24 ستمبر 2018
تازہ ترین

پاکستان۔ جمہوری کلچر کی تلاش میں پاکستان۔ جمہوری کلچر کی تلاش میں

پاکستانی معاشرہ جس تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اس کا حصہ ہوتے ہوئے ہم کماحقہ اس کا ادراک نہیں کر پا رہے۔ تاہم اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ ہمارا معاشرہ جس طرح کی بھی سماجی، معاشرتی اور دوسری تبدیلیوں سے گزرے، جمہوری قدروں اور جمہوری مزاج پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مثالی جمہوری معاشرہ وہی ہو گا جہاں اس معاشرے کا ہر فرد اپنے اوپر اعتماد کی قوت سے سرفراز ہو گا، وہ کسی بھی شخصیت کو بت بنا کر اپنا حال اور مستقبل اس سے اس انداز سے وابستہ نہیں کرے گا کہ اس کی اپنی شخصیت اور قوت عمل معطل ہو کر رہ جائے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سر ونسٹن چرچل برطانیہ کا وزیر اعظم بنا۔ چرچل نے ایک ایسے نازک مرحلے پر برطانیہ کی زمام اقتدار سنبھالی، جب ملک ہی بحرانوں کا شکار نہ تھا بلکہ جرمنی سارا یورپ فتح کر چکا تھا۔ اب تک روس اور امریکا اس جنگ سے باہر تھے۔ جرمن طیارے ہر رات لندن پر آگ برسا رہے تھے۔ آزمائش کے اس دور میں چرچل نے اپنی قوم کر بحرانوں سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔ مئی 1945ء میں اتحادیوں کو جرمنی پر فتح حاصل ہوئی۔ مگر جب اس سال انتخابات ہوئے تو چرچل کو شکست ہوئی کیونکہ برطانوی عوام نے صرف میدان جنگ میں کامیابی حاصل کرنے پر اپنا سارا مستقبل ایک ہی لیڈر سے وابستہ نہیں کر لیا تھا۔ بدلے ہوئے حالات میں انہیں نئی قیادت کی ضرورت تھی جو نئے وژن کے ساتھ ملک کی تعمیر نو کر سکے، سو ایک زندہ قوم ہوتے ہوئے انہوں نے انسانی تاریخ کی بدترین جنگ کے فاتح کو ووٹ سے بھی فتح مند کرنے سے انکار کر دیا اور اقتدار کا حق اس لیڈر کو دیا جو اب بدلے ہوئے حالات میں ان کے مسائل حل کر سکے۔
پاکستان میں جب 1967 میں اس وقت کے صدر مملکت عارضہ قلب کا شکار ہو کر بیمار ہوئے تو زمام اقتدار کسی دوسری شخصیت کو سپرد کرنے کے بجائے کاروبار مملکت کم بیش تین ہفتوں تک معطل رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سرکاری مشینری اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے بجائے سارا وقت نئے حکمرانوں کے بارے میں اندازے لگانے میں صرف کرنے لگی۔ فوج کے سربراہ نے جب یہ ماحول دیکھا تو صدر مملکت کو تمام ملاقاتیوں سے دور کر دیا اس طرح وزرا، سیاسی رہنماوں اور سرکاری افسران کا صدر مملکت سے رابطہ تقریباً معدوم ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان حالات میں اقتدار آئینی طور پر دستور میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کسی ذمہ دار کے سپرد کرنے کے بجائے فوج کے سربراہ کو سونپا گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ دو مثالیں اس لیے دی گئیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو زندہ اور خود انحصار قوم بنانا ہے تو انہیں فرد واحد کی قید کے تصور سے آزاد کرنا ہو گا تا کہ وہ بار بار کسی بڑی مقتدر شخصیت کے ’بے وقت‘ اٹھ جانے سے بحرانوں کا شکار نہ ہوتی رہے۔ یہ سب کچھ ملک میں حقیقی جمہوری کلچر کو فروغ دیے بغیر ممکن نہیں۔
پاکستانی معاشرہ جمہوری کلچر سے کیوں محروم ہے؟ اس سوال کا شاید واحد جواب ’لیڈروں کی منافقت‘ ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں جہاں آج بھی قوم کے لیے تحریک و جذبے کا سب سے مؤثر حوالہ اسلام ہی ہے، اسلام کی بات کرنے والے لیڈروں کی زندگیاں اسلام سے کوسوں دور ہیں۔ اسلام کی جمہوری قدروں کی بات کرنے اور اسلام کو ہی جمہوریت کا نقطہ آغاز بتانے والوں کی اپنی جماعتیں موروثیت کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔ جمہوریت کا تو اصول ہی ’شاورھم فی الامر‘ ہے یعنی اجتماعی دانش کو مشاورتی منصب سے کبھی معزول نہ کرنا۔ جس معاشرے میں یہ اصول عملاً کارفرما نہ ہو وہ معاشرہ نہ تو جمہوری ہے نہ ہی اسلامی۔ جمہوری معاشرے میں ایسا اہتمام کیا جاتا ہے کہ معاشرے کی اجتماعی دانش اور علمی و فکری اور عملی استعداد سے اس طرح فائدہ اٹھایا جائے کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ ترقی ممکن ہو سکے۔ بحث و مباحثہ، مشاورت اور عوامی رائے کی توقیر کو یقینی بنانے کے لیے ادارے، مؤثر افراد اور قوانین اپنا کردار ادا کرتے ہیں، وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ 
جب کہ آمرانہ اور مطلق العنان معاشرے میں ترقی اور زوال ایک ہی فرد سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس فرد کی اہلیت، استعداد اور فیصلوں کا انداز ہی اس معاشرے کے مقدر کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب معاشرہ جمہوری اقدار اور فرد کی اہمیت سے دور ہوتا ہے تو فرد واحد کی غلطی، یا تعطل پورے معاشرے کو تعطل کا شکار کر دیتا ہے۔ موقع پرست اور مفادات کے پجاری ایسے مواقع کو اپنے مقاصد کی تکمیل اور اقتدار و اختیار کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جہاں معاشرے کے افراد کی اجتماعی دانش بروئےکار ہو وہاں معاشرتی ڈھانچے طویل المدتی حکمت عملی پر استوار ہوتے ہیں۔ یہاں بحران قوم اور اداروں کو کمزور نہیں کرتے بلکہ بحران حل کیے جاتے ہیں۔ مگر ایسا جمہوری ماحول اور کلچر قائم کرنا افراد اور جماعتوں دونوں کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی وہ سیاسی جماعتیں جنہیں اس ملک کا مستقبل عزیز ہے اور وہ اس ملک میں مثبت اور دیرپا سیاسی تبدیلی لانے میں مخلص ہیں تو انہیں اپنی جماعتوں سے جمہوری کلچر کے قیام کا آغاز کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتیں جمہوری کلچر کو فروغ دینے کے لیے کم از کم دو کام کریں۔ جماعت کا ہر عہدہ جمہوری انداز سے اہل افراد کو دیا جائے اور سیاسی وابستگی کو اختیار کے ناجائز استعمال اور مفادات کے حصول کا ذریعہ بننے کے امکانات مسدود کیے جائیں۔ دوسرا یہ کہ سیاسی کارکنوں کی تربیت کی جائے۔ انہیں ان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی منصب کا شعور دیا جائے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی، اقتدار و اختیار کے درست استعمال، کرپشن کے خاتمے اور ملکی نظام کو نااہلوں سے پاک کرنے کے سارے عمل کی خشت اول سیاسی کارکن ہی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنے اس قومی کردار کا ادراک کر لیں تو ان سے بڑھ کر ملکی مفادات کا کوئی محافظ نہیں ہو سکتا۔ ذمہ دار، با شعور، مستعد اور جماعتی و ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینے والے کارکن کی موجودگی میں نہ کوئی سیاسی جماعت غلط فیصلہ کرنے کی جسارت کر سکتی ہے نہ ہی اقتدار میں آنے کے بعد اس جماعت کے مقتدر افراد اپنے سرکاری اختیارات کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت ایک طویل عمل ہے مگر اس طویل سفر کا جو مرحلہ بھی طے ہو جائے وہ قومی تعمیر نو میں ایک مثبت اضافہ ہی ہو گا۔ یہ قومی فریضہ سیاسی جماعتیں اور جمہوری عمل کے لیے مصروف عمل فافن اور پلڈاٹ جیسے ادارے انجام دے سکتے ہیں۔