19 نومبر 2018

پاکستان میں نئی کرنسی کی بازگشت پاکستان میں نئی کرنسی کی بازگشت

تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی خبر گرم ہوئی کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے نئے کرنسی نوٹوں کے متعلق چند اہم فیصلے لیے ہیں، گو بعد میں انہوں نے اس کی تردید کی، لیکن اب بھی معاشیات کے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ اچانک ہوجائے تو ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے، اس سے قبل بھارت رشوت کے خاتمے اور اپنی کرنسی کی ویلیو برقرار رکھنے کے لیے 500 اور 1 ہزار کے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے، مودی کے اس اچانک فیصلے پر ملا جُلا ردّعمل سامنے آیا تھا، لیکن مجموعی طور پر بھارت کے ڈی مونیٹائزیشن کے فیصلے کو سراہا گیا، اس کے بعد عوام کو پچاس دن کا وقت دیا گیا کہ وہ اس عرصے میں پرانے نوٹ تبدیل کرالیں، ورنہ وہ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ صرف کاغذ کے ٹکڑے رہ جائیں گے، گو اس فیصلے سے عوام کو مشکلات سامنا کرنا پڑا لیکن مجموعی طور پر کالے دھن، ٹیکس نیٹ اور ملکی معیشت پر اس فیصلے کے مثبت نتائج مرتب ہوئے۔
اگر ہم کرنسی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ شروعاتی دور کے انسان لین دین، بارٹر سسٹم کے تحت کرتے تھے، وقت کے ساتھ یہ نظام ناکام ہوتا گیا، سونے چاندی یا دوسری دھاتوں کے سکّے آئے، وقت کی گرد اور زمانے کے بدلتے زمینی حقائق کے ساتھ یہ نظام بھی متروک ہوگیا اور لین دین نے نسبتاً بہتر کاغذی کرنسی کا نظام اپنالیا۔ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پہلے پہل یہ کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپی جاتی تھی لیکن 1971 میں بریٹن ووڈ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ایسی کوئی روک ٹوک باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی کنٹرول کرنے والے ادارے اور حکومتیں اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے 
زیادہ سے زیادہ کرنسی چھاپنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کرنسی زیادہ چھاپی جائے تو افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر لامحالہ کم ہوجاتی ہے (یعنی اس کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے) اس طرح لوگوں کا اور باقی دنیا کا اعتبار اس کرنسی پر کم ہونے لگتا ہے، جو کرنسی چھاپنے والے ادارے یا حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ لوگ پھر دوسری کرنسی کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے حکومتیں ایک حد سے زیادہ کرنسی نہیں چھاپ پاتیں۔ پچھلی دہائی میں زمبابوے کی حکومت نے اپنی بقا کے لیے بے تحاشا کاغذی کرنسی چھاپ کر اپنی آمدنی میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً 2008 میں زمبابوے کے 1200 ارب ڈالر صرف ایک برطانوی پاؤنڈ کے برابر رہ گئے۔ اس قدر افراط زر کی وجہ سے زمبابوے میں شرح سود 800 فیصد تک جاپہنچی تھی۔
اگر ہم پاکستانی کرنسی کی بات کریں تو یکم اپریل 1948 ہی کو حکومت نے ایک پائی، آدھا آنہ، دو آنہ، پائو روپیہ، نصف روپیہ اور ایک روپیہ کے سات سکوں کا ایک سیٹ جاری کیا اور اس وقت کے وزیر خزانہ غلام محمد نے ایک خوبصورت تقریب میں یہ سیٹ قائداعظمؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ پاکستان میں مالیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز جولائی 1948 میں کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح سے ہوا۔ اس کے بعد ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری اور اپنے سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے قیام کے لیے کوششیں تیز کردی گئیں، ان کوششوں کے نتیجے میں درج ترتیب سے سکوں اور نوٹوں کا اب تک کا اجرا ہوتا رہا ہے۔ 
یکم اکتوبر 1948 کو حکومت پاکستان نے پانچ روپے، دس روپے اور سو روپے کے کرنسی نوٹ جاری کیے۔ 1987 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ہزار روپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا جو مالیت کے اعتبار سے اُس وقت پاکستان کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ تھا۔ مئی 2006 کو اسٹیٹ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے پانچ ہزار مالیت کے کرنسی کے اجرا کا اعلان کیا، جس کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، الٹا پانچ ہزار کے نوٹ نے کرپشن کو آسان کردیا ہے، 20 نوٹوں کی شکل میں ایک لاکھ روپے سے کسی کی بھی مٹھی گرم کی جاسکتی ہے اور بڑے سے بڑا کالا دھن اک چھوٹے سے بریف کیس میں ڈال کر ایک سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ امریکا جیسی سپرپاور نے اسی ممکنہ کرپشن کے پیش نظر آج تک پانچ سو ڈالر کا نوٹ متعارف نہیں کرایا، امریکی ڈالر کا سب سے بڑا نوٹ صرف 100 ڈالر ہے۔
سونے پہ سہاگہ اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اس کے آزمائشی سکّے مارکیٹ میں بھی آچکے ہیں، یہ نیا دس روپے کا اک سکّہ میرے پاس بھی موجود ہے۔ کسی بھی ملک میں سب سے بڑے کرنسی نوٹ اور سب سے کم سکے کو دیکھ کر ہی اس کی معیشت اور کرنسی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی معیشت کی کہانی بھی اس کی کرنسی سے واضح ہورہی ہے۔ سب سے بڑا کرنسی نوٹ تو پانچ ہزار روپے کا تھا ہی، اب سکّہ بھی 10 روپے کا، حالانکہ دنیا بھر میں کم ترین کرنسی کو سکّوں کی شکل میں جاری کیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان، آج کی تاریخ میں کرپشن جس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اگر چھپایا گیا کالا دھن نکلوانا چاہتی ہے تو فوراً پانچ ہزار والے نوٹ کو بند کرنے کا اعلان کردے۔ یہ ایک حقیقت ہے خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والی لوئر کلاس اور اکثریتی لوئر مڈل و مڈل کلاس کے پاس بڑی تعداد میں پانچ ہزار کے نوٹ نہیں، اس لیے نہ تو حکومت کو کرنسی نوٹ کی کمیابی جیسے مسائل درپیش ہوں گے اور نہ ہی زیادہ تعداد میں نئے نوٹ چھاپنے پڑیں گے، بلکہ اس سے ہوگا یہ کہ جن لوگوں کے پاس کالا دھن ہے، انہیں لامحالہ یہ رقم باہر نکالنی پڑے گی، اگر وہ یہ رقم بینکوں سے تبدیل کرانے کے لیے منظرعام پہ لاتے ہیں یا کھاتوں میں جمع کراتے ہیں تو انہیں ایف بی آر کو جواب دینا ہوگا کہ یہ رقم ان کے پاس کہاں سے آئی، مزید براں اس اقدام سے کوئی بھی ایمنسٹی سکیم دیے بغیر ٹیکس چوروں کی بھی نشان دہی ممکن ہوپائے گی اور ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے گا، جس سے بلاواسطہ ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور مہنگائی کی چکی میں پستے عوام راحت کا سانس لے پائیں گے۔