونے والی طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹیں۔ ہندوستان کے تربیت یافتہ طالبان کے پانچ دہشت گردوں نے 22 مئی 2011 کو پاک نیوی کے بحری اڈہ پی این ایس مہران پر حملہ کیا۔ اس دہشت گردانہ حملہ میں نیوی کے 18 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 16 اہلکار زخمی ہوئے۔ پاک نیوی کے ایس ایس جی کمانڈوز نے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملہ کو ناکام بنا دیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ حملہ کرنے والے پانچوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
گوادر پورٹ کی حفاظت کی حساس ذمہ داری بھی پاک بحریہ کے نڈر، بہادر اور بے خوف جوانوں کے کندھوں پر ہے۔ جسے نبھانے کیلئے پاک نیوی نے اپنے چاک و چوبند دستے تعینات کر رکھے ہیں۔ بلاشبہ پاک بحریہ پاکستان کا فخر ہے۔ جس کے کارہائے نمایاں کی بدولت دشمن پر خوف، بے بسی اور بوکھلاہٹ طاری ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ پاکستان نیوی جدید اسلحہ سے لیس ایک جدید جنگی قوت بن چکی جس کی نظریں صرف پاکستان کی سمندری سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر ہیں،بحریہ کا سطح آب بیڑا جدید فریگیٹس،تباہ کن ڈسٹرائرز،ہائی سپیڈ میزائل کرافٹس، گن بوٹس اور مائن ہنٹرز جبکہ فضائی بیڑے میں جدید میری ٹائم ائیر کرافٹس اور ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔پاکستان نیوی قومی مفادات بشمول سی پیک اور گوادر کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر چوکس و مستعد ہے اور علاقائی سمندر وں میں اپنی موجودگی مستقل طور پر برقرار رکھے ہوئے ہے مستقبل میں گوادر دنیا کی ایک بڑی آبی تجارتی مارکیٹ اورگزر گاہ بننے جا رہی ہے اور اس کی کامیابی کا سہرا بھی پاک نیوی کے سر ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم ،صحت اور صاف پانی کی بلوچستان میں فراہمی پر بھی پاکستان نیوی کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔