14 نومبر 2018
تازہ ترین

پاکستان خارجہ پالیسی از سر نو مرتب کرے پاکستان خارجہ پالیسی از سر نو مرتب کرے

پاکستانیوں نے ان دنوں نئی حکومت اور عیدا لضحیٰ کی خوشیاں اکٹھی منائی ہیں۔ عمران خان اپنے دور کے معروف کرکٹر اور ہر د ل عزیز شخصیت تھے، تاہم کھیل کی مہارت اور سیاسی داؤ پیچ میں بہت فرق ہے۔ پاکستان میں سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں مذہب کا اہم کردار ہے ، لبرل اور سیکولر پس منظر کے باوجود عمران خان مذہب کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اپنے خطابات میں انہوں نے مغرب دنیا اور مغربی ماڈل پر تنقید کی، حالانکہ سابق برطانوی یہودی بیوی سے ان کے دو بیٹے ہیں۔ اپنی حلف برداری کی تقریب میں عمران نے دونوں بیٹوں کو شریک نہیں ہونے دیا، جس کی وجہ بیٹوں کی سکیورٹی سے متعلق ان کے خدشات تھے۔دراصل، عمران خان کا ابتدائی کیریئر مکمل طور پر مغربی تھا، وہ انگلش ٹیموں کی جانب سے کھیلتے رہے، آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔
تیسری دنیا کے بیشتر رہنمائوں کی طرح ، عمران خان کے حامی ان کا ایسا عکس پیش اور خبریں جاری کرتے ہیںجنہیں عوامی حلقے فوری قبول کر لیں ۔ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر انہوں نے پرتعیش لنچ یہ کہہ کر منسوخ کر دیا کہ سرکاری اخراجات میں کمی لانا چاہتے ہیں تاکہ بجٹ کا خسارہ کم ہو سکے؛ انہوں نے تمام مہنگی سرکاری گاڑیاں فروخت کرنے کا بھی وعدہ کیا۔اس قسم کا عکس یہ مثبت تاثر دیتا ہے کہ انتخابی وعدوں کے مطابق وہ چل رہے ہیں، ان کا موازنہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے امیج سے بھی کیا جاتا ہے ، جنہیں کرپشن کے الزام میں 10سال قید کی سزا سنائی گئی ۔
پاکستان ایک اہم ملک ہے، یہ انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ آبادی والا دوسرا مسلم ملک ہے،ایک نیوکلیئر طاقت اور دنیا کی آٹھویں بڑی فوج رکھتا ہے۔ علاقائی اعدادوشمار میں بھی پاکستان ایک انتہائی اہم ملک ہے، سعودی عرب اور ایران دونوں کے درمیان پاکستان پر غلبے کی سخت کشمکش رہی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان امریکا اور چین کے درمیان جاری مسابقت کا اہم ترین ہدف ہے۔اگرچہ عمران خان اور ایران کے مابین قریبی روابط کی باتیں دوبارہ سے شروع ہو گئی ہیں، جن کی بنیاد عمران خان کے ماضی کی کچھ بیانات ہیں، تاہم کسی سیاستدان کے بارے میں اس وقت تک اندازے قائم نہیں کیے جا سکتے ، جب تک وہ اقتدار میں نہ ہو۔دعوے کچھ بھی کیے جائیں، سعودی عرب اور خلیج کی دیگر ریاستوں کیساتھ پاکستان کے روابط ہمیشہ گہرے اور مضبوط رہے ہیں، چہروں کی تبدیلی سے تعلقات پر کبھی فرق نہیں پڑا۔ ماضی میں مرحوم وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بارے میں یہی بات کہی گئی تھی، مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ کبھی ایران کے ساتھ نہیں تھیں۔ سعودی عرب محض مسلم دنیا کا مرکز نہیں بلکہ بیرون ملک کام کرنےوالے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں مقیم ہے، علاوہ ازیں ،دونوں ملک اہم تجارتی پارٹنر بھی ہیں۔دونوں ملکوں کے امریکا کیساتھ خصوصی تعلقات ہیں؛ اسلئے ایران کیساتھ تعلقات پاکستان کی آپشن نہیں، کیونکہ عمران خان امریکی پابندیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
داخلی سطح کے مختلف معاملات جن کے زیر اثر نئے وزیراعظم اس قسم کے بیانات جاری کر رہے ہیں، اس کے برعکس مختلف علاقائی مسائل جن میں افغانستان کے علاوہ خود پاکستان میں ایرانی مداخلت شامل ہیں،ان کے حل میں سعودی عرب کے کردار کے باعث امید ہے کہ پاک سعودی تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ پاکستانی قیادت کے مابین سخت مسابقت کے باعث کئی رہنمائوں کو قبر یا جیل میں جانا پڑا۔ان صورتحال  کے باعث پاکستان کا عالمی تاثر خراب ہوا، ملک داخلی کشمکش میں الجھا رہا، اور معاشی مسائل بڑھتے گئے ۔ 
پاکستان کے سابق وزرائے اعظم کی نسبت عمران خان مختلف پس منظررکھتے ہیں؛ انہیں موقع ملا ہے کہ خلیج میں پاکستان کا تاثر مثبت بنائیں؛ ادائیگیوں کا توازن بہتر کریں؛ خلیجی اتحادیوں کے تعاون سے حقیقی معاشی اصلاحات پر عمل درآمد اور باہمی مفاد پر مبنی منصوبے شروع کریں۔
دراصل ، ہم سعودیوں کو ایران سے خاص تشویش نہیں۔ تیل کی پیداوار میں نمایاں ملک ہونے کے باوجود ایران کیلئے ممکن نہیں کہ عالمی سطح پر ایک بڑا سپلائر بن سکے۔ ویسے بھی داخلی مسائل ایران کے حکمرانوں کو الجھائے رکھتے ہیں ، مستقبل کے حالات بھی ان کیلئے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔عالمی حالات جس طرح سے بدل رہے ہیں، پاکستان کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہے، جبکہ پاکستان علاقائی مسائل میں پہلے سے ایک اہم فریق ہے اور مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کا کردار مزیدبڑھے گا۔ لیکن اگر پاکستان نے یہ کردار ادا نہ کیا تب بھی مخالف فریق کبھی نہیں بنے گا۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ڈیلی عرب نیوز)