23 ستمبر 2018

پاک روس تعلقات کی نئی جہتیں پاک روس تعلقات کی نئی جہتیں

یہ کس قدر تعجب خیز امر ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی نوعیت کے تعین میں افغانستان کا اہم کرادار ہے ۔آج سے پچیس سال قبل جب ضیاء الحق اپنے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان کے ہمراہ کریملن کا دورہ کیا اور چرنکیو کی تدفین میں شرکت کی تو اس وقت میخائیل گورباچوف جو چرنیکو کے جانشین تھے وہ صدر ضیاء کو ایک طرف لے گئے اور دھمکیانہ انداز میں کہا کہ اگر پاکستان نے امریکہ کے تعاون سے مجاہدین کی مددبند نہ کی توان کے ملک کو تباہ کردیا جائے گا لیکن صدر ضیاء نے ان کو کہا کہ پاکستان اس معاملہ میں ملوث نہیں ہے حالاں کہ اس بات میں سچائی نہیں تھی ۔سوویت یونین وہ جنگ ہار گیا اور پھر امریکہ نے اس خطہ کی راہ لی ،اب تین دہائیوں کے بعد وہی منظر ایک دفعہ پھر سامنے آرہا ہے لیکن اب افغانوں کی پشت پر امریکہ کی جگہ روس ہے جس سے اسلام آباد نے ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں جس کے مطابق روس پاکستانی فوجیوں کی ماسکو میں ٹریننگ کرے گا۔
2014ء میں مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے معاملے پر روس کے امریکہ سے تعلقات کافی کشیدہ ہوگئے جس کے بعد روس نے چین سے اپنے روابط مستحکم کرکے اسلام آباد سے اپنے تعلق میں بہتری پیدا کی جس سے اس کا مقصد جنوبی ایشیا میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کرنا تھالیکن چونکہ پاکستان امریکہ کا کافی عرصہ سے اہم اتحادی تھا لہذا روس کی یہ کوشش زیادہ بار آورثابت نہیں ہوئیں ۔کچھ عرصہ بعد حالات نے پلٹا کھایا اور پاک امریکہ تعلقا ت میں بگاڑپیدا ہوگیالیکن صدر اوباما نے اس دوران پاکستان کی مالی امداد تو ختم نہیں کی کیوں کہ امریکہ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ افغان جنگ پاکستان کی بھرپور مدد کے بغیر جیتنا ایک مشکل امر ہے ۔صدر ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات انتہائی کم تر سطح پر آگئے جس کے بعد روس کو ایک بار پھر موقع ملا اور اس نے چانک پاکستان کو اسلحہ کی فروخت پر عائد پابندی اٹھا لی اور پھردونوں ممالک کے درمیانس مختلف قسم کے دفاعی سودوں کی بازگشت سنائی دینے لگی ۔
پاک روس تعلقات میںحالیہ تبدیلی2014ء سے آنی شروع ہوئی جب روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اپنے پہلے دورہ پاکستان میں پاکستان کی دفاعی نمائش آئیڈیاز میں شرکت کی۔ اس دورہ نے دونوں ممالک کے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اس دورہ میں مختلف دفاعی معاہدات پر دستخط ہوئے ان میں سے سب سے قابل ذکر معاہدہ یہ تھا کہ روس پاکستان کو MI-25 گن شپ ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا حالاں کہ ہندوستان نے ان معاہدات پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہارکیا تھا لیکن روس نے انہیں مسترد کردیاتھااور اب اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر وہ اب پاکستان کوKlimov RD-93انجن برآمد کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ JF-17تھنڈر طیارہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکے جو پاکستان اور چین کی ایک مشترکہ کاوش ہے ۔اس انجن کی تنصیب کے بعد یہ طیارہ غیر ملکی خریداروں کے لئے مزید کشش کا باعث بن جائے گا۔مزید برآں یہ کہ فی الحال پاکستان تقریبا پانچ MI-25  شپ ہیلی کاپٹرخرید رہا ہے اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ ان بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں یہ آرڈر 20تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگلا ٹیسٹ کیس ماسکو کے لئے یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستا ن Su-35فائٹر خریدنے کا اعلان کردے  جسے روس رواں سال چین کے حوالہ کررہا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو جدید ہتھیاروں کی فروخت پر غیر اعلانیہ پابندی کے بعد روس اس حوالہ سے پاکستان کی ضروریات کافی حد تک پوری کرسکتا ہے۔ دفاعی تعاون کے علاوہ روس نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت وہ کراچی سے لاہور تک تقریبا گیارہ سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائے گا جس پر تقریبا دو ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ تقریبا پانچ سال میں مکمل ہوگا ۔چوبیس انچ قطر کی اس پائپ لائن کے ذریعہ سالانہ چوبیس ارب کیوبک میٹر گیس کراچی سے لاہور منتقل ہو سکے گی ۔گیس پائپ لائن معاہدہ دونوں ممالک کے رمیان خوش گوار تعلقات اور روس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوستی کی یاد گار کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دوسری طرف پاک روس چین کی شکل میںعلاقائی طاقتوں کی ایک نئی تکون آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہی ہے اور حیرت انگیز امر روس کا پاکستان کے ساتھ تیزی سے تعلقات کی بحالی ہے ۔اس اتحاد کی تشکیل میں دو عناصر زیادہ اہمیت کے حامل ہیں سب سے پہلا افغانستان کا مسئلہ جس نے اس پورے خطہ کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے گزشتہ پندرہ برس سے یہاں امریکا کی موجودگی کے باوجود مسائل جوںکے توں ہے چنانچہ اس خطہ کی علاقائی طاقتوں روس اور چین نے اس بحران کے حل کی جانب توجہ دی اور افغانستان کے سب سے بڑے بیرونی اسٹیک ہولڈر پاکستان کو ساتھ ملا کر ایک سہ فریقی اتحاد قائم کیا جو  علاقائی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے کو تیار نظر آتا ہے جس کے کچھ عرصہ کے دوران تین اجلاس اسلام آباد،ماسکو اور بیجنگ میں منعقد ہوچکے ہیں ۔یہ سہ فریقی اتحاد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی شمولیت کے بغیر تشکیل دیا گیا ہے اور مستقبل قریب میںیوں دکھائی دیتا ہے کہ دنیا میں علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھے گا جس کی عملی صورت ہمیں شام کے مسئلہ میں نظر آتی ہے اور اب افغانستان کے مسئلہ میں بھی علاقائی طاقتیں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے بے تاب دکھائی دیتی ہیں کیوں کہ کم وہیش چالیس سال سے جاری اس بحران کے حل میں امریکہ اور مغربی طاقتیں بوجوہ کامیاب دکھائی نہیں دیتیں اور یہ مسئلہ علاقائی امن وامان کے لئے بھی ایک درد سر بن چکا ہے ۔افغانستان کی روز روز بگڑتی صورت حال اور وہاں داعش کے غیر معمولی انداز میں پھیلتے ہوئے اثر ورسوخ پر سب کو تشویش ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیںکہ روس،چین اور پاکستان پڑوسی ممالک ہونے کی وجہ سے افغانستان میں یکساں اسٹریٹیجک اور علاقائی وتجارتی مفاد رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سوں کے خیال میں یہ ممالک ہی افغانستان میں قیام امن کے لئے مخلص ہوسکتے ہیں۔
(تلخیص وترجمہ:محمداحمد۔۔۔بشکریہ:خلیج ٹائمز)