25 ستمبر 2018
تازہ ترین

پارلیمنٹ کی واضح شکست پارلیمنٹ کی واضح شکست

یوں تو سب کچھ ماضی کے کوڑے دان میں پھینکنے کے عادی ہیں ہم ہر حال میں مست رہتے ہیں مستقبل کی طرف بھی دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اُس کے لئے حکمت عملی بناتے ہیں، کوئی یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں ہو گا کہ پاناما لیکس کا معاملہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان پارلیمنٹ کے بجائے عدالت لے کر کیوں گئے تھے۔ وہ خود تو پارلیمنٹ میں بہت کم جاتے تھے۔ کیونکہ اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ صاف الیکشن کے ذریعے نہیں بنی اور اس میں بدعنوان اور کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ مستعفی ہوئے اور نہ ہی عوام کے پیسوں سے تنخواہ وصول کرنا چھوڑی۔۔۔
اپوزیشن والے کہتے رہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لائیں تاکہ نئی قانون  سازی سے آئندہ کیلئے کرپشن کی راہیں روکی جائیں مگر نہیں۔۔۔ حکم حاکم مرگ مفاجات۔۔۔ پارلیمنٹ کی نہیں عدلیہ کی بالادستی درکار تھی اور پھر جاوید ہاشمی کے بقول عدلیہ کے بالا دست ہونے کی یقین دہانی کرائی جا چکی تھی۔ اس لئے اتنی بار تو پارلیمنٹ تنخواہ کو جائز کرنے کو نہیں گئے۔ جتنی بار مقدمہ کی سماعت کے دوران سفید پوشی پر کالا کوٹ چڑھا کر حاضر ہوئے۔ اور پھر عدالت سے باہر عوام کی خواہشوں کے ترجمان بن کر میڈیا کو اپنے ارشادات عالیہ سے نوازتے رہے۔ اب اگر عوام کی خواہشوں کے مطابق فیصلہ آ گیا ہے میاں نواز شریف کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا گیا ہے تو وہ یوم تشکر نہ منائیں تو اور کیا کریں اور اس امر پر خوشی کا اظہار نہ کریں کہ علامہ اقبالؒ کے پاکستان بننے کی ابتدا ہو گئی ہے۔ یہ الگ بات کہ پہلے وہ جناحؒ کے پاکستان کی بات کرتے تھے۔ شاید انہیں کسی نے قائد اعظم کی گیارہ اگست والی تقریر انہیں یاد دلا دی تھی۔۔۔ جس میں ضیاء الحق کا صادق اور امین نہیں بلکہ ہر شہری پاکستانی تھا۔۔ اُس میں ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان سب پاکستانی تھے۔۔۔
جو کچھ ہوا اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی اگر اُس پر نصاب حاوی نہ ہوا تاریخ کے فیصلے میں عدالت کا فیصلہ چھپایا نہیں جا سکتا یومِ تشکر میں جو خراج تحسین پیش ہوا ہے۔ وہ عدلیہ کو تحفظ اور اُس کے فیصلے میں آئینی اور قانونی سقم چھپانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے مگر آخری فیصلہ تو بہرحال تاریخ کے صفحات پر ہو گا۔ یہ کوئی تقابل نہیں لیکن بات پھر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف فیصلے کی ہو تو تاریخ نے فیصلے کو نہیں ذوالفقار علی بھٹو کو زندہ رکھا ہے۔ ہم شریف خاندان کی صداقت اور امانت کے بہی خواہ ہیں اور نہ ہی محافظ پہلے تھے نہ اب ہیں، ہم تو آئین اور قانون کی اُس بالادستی کا نوحہ لکھ رہے ہیں جس کے لئے حلف برداری ہوتی ہے لیکن وہ بالادستی سیاسی اور غیر سیاسی مفادات کی زد میں آ کر انصاف پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیتی ہے۔
قارئین کو اپنے حافظے اور یادداشتوں پر زور دیتے ہوئے یاد کرنا چاہئے کہ معاملہ عدالت میں تھا ابھی کوئی فیصلہ بھی نہیں آیا تھا اور استعفا استعفا کی صدائیں گونجنے لگی تھیں۔ پہلے یہ بات مکمل استعفا کی تھی پھر اس کے بھی اجتماعی اور انفرادی کئی روپ سامنے آئے۔۔۔ پیپلز پارٹی بھی تمام تر جمہوریت پرستی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف رویے اور ساکھ کے باجود میدان میں آ کر استعفا استعفا کرنے لگی تھی۔۔۔ جو اس بات کی بظاہر دلیل تھی کہ اُسے پس پردہ فیصلے کا علم ہو گیا تھا وہ اداروں کے ساتھ چلنے کا عندیہ دے کر موقع پرستی کی وہی سیاست کر رہی تھی۔۔۔ جو تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور اس طرح کی دیگر جماعتیں کر رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کو اس تناظر میں کیا یقین دہانی حاصل ہوئی تھی ہمیں اس کا تو کوئی اندازہ نہیں۔۔۔ اس کا صحیح اندازہ اگر اتنخابات کا موقع آیا تو اُس کی پنجاب میں واپسی سے لگایا جائے گا۔ فی الحال تو یہ خیال اور خواہش مسلط نظر آتی ہے کہ کراچی کی طرح پنجاب کو آزاد کرانا لازم ٹھہرا ہے۔ اور اس کیلئے مسلم لیگ سے محب وطن تلاش کئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بہرحال۔۔۔ یہ تو مستقبل کی نقشہ بندی ہے فی الحال یہ امر بھی واضح ہے کہ پہلے دھرنے میں نواز حکومت کو بچانے والی پیپلز پارٹی کی فرینڈلی اپوزیشن کو توڑا گیا اس میں مستقبل کے وزارت عظمیٰ اور صدارت کی خواہشوں کے اسیر چودھری نے اہم کردار ادا کیا۔۔۔ اور پھر وہ فیصلے کی آمد سے کچھ دن پہلے ناراض بھی ہوئے کہ۔۔۔ نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے علیحدہ ہونے کو تیار نہیں تھے وہ لڑنے کا عندیہ دے رہے تھے۔ یہ سوال بھی ہے کہ نواز شریف استعفا دے کر بچ سکتے تھے؟ واقفانِ حال تو کہتے ہیں مخصوص اداروں اور افراد کی جے آئی ٹی میں شمولیت اور شریف خاندان کی ذلت آمیز حاضری سے بہت کچھ واضح ہو گیا تھا۔۔۔ باقی جو کچھ بھی تھا وہ محض فلم کو کلائمکس تک لے جانا تھا،  استعفا آ بھی جاتا تو کہانی کو انجام تک تو پہنچنا تھا۔۔۔ لیکن افسوس کہ سارے بوجھ عدلیہ پر آ گئے اور وہ تمام تر کوشش کے باوجود خود کو اس فیصلے سے نہیں بچا سکی جس پر چند سیاستدانوں کے علاوہ اکثر ماہرین قانون اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور اب میڈیا اُسے یوم تشکر میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ فیصلے کے بنیادی نکتے صادق اور امین پر تبصرہ کرتے ہوئے محترمہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ۔۔۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ 62/63 ججوں پر لاگو کیا جائے تو کوئی جج عدلیہ میں رہنے کے قابل ہو گا۔۔۔ ویسے ایک فاضل جج اس لحاظ سے بھی شہرت حاصل کر چکے ہیں کہ اُن کا نام بھی پاناما لیکس کے انکشافات میں تھا۔۔۔ عاصمہ جہانگیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ۔۔۔ سیاستدانوں کو سمجھ آ جانی چاہئے کہ اُن کے سیاسی رول کو کم کرنے کے لئے کیا کھیل کھیلا گیا ہے۔ اس پر بھی ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر وہ سمجھدار ہوتے تو ماضی کی تاریخ نرسریوں کی پیداوار بنتے اور نہ ہی آج پاناما کا معاملہ پارلیمنٹ کے بجائے عدلیہ میں لے کر جاتے اور نہ ہی بچی کھچی سیاست کرتے اور نہ ہی پارلیمنٹ پر دو دھاری تلوار چلتی
اب پچھتائے کیا ہوت
جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت
اب تو معاملہ جمہوریت کا ہو یا پارلیمنٹ کا نواز شریف کے ہاتھ میں ہے دیکھئے وہ سرمایہ دار کی طرح پھر کوئی سمجھوتا کرتے ہیں یا پھر تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی راہ پر چلتے ہیں۔۔۔ کچھ بھی ہو سیاستدانوں کا امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔۔۔