17 نومبر 2018
تازہ ترین

پاکستانی سیاست کے شگوفے پاکستانی سیاست کے شگوفے

خبر ہے کہ سندھ کے نئے گورنر عمران اسماعیل کی تعلیمی قابلیت صرف انٹر پاس ہے جبکہ وہ 30 جامعات کے چانسلر ہوں گے۔ بحیثیت گورنر وہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی ایوارڈ کریں گے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ پاکستان میں گورنروں اور وزیروں کے لیے زیادہ پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں۔ راقم کو افسوس ہے کہ اس کی ایم اے (اردو)کی ڈگری پر جی ایم کھر کے دستخط ہیں جو میٹرک پاس یا فیل تھے، تاہم ذوالفقار علی بھٹو نے دسمبر 1971ء میں عنانِ حکومت سنبھال کر انہیں گورنر پنجاب کا منصب دے ڈالا تھا اور پھر گورنر ہائوس میں ان کے ’’کارہائے نمایاں‘‘ اخبارات کی سرخیاں بنتے رہے۔ وہ ایک روز سرکاری ہیلی کاپٹر میں لاہور سے خانیوال کے قریب ایک گائوں میں جا پہنچے تھے جہاں تہمینہ اپنی ایک سہیلی کے پاس مقیم تھیں۔ تہمینہ درانی کی عالمی شہرت یافتہ تصنیف ’’مینڈا سائیں‘‘ ایسے ہی گفتنی و نا گفتنی واقعات کا مرقع ہے۔ غلام مصطفیٰ کھر بالآخر پی آئی اے کے سابق چیئر مین ایس یو درانی کی صاحبزادی کو طلاق دلوا کر اس سے شادی رچانے میں کامیاب رہے۔ بعد میں بھٹو صاحب نے انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب بنوا دیا اور برطرفی پر وہ مسلم لیگ میں گھس کر پیر پگارا کے بیعت ہو گئے لیکن 1977ء میں بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو دوبارہ پی پی پی جوائن کر لی۔ وہ غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم کے ساتھ نیشنل پیپلز پارٹی میں بھی شامل رہے اور پھر تیسری بار پی پی پی میں شامل ہو گئے۔ بے نظیر دور میں انہیں مرکزی وزیر پانی و بجلی کا عہدہ ملا تھا۔ گزشتہ سال وہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو کہا کہ ’’مجھے عمران کی شکل میں دوسرا بھٹو مل گیا ہے۔‘‘ حالیہ الیکشن میں بوڑھے ’’شیرِ پنجاب‘‘ کو انتخابی شکست کا صدمہ جھیلنا پڑا۔ تہمینہ ان دنوں سابق خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حبا  لۂ عقد میں ہیں۔ پنجاب میں حالیہ سیاسی تبدیلی پر محترمہ نے ٹویٹ فرمایا کہ ’’پنجاب ایک محنتی اور اہل وزیر اعلیٰ سے محروم ہو گیا۔‘‘
 یادش بخیر سابق خود ساختہ چیف ایگزیکٹو پاکستان اور پھر صدرِ پاکستان، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ’’مجھ سے بڑی غلطی ہوئی تھی کہ میں نے این آر او کر لیا۔ مجھے این آر او نہیں دینا چاہیے تھا۔ ‘‘نہیں جناب، غلطی نہیں، آپ تو مہا غلطیوں (Blunders) کا مجسمہ ہیں۔ آپ نے بطور آرمی چیف اپنی برطرفی پر گھر جانے کے بجائے غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کیا، منتخب وزیر اعظم کو جیل میں ڈالا اور دو بار آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔ اس پر آپ کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چل رہا ہے اور آپ اپنے بقول جنرل راحیل شریف کی نوازش سے عدالتی بھگوڑے بن کر بیرونِ ملک اٹکھیلیاں کرتے پھرتے ہیں۔ آپ نے ملک کو جمہوریت کی پٹری سے اتارنے کا جرم تو کیا ہی تھا، اس سے کہیں سنگین ترجرم آپ کا نائن الیون کے بعد بُش مسلم کُش کے مطالبے پر سرینڈر تھا۔ آپ نے افغانستان پر مسلط کردہ امریکی صلیبی جنگ میں معاون بن کر جرمِ عظیم کیا اور وطنِ عزیز کو امریکی بد معاشوں کی چراگاہ بنا دیا حالانکہ پاکستان کوئی کیوبا یا صومالیہ نہیں تھا، دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت تھا۔ آپ اپنے استاد جنرل حمید گل کے بقول ’’بد معاشی پر اترے امریکیوں سے کہہ سکتے تھے کہ ہمارے ایٹمی میزائل نیو یارک یا واشنگٹن تو نہیں پہنچ سکتے لیکن ہمیں چھیڑا گیا تو ہم تل ابیب کا صفایا کردیں گے۔ ‘‘ اس انتباہ پر جنگی جنون میں مبتلا بُش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا اور حملہ آور ہونے سے پہلے سو بار سوچتا۔
پرویز مشرف صاحب! آپ نے امریکی ڈالروں کے لیے پاکستان سے کتنے ہی بیگناہ افراد پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیے۔ ان میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہے جن کو بد معاش امریکیوں نے 86 سال کی سزا سنا کر قید کر رکھا ہے۔ اس شرمناک جرم پر آپ کو ندامت ہے کہ نہیں۔ آپ غاصب آمر اور جمہوری دنیا میں اچھوت تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن بھارت کے پانچ روزہ دورے کے بعد آپ کی منت و زاری پر پانچ گھنٹے کے لیے اسلام آباد اس شرط پر آیا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ اس کے مصافحے کی تصویر شائع نہیں ہو گی، مذاکرات کی میزوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا، کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو گا اور امریکی صدر صرف پی ٹی وی پر پاکستانی قوم سے خطاب کریں گے۔ آپ نے یہ ذلت آمیز شرطیں قبول کر کے امریکی صدر کاا ستقبال کیا کیونکہ پاکستان اور عالمِ اسلام کے مفاد کے بجائے آپ کے پیشِ نظر صرف اور صرف امریکیوں سے تھپکی لینا تھا۔ اور صلیبی جنگجو بش نے تو آپ کو ایسی تھپکی دی کہ آپ نہال ہو کر پکار اٹھے ’’میں جب چاہوں فون اٹھا کر صدر بُش سے بات کر لیتا ہوں۔‘‘آپ بظاہر بہادر بن کر کہا کرتے تھے کہ’’ میں  ڈرتا ورتا کسی سے نہیں‘‘ اب آپ جان کے خوف میں اس قدر مبتلا ہیں کہ پاکستانی عدالت میں پیش ہونے کے لیے آرمی چیف کی سی سکیورٹی مانگتے ہیں۔ یہ کیسی بزدلی  ہے! 
پی پی پی کی قیادت کا عمران خان کے لیے نرم گوشہ کئی کہانیاں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ پی پی پی کے دوسرے درجے کے لیڈر ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ کے اجلاسوں میں شریک ہو کر ایک فیصلے پر صاد کرتے ہیں مگر آصف زرداری اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ وہ باپ بیٹا 25 جولائی کے بعد اپوزیشن کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اپوزیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے امیدوار خورشید شاہ اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے، چنانچہ مسلم لیگ ن نے خورشید شاہ کو ووٹ دیے لیکن جب شہباز شریف کی باری آئی تو پی پی پی صاف مکر گئی۔ تب پی پی پی کا یہ غیر اخلاقی مطالبہ سامنے آیا کہ مسلم لیگ ن شہباز شریف کے بجائے کسی اور کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنائے۔ زرداری کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ شہباز شریف زرداری کاپیٹ پھاڑ کر کرپشن کے پیسے نکالنے کے نعرے لگاتے رہے تھے۔
صدارتی انتخاب کا مرحلہ آیا تو پی پی پی نے اعتزاز احسن کا نام پیش کر دیا۔ اب کے مسلم لیگ ن نے مطالبہ کیا کہ پی پی پی اعتزاز احسن کے بجائے یوسف رضا گیلانی یا رضا ربانی کا نام پیش کرے۔ خواجہ آصف نے شہباز شریف سے صاف کہہ دیا کہ’’ میں آصف زرداری کو تو ووٹ دے سکتا ہوں مگر اعتزاز احسن کو نہیں دوں گا جس نے میری بہن کلثوم نواز کے بارے میں گھٹیا باتیں کی تھیں۔‘‘ لیکن آصف زرداری اعتزاز احسن کا نام ڈراپ کرنے کو تیار نہیں۔ یوں متحدہ اپوزیشن کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوٹ گئی ہے اور پی ٹی آئی کے لیے ’’ستے خیراں‘‘ ہیں۔
آخر تبدیلی تو آ گئی! یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ’’لاڈلے وزیر اعظم‘‘ نے نماز عید الاضحی میں شرکت نہیں کی۔ نماز جمعہ اور عیدین با جماعت کھلی جگہ یا جامع مسجد ہی میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ روایت رہی ہے کہ صدرِ مملکت ، گورنر، وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ عید کے بڑے اجتماعات میں شامل ہوتے ہیں جیسے فیصل مسجد اسلام آباد یا بادشاہی مسجد لاہور۔ لیکن 22 اگست کو ’’وزیر اعظم‘‘ عمران خان کے نماز عید ادا کرنے کی کوئی تصویر میڈیا پر جاری نہیں کی گئی ۔ اس پر وزیر اطلاعات فواد چودھری، جنہیں پاکستان کا گوئبلز بھی کہا جاتا ہے، یہ مضحکہ خیز بیان جاری کیا کہ ’’بطور مسلمان نماز کی ادائیگی ایک فریضہ ہے اور وزیر اعظم اس کی تشہیر نہیں چاہتے۔‘‘ سبحان اللہ! جب عمران خان کے جہاز سے اتر کر ننگے پائوں مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھنے کی تصویر بڑے اہتمام سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو جاری کی گئی تھی، اس وقت تشہیر سے بچنے کا خیال کیوں نہیں آیا تھا؟ پھر یہ لطیفہ بھی ہوا کہ عمران خان کے نماز ادا کرنے کی پرانی تصویر ایڈیٹ کر کے 22 اگست کی نماز عید الاضحی میں شرکت ظاہر کرنے کے لیے جاری کر دی گئی مگر انٹرنیٹ کے دور میں بھلا جعلسازی چھپ سکتی ہے؟ تصویری چوری اور عوامی مینڈیٹ کی چوری سے مجموعی طور پر جو تاثر ابھرتا ہے وہ خوشگوار نہیں۔