16 نومبر 2018
تازہ ترین

پاکستان اہمیت اختیار کرنے لگا پاکستان اہمیت اختیار کرنے لگا

امریکا و سوویت یونین اور ان کے اتحادیوں کے مابین 1940 سے1990تک جاری رہنے والے تنازع، تناؤ اور مقابلے کو سردجنگ کہا جاتا ہے۔ اس دوران دونوں عالمی طاقتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایک دوسرے کی حریف رہیں، جن میں عسکری اتحاد، نظریات، نفسیات، جاسوسی، عسکری قوت، صنعت، تکنیکی ترقی، سپیس سائنس، دفاع پر کثیر اخراجات، روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور کئی دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ یہ امریکا اور روس کے درمیان براہ راست عسکری مداخلت کی جنگ نہ تھی، بلکہ یہ عسکری تیاری اور دنیا بھر میں اپنی حمایت کے حصول کے لیے سیاسی جنگ کی نصف صدی تھی۔ حالانکہ امریکا اور سوویت یونین دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف متحد تھے، لیکن بعداز جنگ تعمیر نو کے حوالے سے ان کے نظریات بالکل جدا تھے۔ 
چند دہائیوں میں سردجنگ یورپ اور دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی۔ امریکا نے اشتراکی نظریات کی روک تھام کے لیے خصوصاً مغربی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ممالک سے اتحاد قائم کیے۔ اس دوران کئی مرتبہ ایسے تنازعات پیدا ہوئے جو دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لے آئے، جن میں برلن ناکہ بندی، جنگ کوریا، جنگ ویتنام، کیوبا میزائل بحران اور سوویت افغان جنگ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے ادوار بھی آئے جس میں دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں کمی آئی۔ 1980 کی دہائی کے اواخر میں سردجنگ اس وقت اختتام پذیر ہونے لگی جب سوویت رہنما گورباچوف نے امریکی صدر ریگن سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اپنے ملک میں اصلاحاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس دوران روس مشرقی یورپ میں اپنی قوت کھوتا رہا اور بالآخر 1991 میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
اب ایک مرتبہ پھر سردجنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس، اس کی بیٹی اور روسی سفارت کاروں کے اخراج اور جواب میں روس کی اسی نوعیت کی کارروائی کے بعد مغرب اور روس کے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے۔ جس کے بعد ماسکو میں انٹرنیشنل سیکیورٹی کانفرنس میں روس نے برطانیہ، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سے ایک نئی سردجنگ کے متعلق خبردار کیا اور کہا کہ وہ اپنے دفاع میں تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔ بلاشبہ امریکا اور روس کے تعلقات خرابی کی طرف جارہے ہیں، حالات زیادہ کشیدہ اور سردجنگ کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں، عدم تعاون کے موضوعات کا دائرہ پھیل رہا ہے اور تعاون کے پہلو سکڑتے جارہے ہیں، جن کی بنیاد مشرق وسطیٰ، یورپ اور یوکرائن میں روس کا رویہ ہے، ایسا نہیں کہ اس کا رخ بدلا نہیں جاسکتا لیکن اس وقت تعاون سے زیادہ مقابلہ کی صورت ہے، دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تصادم کے اور بھی شعبے ہیں جو صورت حال کو بدترین بناسکتے ہیں، مثلاً ان میں سے ایک یوکرائن میں اس کی فوج کی مدد اور حمایت کرنے، دفاعی ہتھیار دینے اور یوکرائن کی حکومت کو سیاسی حمایت فراہم کرنے میں ٹرمپ اوباما حکومت کی نسبت زیادہ سخت ہے اور ماسکو کو یہ بات پسند نہیں، دوسرا شعبہ سفارتی ہے جس میں سفارت کاروں کا اخراج شامل ہے جبکہ مستقبل میں شام کا مسئلہ بھی ان تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے، ٹرمپ حکومت نے شام میں مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے اور شام سے واپسی کے بارے میں بھی غور شروع کردیا ہے جو یقیناً روسی مفادات میں بہتر ہوگا، لیکن ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں بتایا ہے کہ ایران کے خلاف سخت پالیسی کے ساتھ وہ شام سے واپسی کے متحمل نہیں ہوسکتے جو روس کا ایک کلیدی اتحادی ہے، چنانچہ اگر امریکا اپنی ایران پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا ہوگی اور ظاہر ہے اس سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔
فن لینڈ میں 16جولائی کو امریکا اور روس کے صدور میں اہم ملاقات ہوئی، ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے خود امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ روس کے پاس امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ امریکی سیاستدانوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پرتنقید کی۔ امریکی ایوان نمائندگان کے سربراہ پال رائن نے کہاکہ صدر ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ روس ہمارا حلیف ہے، ہماری اقدار کا دشمن ہے اور روس نے2016ء کے صدارتی الیکشن میں مداخلت کی تھی۔ آنجہانی امریکی سینیٹر جان میکن کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ کسی بھی امریکی صدر کی طرف سے شرمناک کارکردگی ہے، اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے کسی آمر کے سامنے خود کو اس حد تک نہیں گرایا۔ فن لینڈ میں دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات کے بعد امریکا میں چھڑنے والی نئی بحث نے بھی سرد جنگ کا تاثرپیدا کیا۔
روس اور امریکا کے مابین مفادات کے لیے تناؤ کا مرکز اس مرتبہ جنوبی ایشیا ہوگا۔ قابل ذکر امر یہ کہ جیسے جیسے اسلام آباد میں امریکا کا اثررسوخ ماند پڑرہا ہے، ویسے ویسے روس پاکستان سے سفارتی، عسکری اور اقتصادی تعلقات بڑھارہا ہے۔ سرد جنگ کے دشمن آج کے اتحادی بنتے جارہے ہیں۔ روس ایک ایسے وقت میں پاکستان کے قریب آرہا ہے، جب پاک امریکا تعلقات افغانستان کی صورتحال کے باعث شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ حالات 1980 کی دہائی سے بالکل مختلف ہیں، جب پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کی مدد کی تھی۔ اگرچہ ابھی ماسکو اسلام آباد تعاون کی ابتدا ہورہی ہے، لیکن پاکستان اس حوالے سے کافی پُرامید ہے۔ اب دونوں ممالک کو ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا، دونوں ممالک کے مابین موجودہ تعلقات افغانستان کی صورتحال پر مرکوز ہیں، روس ان افغان جنگجوؤں کے قریب آرہا ہے جو امریکی فوج سے جنگ کررہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ماسکو کا موقف ہے کہ وہ امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ 
پاکستان اور روس کے تعلقات پربھارت کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ اگر روس سیاسی سطح پر پاکستان کی حمایت شروع کردے گا تو بھارت کے لیے بڑا مسئلہ ہوگا۔ روس کی سفارتی مدد پاکستان کے لیے آکسیجن کا کام کررہی ہے، مغربی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کو عسکریت پسندوں کی حمایت جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ پاکستانی حکام بھی شاید اب سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان نے مغربی ممالک کی طرف جھکاؤ کرکے غلطی کی تھی۔ پاکستان چین، روس اور ترکی سے اپنے تعلقات بڑھانے کو اہمیت دے رہا ہے۔ 
v