20 ستمبر 2018
تازہ ترین

پاک امریکا تعلقات اور ہماری ترجیحات پاک امریکا تعلقات اور ہماری ترجیحات

امریکا کی جانب سے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں ملنے والی 30کروڑ ڈالر(36ارب روپے) کی رقم منسوخ کیے جانے پر پاک امریکا تعلقات میں پہلے سے موجود خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ واضح  رہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈز منسوخ کرنے کا اعلان پانچ ستمبر کو امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے شیڈول دورہ پاکستان سے چند روز پیشتر کیا گیا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ مائیک پومپیو کے دورے کے دوران گفتگو کا اہم موضوع عسکریت پسندوں کے خلاف ’’ان ٹھوس کارروائیوں‘‘ پر زور دینا ہو گا جن کے نہ کیے جانے پر 30کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں ملنے والی رقم کی ادائیگی پر زور دے گا کہ پاکستان کے مطابق یہ امداد نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر صرف ہونے والی وہ رقم ہے، جو پاکستان نے از خود خرچ کی ہے۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی امداد موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے کی بند ہے۔ 30کروڑ ڈالر کی جو بات ہو رہی ہے وہ نہ تو امداد ہے اور نہ ہی معاونت۔ ان کے مطابق یہ وہ پیسہ ہے جو امریکیوں نے ہمیں ادا کرنا تھا جو وہ ادا نہیں کر رہے یا ادا کرنا نہیں چاہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی آئندہ اس حوالے سے فنڈز دینا چاہیں یا نہ دینا چاہیں، یہ ان کی صوابدید پر منحصر ہے لیکن ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی اصولی طور پر ہونی چاہیے اور وہ اس معاملے پر امریکی حکام سے ضرور بات کریں گے۔ یاد رہے کہ 2017ء سے 2018ء کے لیے امریکا نے ہمیں کولیشن فنڈ کی مد میں 30کروڑ ڈالر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔
یوں تو پاک امریکا تعلقات کی 70سالہ تاریخ میں متعدد نشیب و فراز آ چکے ہیں، لیکن افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے ایشو پردونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی تلخی و بدمزگی نے دونوں ملکوں کے معاملات ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ تک پہنچا دیے ہیں۔ امریکا سمجھتا ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں کو نا صرف پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ یہاں سے افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی حتیٰ کہ عملی کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کا موقف یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے پاس خود افغانستان میں اتنی جگہ موجود ہے کہ انہیں پاکستان میں ٹھکانے بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان گزشتہ 15سال سے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اسے بے وقوف بنا کر دھوکہ دیتا رہا ہے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکی جنگ کا حصہ بننے کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی در آئی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف سنجیدہ اور فیصلہ کن کارروائی کرے جبکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت افغان مزاحمت کاروں کے خلاف جانے کی صورت میں دہشت گردی کی جنگ دوبارہ سے پاکستان پر مسلط ہو سکتی ہے۔ امریکا افغان طالبان کو فیصلہ کن شکست دیکر یا کافی حد تک کمزور کر کے وہاں امریکی اور بھارتی اثر رسوخ کی حامل حکومت دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کے خیال میں افغان معاشرے میں افغان طالبان ایک زمینی حقیقت ہیں اور انہیں حکومت میں شریک کیے بغیر افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔
قیام پاکستان سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں امریکا پاکستان کو مجموعی طور پر 67ارب ڈالر کی اقتصادی و فوجی امداد دے چکا ہے جس میں سے 33ارب ڈالر کی امداد صرف گزشتہ 15سال کے دوران دی گئی ہے۔ گزشتہ 15سال میں فراہم کی جانے والی 33ارب ڈالر کی امداد میں 14.5ارب ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دیے گئے جو تکنیکی اعتبار سے مالی امداد کے زمرے میں نہیں آتے کہ یہ امریکی افواج کی سربراہی میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے لیے پاکستان کی طرف سے تذویراتی اور آپریشنل تعاون فراہم کرنے کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے تھے۔ تاہم اس فنڈ کا بڑا حصہ پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک اور اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف امریکا کی منشا کے مطابق کارروائیوں سے مشروط تھا۔ پرویز مشرف کے دور حکومت کے ابتدائی چند سال تک امریکا یہ سمجھتا رہا کہ وہ پاکستان کی مدد سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ جلد جیت جائے گا، لیکن مشرف دور کے آخر میں امریکا یہ محسوس کرنے لگا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کہیں نہ کہیں مشرف ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ 
پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کیری لوگر بل کے تحت دی جانے والی فوجی امداد کی متنازع شرائط میں ایک یہ شرط بھی شامل تھی کہ پاکستان کو فوجی امداد جاری ہونے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کانگریس میں سرٹیفیکٹ پیش کرے گا کہ آیا پاکستانی حکومت شدت پسند گروہوں سے نمٹنے کیلئے مستقل کوشش کر رہی ہے اور اس نے اپنی خفیہ ایجنسی اور فوج میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج اور ہمسایہ ممالک یا ان کے شہریوں پر حملے کرنے والے عناصر کی حمایت پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ نواز شریف کے دور میں پاکستان کو متعدد بار حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا کہا گیا۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دی جانے والی 30کروڑ ڈالر کی رقم روکنے سے پاکستان کو کوئی قابل ذکر فرق نہیں پڑنے والا، تاہم ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ امریکا افغان جنگ میں اپنی خواہشات کے مطابق پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے مزید کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ افغان جنگ میں اپنی مرضی کا تعاون نہ ملنے کی پاداش میں امریکا ہمارا نام گرے لسٹ میں شامل کرا چکا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی تعاون کرنے پر رضامند ی ظاہر نہیں کی تو امریکا پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے سمیت آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں پر دباؤ ڈال کر ہمارے لیے مشکلات پیدا کرنے کی حتی المقدورکوششیں کر سکتا ہے۔ ان حالات میں ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم امریکا سے معاملات بگاڑے بغیر اسے مذاکرات کے ذریعے افغان ایشو کا حل تلاش کرنے پر قائل کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چین اور روس کے توسط سے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے اقتصادی و دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو ایران اور ترکی سمیت مسلم ممالک سے بھی اپنے تجارتی و دفاعی تعلقات کو وسعت دینی چاہیے۔ آخری بات یہ کہ عالمی سطح پر امریکی مخالفت کو بہتر انداز میں کاؤنٹر کرنے کے لیے ہمیں یورپی یونین کے ممالک اور برطانیہ سے اپنے تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام لانا ہو گا۔
بقیہ: آگاہی