24 ستمبر 2018
تازہ ترین

 پاک افغان تعلقات اور منصوبہ بندی پاک افغان تعلقات اور منصوبہ بندی

پاک افغان تعلقات کے تناظر میں یہ امر کسی دلیل کا محتاج نہیں کہ جنوب مغربی ایشیا کی سلامتی و استحکام کے لیے دونوں برادر ہمسایہ ملک کے درمیان باہمی اعتماد کی بنیاد پر مضبوط تعلقات ناگزیر ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تہذیبی، ثقافتی، مذہبی، معاشرتی، سرحدی اور معاشی اشتراک ایسی حقیقت ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار روابط سے خطے میں پائیدار امن، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے امکانات روشن تر ہوسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض تلخ حقائق کے باوجود پاکستان شروع دن سے افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کے لیے کوشاں رہا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جدوجہد، افغان مہاجرین کی نگہداشت، کابل میں سیاسی استحکام اور افغان داخلی امن جیسے حساس ترین معاملات میں پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا ہے۔ عالمی برادری کے باخبر حلقے بخوبی آگاہ ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، خطے کی سلامتی اور افغان امن عمل کے لیے پاکستان نے اپنی سلامتی تک کوداؤ پر لگانے سے گریز نہیںکیا۔ 
پاکستان کی انتھک کوششوں اور پُرخلوص جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے کہ علاقائی و عالمی امن کو لاحق خطرات بڑی حد تک کم ہوچکے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو فون علاقائی امن اور پاک افغان تعلقات کے باب میں انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ صدر غنی کی طرف سے حالیہ انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنیوالی سیاسی جماعت کے سربراہ سے رابطہ یقیناً اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ افغان امن عمل کیلئے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے، انہیں افغانستان کے دورے کی دعوت دی، جس کا بظاہر مطلب یہی ہے کہ وہ خطے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کررہے ہیں۔ افغان صدر نے عمران خان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان باہم بھائی چارے، ہمسائیگی اور دوستی کے دیرینہ رشتوں سے منسلک ہیں، افغان صدر نے عمران خان کو افغانستان دورے کی دعوت بھی دی جسے عمران خان نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ 
افغان صدر نے اس گفتگو کے متعلق ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم نے ماضی کو بھلاکر دونوں ملکوں کے خوشحال سیاسی، سماجی اور معاشی مستقبل کے لیے نیا سنگ بنیاد رکھنے پر اتفاق کیا۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو محفوظ اور پُرامن بنانے کے لیے کام کرے گی، انہوں نے کہا کہ بھارت خوش حال اور ترقی پسند پاکستان کا خواہشمند ہے، امید ہے نئی حکومت جنوبی ایشیا کو محفوظ، مستحکم و پُرامن اور دہشت گردی وتشدد سے پاک خطہ بنانے کے لیے تعمیری کام کرے گی۔ بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور خطے کو پُرامن بنانے کے 
لیے جن خواہشات کا اظہار کیا، وہ یقیناً صائب قدم ہے، اگر دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان کے ساتھ اپنے معنی ومفہوم کے لحاظ سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے اور ایک عرصے سے دہشت گردی اور تشدد کے شکار اس خطے میں حقیقی معنوں میں امن وامان قائم ہو جائے۔ عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی وکٹری سپیچ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے یورپی یونین کی طرز پر افغانستان کے ساتھ کھلے بارڈر کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔ بھارت اور افغانستان سے پاکستان کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان انتخابات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں افغانستان کے لیے پاکستانی موقف کا کھل کر اظہار کر چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے، سرحدی معاملات اور دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعلقات کے لیے عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا، بلاشبہ ان کو بنیاد بناکر خطے کے استحکام کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ عمران خان کی تقریر اور اس کے بعد افغان صدر کا فون دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کرنے کا باعث ہونا چاہیے۔ چونکہ وزیراعظم افغان مسئلے، دہشت گردی اور خطے میں غیر ملکی مداخلت پر ٹھوس موقف رکھتے ہیں، اس حوالے سے وہ قومی، علاقائی اور عالمی فورمز پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان معاملات میں مثبت پیش رفت ہوسکے گی۔ 
اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین سرزمین پاک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ان مہاجرین کی شکل میں خوفناک معاشی دباؤ کا سامنا ہے، سماجی سطح پر بھی افغان مہاجرین کے باعث مشکلات ہیں، سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ان مہاجرین کے بھیس میں شرپسند عناصر پاکستان میں آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں موجود دشمن قوتیں بھی پاکستان میں حالات خراب کرنے میں بھیانک کردار ادا 
کررہی ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران بھی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں ہوئیں، جن میں انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدواروں سمیت 300کے قریب بے گناہ پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ امریکا کو یقین ہے کہ عمران ایسی شخصیت ہیں جو طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر بٹھاسکتے ہیں، امریکا کو پورا یقین ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد افغانستان میں امن آنا شروع ہوجائے گا۔  عمران خان اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات کا اشارہ انتخاب جیتنے کے بعد اپنی پہلی نشری تقریر میں قریباً کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ افغان عوام کو امن کی ضرورت ہے۔ پاکستان چاہتا ہے افغانستان میں امن ہو،افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا ۔پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی پہلی تقریر سے واضح ہو گیا کہ نئی حکومت کی خارجہ تعلقات کی پہلی ترجیح افغانستان میں قیام امن ہے۔امریکا کو بھی ادراک ہوچکا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن کسی طور ممکن نہیں، اس لیے ٹرمپ انتظامیہ اور پینٹاگون کو یقینا اس کے لیے پاکستان کی نئی حکومت کی طرف دست دوستی دراز کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نئی حکومت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی یہ پہلی فتح ہوگی جو خطے میں پائیدارامن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔