24 مارچ 2019

پاک فوج امن کی داعی پاک فوج امن کی داعی

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جس کی فوج ملکی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ عوام کی حفاظت بھی کررہی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے قریباً 20 کروڑ عوام اپنی برّی، بحری اور فضائی افواج پر رشک کرتے ہیں، جس کی کئی وجوہ ہیں۔ ملک کا دفاع کرنے والے جوانوں کے جذبۂ حب الوطنی کی وجہ سے ہمیشہ دشمن کو شکست کا سامنا رہا اور ایمان کے جذبے سے سرفراز ان جوانوں نے ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ دوسری طرف سرحدوں پر تعینات پاک فوج کے جوان دشمن پر ناصرف کڑی نظر رکھتے بلکہ اس کی جانب سے ہونے والی ہر قسم کی جارحیت کا بروقت منہ توڑ جواب دیتے ہیں اور اُسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ سیاچن کا محاذ ہو یا سرحدوں کی حفاظت، فضاؤں میں دشمن پر نظر ہو یا سمندر کی تہہ، پاک افواج کے مستعد جوان 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں، تاکہ ہم چین و سکون کی نیند سوسکیں۔ ملک میں کسی بھی ہنگامی صورت حال، قدرتی آفات یا پھر سانحات میں پاک فوج کی خدمات نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔ دنیا کے کسی ملک کے پاس ایسی فوج کی کوئی مثال نہیں ملتی جو گذشتہ دہائی سے دہشت گردی کے خلاف  جنگ جاری رکھے ہوئے ہو اور  قبائلی علاقہ جات وزیرستان، مہمند و دیگر  پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے بعد شہروں میں گھسے دہشت گردوں کا صفایا کرچکی ہو اور اگر اس دوران دشمن کے طیارے  
پاک وطن کی فضا کو چھونے کی کوشش کریں تو اگلے لمحے زمین پر پڑے ہوں۔ 
فوجی اعتبار سے بھارت دنیا میں چوتھی سب سے بڑی جنگی طاقت بن چکا ہے، اس  کے پاس جنگی جہازوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ سرگرم فوجیوں کی تعداد 13 لاکھ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ 28 لاکھ ریزرو نفری بھی ہے جو ضرورت پڑنے پر فوج کی مدد کرسکتی اور ٹینکوں کی تعداد 4400 ہے جب کہ طیارہ بردار جہازوں کی تعداد تین بتائی جاتی ہے، دوسری جانب  پاکستان جنگی اعتبار سے دنیا کا تیرہواں طاقتور ملک ہے۔ اس کا دفاعی بجٹ سات ارب ڈالر ہے اور سرگرم فوجیوں کی تعداد چھ لاکھ 37 ہزار ہے۔ اس کے علاوہ قریباً تین لاکھ ریزرو نفری ہے۔ ہیلی کاپٹرز اور ٹرانسپورٹرز جہازوں سمیت جنگی طیاروں کی تعداد قریباً ایک ہزار اور ٹینکوں کی تعداد تین ہزار ہے۔ پاکستان کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز نہیں، لیکن دوسرے قسم کے بحری جہازوں کی تعداد قریباً دو سو ہے۔  65، 71 کی جنگ اور پھر مغربی پاکستان کی علیحدگی، افغان جنگ میں کردار، کارگل کا سخت محاذ اور نائن الیون کے بعد سے مسلسل اندرونی محاذ پہ مصروف عمل ہونے تک پاک فوج میں کسی بھی جگہ نہ تو کوئی کمزوری نظر آئی اور نہ ہی عصبیت، لسانیت، فرقہ واریت کی بو۔۔۔  حالانکہ کئی دفعہ ایسا تاثر دینے کی کوشش بھی کی گئی کہ پاک فوج میں شدت پسندی حاوی ہونا شروع ہوگئی ہے مگر پاک فوج  کے مضبوط اور منظم نظام نے ایسی کسی بھی کوشش کو پنپنے نہیں دیا۔ 
یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے مگر دشمن طاقتیںکسی نہ کسی حوالے سے اس کی تنظیم کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہیں۔ پاک فوج کی تنظیم، نظم اور صلاحیتوں کی مثال دی جاتی ہے۔ جب ایک ریکروٹ اس ادارے کا حصہ بننے کے لیے آتا ہے تو تربیت کے ابتدائی مراحل میں ہی اس کے ذہن سے ہر طرح کی تقسیم کا مادہ، چاہے وہ زبان کی بنیاد پر ہو یا صوبائیت کی، چاہے وہ فقہ کی بنیاد پر ہو یا نسل کی، کھرچ کر نکال دیا جاتا ہے، تاکہ وہ صرف پاکستانی بن کر دفاع وطن کے لیے قربانی دے سکے اور اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع میں وہ مسلکی تفریق سے دور رہے۔ وہ ملکی دفاع میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے یہ ہرگز نہیں سوچتا کہ وہ مسلمان کا دفاع کررہا ہے یا ہندو کا، سکھ کا دفاع مقصود ہے یا پارسی کا، وہ صرف پاک دھرتی اور پاکستانیوں کا دفاع کررہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدوں سے نکل کر دنیا کے کسی کونے میں بھی امن قائم کرنے کے لیے پاک فوج سے جس وقت بھی مدد طلب کی گئی، ہمیشہ سرخرو ہوکر واپس لوٹی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام واپس پالیا اور یہ بھی ٹھوس حقیقت ہے کہ ہماری فوج دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر پیش پیش رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف اعلانِ جنگ سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ 
اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ دفاعی لحاظ سے پاکستان مضبوط ملک اور ایک جوہری طاقت ہے اور ہماری مسلح افواج ہر طرح کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جب کہ ہمیں اندرونی و بیرونی محاذوں پر بہت سے خطرات کا سامنا ہے، لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ پاک افواج اور عوام دونوں مل کر اس نازک صورت حال کا بخوبی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور یگانگت پیدا کریں اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان مشکلات سے نمٹیں۔ افواجِ پاکستان نے ناصرف زمانۂ جنگ بلکہ دور امن میں بھی پاکستان کی سربلندی اور تعمیر کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بحیثیت ایک ذمے دار قوم، یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قائدؒ کے فرمان ایمان، اتحاد اور تنظیم کو ہمیشہ یاد رکھیں اور وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام، دفاع اور ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں۔